Main Icon

باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1833

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ، فَأَهْدَى الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عطاء بن يسار مرسلا قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة: لغاز في سبيل الله، أو لعامل عليها، أو لغارم، أو لرجل اشتراها بماله، أو لرجل كان له جار مسكين فتصدق على المسكين، فأهدى المسكين للغني". رواه مالك وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے مرسلًا ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچ کے سواء کسی غنی کو صدقہ حلال نہیں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ۲؎ اور صدقہ پر عامل ۳؎ اور مقروض ۴؎ یا اسے جو اپنے مال سے صدقہ خریدے یا اسے جس کا کوئی پڑوسی مسکین تھا تو مسکین پر صدقہ کیا گیا پھر مسکین نے اس غنی کو ہدیہ دیا۵؎(مالک،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ آپ جلیل القدر تابعی ہیں،حضرت ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں،بڑے عالم و عابد تھے،چونکہ اس اسناد میں صحابی کا ذکر نہیں اس لیے یہ حدیث مرسل ہے اور احناف کے ہاں حدیث مرسل حجت ہے۔
۲؎ امام شافعی کے ہاں صحابہ مالدار زکوۃ لے سکتا ہے،یہ حدیث ان کی دلیل ہے مگر ہمارے ہاں غازی مسافر جس کے پاس مال ختم ہوچکا وہ سفر کی بنا پر لے سکتا ہے نہ کہ محض جہاد کی بنا پر،ہمارے ہاں وہ مسافر غازی ہی مراد ہے اور امام شافعی کے ہاں حدیث مرسل حجت نہیں اس لیے وہ اس حدیث سے دلیل نہیں لےسکتے، نیز دیگر احادیث میں صراحۃً فرمایا گیا کہ مالداروں سے زکوۃ لو اور فقراء کو دو،وہاں غازی کا استثناء نہیں یا ارشاد فرمایا کہ صدقہ غنی کو حلال نہیں۔فتح القدیر ومرقات نےفرمایا یہ حدیث ضعیف ہے۔
۳؎ عامل سے مراد وصولی زکوۃ کا کام کرنے والاہے جیسے عاشر،حاسب،کاتب وغیرہ،یہ سب اپنی اجرت زکوۃ سے لیں گے ان کے لیے یہ اجرت ہوگی نہ کہ زکوۃ مگر α الله اکبر
بنی ہاشم عامل ہوکر بھی زکوۃ سے اجرت نہیں لے سکتے۔
۴؎ حق یہ ہے کہ مقروض سے وہ مراد ہے جو مالک نصاب تو ہے مگراس کا نصاب قرض میں ڈوبا ہوا ہے مثلًا سو روپیہ کا مالک ہے مگر نوے روپے کا مقروض ہے اسے غنی میں داخل فرمانا ظاہری حال کی بنا پر ہے ورنہ درحقیقت وہ فقیر ہے۔
۵؎ یہ جواز اس بنا پر ہے کہ ملک بدل جانے سے حکم بدل جاتا ہے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گوشت کھایا جو بریرہ کو صدقہ دیا گیا تھا لہذا جب مسکین سے زکوۃ خریدلی یا اس نے ہدیۃً اسے کچھ دے دی تو اب یہ زکوۃ نہ رہی،اس پر بہت سے شرعی احکام مرتب ہوں گے۔مگر خیال رہے کہ اس خرید و فروخت میں دھوکہ نہ ہو،رب تعالٰی نیت جانتا ہے لہذا صاحب نصاب فقیر سے اپنی زکوۃ دھوکے سے سستی نہ خریدے۔ حضرت ابن عمر کو جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے صدقہ کا گھوڑا فقیر سے خریدنے کو منع فرمادیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ فقیر حضرت ابن عمر کو اس لیے سستا دیتا تھا کہ انہیں کا صدقہ ہے لہذا یہ حدیث اس واقعہ کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1833