Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5698

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- إِذْ جَاءَهُ قومٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: "اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ! قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ: "اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ! إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمِ". قَالُوا: قَبِلْنَا، جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ، وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ مَا كَانَ؛ قَالَ: "كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ"، ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ! أَدْرِكْ ناقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، وَأَيْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن عمران بن حصين قال: إني كنت عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذ جاءه قوم من بني تميم فقال: "اقبلوا البشرى يا بني تميم! قالوا: بشرتنا فأعطنا، فدخل ناس من أهل اليمن فقال: "اقبلوا البشرى يا أهل اليمن! إذ لم يقبلها بنو تميم". قالوا: قبلنا، جئناك لنتفقه في الدين، ولنسألك عن أول هذا الأمر ما كان؛ قال: "كان الله ولم يكن شيء قبله، وكان عرشه على الماء، ثم خلق السماوات والأرض، وكتب في الذكر كل شيء"، ثم أتاني رجل فقال: يا عمران! أدرك ناقتك فقد ذهبت، فانطلقت أطلبها، وأيم الله لوددت أنها قد ذهبت ولم أقم. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس تھا کہ ناگاہ بنی تمیم کی ایک قوم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی حضور نے فرمایا بشارت قبول کرو اے بنی تمیم۲؎وہ بولے آپ نے ہمیں بشارتیں تو دے دیں ہم کو تو کچھ دیجئے۳؎پھر یمن کے کچھ لوگ آئے حضور نے فرمایا جب بنو تمیم بشارت قبول نہیں کرتے تو تم بشارت قبول کرو۴؎وہ بولے ہم قبول کرتے ہیں ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ دینی علم سیکھیں اور آپ سے اس چیز کی ابتداء پوچھیں کہ کیا چیز تھی ۵؎فرمایا الله تھا اور اس سے پہلے کچھ نہ تھا اس کا عرش پانی پر تھا ۶؎پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھی۷؎پھر میرے پاس ایک شخص آیا بولا اے عمران اپنی اونٹنی پکڑو وہ بھاگ گئی۸؎تو میں اسے ڈھونڈنے چلا گیا اور الله کی قسم میری تمنا ہے کہ وہ چلی گئی ہوتی اور میں وہاں سے نہ اٹھتا ۹؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ وہ صحابی ہیں جو تیس سال بیماری سے بستر پر رہے،فرشتوں سے ملاقات کرتے تھے فرشتے انہیں سلام کرتے تھے، آپ کے بقیہ حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں۔۲؎یعنی اے بنی تمیم تم مجھ سے عقائد و اعمال سیکھو اور اس پر آئندہ جزاء خیر کی بشارت لو لہذا حدیث واضح ہے۔۳؎یعنی عقائد و اعمال کی تعلیم اور اس پر بشارتیں تو آپ سناتے بتاتے ہی رہتے ہیں ہم کو تو مال دیجئے۔افسوس کہ ان لوگوں کو الله نے مانگ لینے کا وقت دیا مگر انہوں نے کچھ فائدہ نہ اٹھایا،نصیب اپنا اپنا تقدیر اپنی اپنی اس وقت دریائے رحمت جوش میں تھا۔۴؎یعنی اس وقت سے تم فائدہ اٹھالو ہم سے کچھ حاصل کرلو،اچھے حال کا اچھا مآل(انجام)ہوتا ہے۔۵؎یعنی الله تعالٰی نے جب اپنی مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو پہلے کیا چیز پیدا فرمائی پھر ترتیب خلق کیا رہی۔سبحان الله!کیسا پاکیزہ اور محققانہ سوال ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ عقیدہ رکھتے تھے کہ حضور اول آخر سب کچھ جانتے ہیں سب کچھ آپ کی نظر میں ہے۔۶؎اس پانی سے مراد یہ سمندر کا پانی نہیں بلکہ عرش اعظم کے نیچے قدرتی پانی ہے جو ہوا پر ہے اور ہوا الله تعالٰی کی قدرت پر۔اس فرمان کا یہ مطلب نہیں کہ عرش پانی پر رکھا ہوا تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس پانی اور عرش کے درمیان کوئی آڑ نہ تھی جیسے ہم کہیں کہ آسمان زمین پر ہے یعنی زمین کے اوپر ہے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ عرش اور پانی سب سے پہلے پیدا ہوئے،دریا کے پانی میں جنبش پیدا ہوئی جس سے جھاگ پیدا ہوئے وہ جھاگ عرصہ تک وہاں محفوظ رہے جہاں خانہ کعبہ ہے،اسی جھاگ کو پھیلادیا گیا وہ زمین ہے،سب سے پہلا پہاڑ بوقبیس ہے جو پیدا کیا گیا۔(مرقات و اشعہ)پانی کے بخار سے آسمان بنا۔۷؎ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے غالب یہ ہے کہ لوح و قلم اور یہ تحریر عرش سے پہلے ہوئے۔(اشعہ)۸؎یعنی سلسلہ کلام جاری تھا کہ مجھ سے کسی نے یہ کہا میں بقیہ کلام سن نہ سکا۔۹؎یعنی یہ مضمون ایسا پیارا تھا کہ مجھے اس کے پورا نہ سننے پر افسوس ہے،اونٹنی بھاگ جاتی مجھے نہ ملتی مگر میں پورا فرمان عالی سن لیتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5698