Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5725

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيْن كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: "كَانَ فِي عَمَاءٍ، مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ، وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: الْعَمَاءُ: أَيْ لَيْسَ مَعَه شَيْءٌ.

عن أبي رزين قال: قلت: يا رسول الله! أين كان ربنا قبل أن يخلق خلقه؟ قال: "كان في عماء، ما تحته هواء، وما فوقه هواء، وخلق عرشه على الماء". رواه الترمذي وقال: قال يزيد بن هارون: العماء: أي ليس معه شيء.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن رزین سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله اپنی مخلوق پیدا فرمانے سے پہلے ہمارا رب کہاں تھا فرمایا ہلکے بادل میں تھا ۲؎نہ اس کے نیچے ہوائیں نہ اس کے اوپر ہوا اور اپنا عرش پانی پر پیدا فرمایا۳؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یزید ابن ہارون نے کہا ہلکے بادل سے مراد ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام یقیط ابن عامر ابن صبرہ ہے،طائف کے رہنے والے ہیں،مشہور صحابی۔۲؎عماءکے لفظی معنی ہیں ہلکا بادل جس سے سورج نظر نہ آئے مگر اس روشنی میں کمی نہ ہو۔یہاں اس سے مراد غیب ہے یعنی رب تعالٰی غیب الغیوب تھا جس کے صفات ظاہر تھے،حدیث قدسی ہےکنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف۔(مرقات)حضرات صوفیاء کی اصطلاح میں عماء ذات واحدہ ہے جسے کوئی نہ جانے سوائے اس کے۔۳؎دونوں جگہمانافیہ ہے یعنی رب تعالٰی تھا اور کچھ نہ تھا حتی کہ ہوا بھی نہ تھی نہ فوقیت تھی نہ تحتیت کیونکہ اوپر نیچے ہونا جہت اور سمت سے ہوتا ہے اس وقت سمت بھی نہ تھی۔۴؎یعنی پھر الله تعالٰی نے عرش اعظم پیدا فرمایا جو پانی کے اوپر اس طرح تھا جیسے زمین کے اوپر آسمان یعنی اسے گھیرے ہوئے۔اس کی شرح ہم ابھی کرچکے ہیں یہ فرمان ہماری اس شرح کی تائید کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5725