Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5716

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَى -فَنَعَتَهُ-: فَإِذَا رَجُلٌ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الشَّعْرِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَلَقِيتُ عِيسَى رَبْعَةً أَحْمَرَ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ -يَعْنِي الْحَمَّامَ-، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ" قَالَ: "فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ" أَحَدُهُمَا لَبَنٌ وَالآخَرُ فِيهِ خَمْرٌ. فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ. فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ لِي: هُدِيتَ الْفِطْرَةَ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ليلة أسري بي لقيت موسى -فنعته-: فإذا رجل مضطرب رجل الشعر كأنه من رجال شنوءة، ولقيت عيسى ربعة أحمر كأنما خرج من ديماس -يعني الحمام-، ورأيت إبراهيم وأنا أشبه ولده به" قال: "فأتيت بإناءين" أحدهما لبن والآخر فيه خمر. فقيل لي: خذ أيهما شئت. فأخذت اللبن فشربته، فقيل لي: هديت الفطرة، أما إنك لو أخذت الخمر غوت أمتك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ملا میں معراج کی رات حضرت موسیٰ سے۱∞؎حضور نے ان کا حلیہ بیان کیا کہ وہ درمیانہ قد آدمی ہیں سیدھے بال والے ۲؎گویا کہ وہ شنوء ہ کے آدمیوں میں سے ہیں اور میں حضرت عیسی علیہ السلام سے ملا درمیانہ قد سرخ رنگ گویا حمام سے نکلے ہیں اور میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا ان کی اولاد میں اس سے زیادہ مشابہ میں ہوں،فرماتے ہیں میرے پاس دو برتن لائے گئے جن میں سے ایک میں دودھ تھا دوسرے میں شراب تھی۳؎مجھ سے کہا گیا ان میں سے جو آپ چاہیں لیں۴؎تو میں نے دودھ اختیار کیا اسے پی لیا تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو فطرت کی ہدایت دی گئی۵؎اگر شراب اختیار کرتے تو آپ کی اُمت گمراہ ہوجاتی۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎معراج میں حضور صلی الله علیہ و سلم نے موسیٰ علیہ السلام سے تین بار ملاقات کی انہیں قبر میں نماز پڑھتے دیکھا،پھر بیت المقدس میں انہیں نماز پڑھائی،پھر عرش پر جاتے ہوئے چھٹے آسمان پر پھر عرش سے واپسی میں نمازیں کم کرانے کے لیے آٹھ بار اس لیے خصوصیت سے موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کا ذکر اہتمام سے کیا گیا ورنہ سارے نبیوں سے اس شب ملاقات ہوئی ہے،یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔۲؎ابھی گزشتہ حدیث میںجعدآیا تھا وہاںجعدکے معنی ہیں پہلوانوں کا سا بھرا ہوا جسم لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں اور اگر وہاںجعدکے معنی ہوں گھونگر والے بال تو اس فرمان عالی کا مطلب یہ ہوگا کہ سارے بال سیدھے کناروں پر قدرے خم دار جسے کہتے ہیں چھلے والے بال لہذا دونوں حدیثیں درست ہیں۔۳؎خیال رہے کہفیہ خمرفرماکر بتایا گیا کہ شراب اس برتن میں تھوڑی سی تھی اوراحدھما لبنفرماکر بتایا کہ دودھ برتن میں بہت زیادہ تھا گویا خود برتن دودھ بن گیا تھا،دنیا کی ہدایت اور ایمان و اعمال دودھ کی شکل میں پیش ہوئے اور یہاں کی بدعقیدگی بدعملیاں شراب کی صورت میں دکھائی گئیں،یہاں کے اعمال وہاں اجسام ہیں۔۴؎یہ اختیار دینا فرشتوں کو دکھانے کے لیے تھا کہ الله تعالٰی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کو حضور کی برکت سے محفوظ رکھے گا۔(ازمرقات)۵؎چونکہ بچہ پیدا ہوکر پہلی غذا دودھ حاصل کرتا ہے اس لیے فطرت دودھ کی شکل میں دکھائی گئی اور شراب انسان کی شکل بگاڑ کر صدہا بدعملیاں بدعقیدگیاں اس سے کرا دیتی ہے اس لیے گمراہی سرکشی شراب کی شکل میں دکھائی گئی جیسے خواب میں ہم رحمتوں اور آفتوں کو مختلف شکلوں میں دیکھ لیتے ہیں۔شاہ مصر نے قحط سالیوں کو خشک بالیوں دبلی گایوں کی شکل میں دیکھا اسی طرح حضرات انبیاءکرام آئندہ واقعات کو مختلف شکلوں میں ملاحظہ کرتے ہیں۔۶؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نبی کے عمل کا امت پر اثر پڑتا ہے کہ شراب آپ اختیار فرماتے اور گمراہ ہوتی امت۔دوسرے یہ کہ تاقیامتان شاءاللهسارے مسلمان کبھی گمراہ نہ ہوں گے،ان میں ایک جماعت ضرور حق پر رہے گی اور وہ ہی جماعت سب پر غالب رہے گی تعداد اس کی زیادہ ہوگی،حضور فرماتے ہیںاتبعوا السواد الاعظمبڑے گروہ ہی کی پیروی کرو۔الحمدﷲاہلِ سنت والجماعت اب ہمیشہ سب پر غالب ہیں اور اسی۸۰ بلکہ نوے۹۰ فیصد یہ ہی ہیں۔تیسرے یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم رب تعالٰی کیطرف سے مؤید ہیں کوئی کام غلط آپ تک پہنچتا ہی نہیں،دیکھو حضور انور نے الله کی توفیق سے دودھ ہی اختیار کیا،جو کوئی خواب میں دودھ پئےان شاءاﷲوہ ہدایت پر رہے گا اور اسے خیر کی توفیق ملے گی اس تعبیر کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5716