Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5700

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي، فَهُوَ مَكْتُوبٌ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن الله تعالى كتب كتابا قبل أن يخلق الخلق: إن رحمتي سبقت غضبي، فهو مكتوب عنده فوق العرش". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ الله تعالٰی نے مخلوق کی پیدائش سے پہلے ایک تحریر لکھی ۱∞؎کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۲؎تو وہ اس کے پاس عرش کے اوپر لکھی ہوئی ہے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ تحریر یا تو لوح محفوظ میں ہے دوسری تحریروں کے ساتھ یا تحریر علیحدہ ہے جورب تعالٰی کے پاس محفوظ ہے،ہر وقت رب کی نظر میں ہے۔خیال رہے کہ اس قسم کی تحریریں تاکید اور اہمیت ظاہر فرمانے اور اپنے خاص بندوں کو دکھانے کے لیے ہوتی ہیں،اس لیے نہیں کہ رب تعالٰی کو اپنے بھول جانے کا خطرہ تھا لہذا لکھ لیانعوذ بالله۔معلوم ہوا ہے کہ وہ تحریر حضور صلی الله علیہ و سلم نے دیکھی ہے،دیکھ کر پڑھ کر ہم کو سنارہے ہیں۔شعر
قدرت کی تحریریں جانے امی اور تقدیریں جانے بخشش کی تدبیریں جانے وہ ہے رحمت والا
جن کا نام ہے محمد دو جگ ہے ان سے اجیالا
۲
؎اس فرمان عالی کے چند معنی ہیں: ایک یہ کہ میری رحمت زیادہ ہے میرا عذاب و غضب کم کہ رحمت ہمیشہ رہتی ہے غضب کبھی کبھی۔دوسرے یہ کہ میری رحمت عام ہے جس سے ہر کافر و مؤمن و جن و انس حصہ لے رہا ہے،میرا غضب خاص کافر انسانوں اور جنات پر۔تیسرے یہ کہ رحمت ملنے کے اسباب بہت ہی ہیں ایمان لانا،تو بہ کرنا،عبادت کرنا،رونا،ڈرنا،امید رکھنا،بندوں پر رحم کرنا مگر غضب کا سبب صرف ایک ہے یعنی نافرمانی کرنا اگرچہ نافرمانی کی نوعیتیں بہت ہیں۔چوتھے یہ کہ رحمت پہلے ہے غضب اس کے بعد ہے،مخلوق کو پیدا فرمانا،انہیں پالنا،روزی دینا رحمت یہ پہلے ہے،ان کی نافرمانی پر پکڑنا یہ غضب ہے جو ان رحمتوں کے بعد ہے۔دنیا میں بھی اس کی رحمت زیادہ ہے آخرت میں بھی زیادہ ہوگی۔پانچویں یہ کہ الله کی رحمت تو بغیر سبب بھی مل جاتی ہے مگر اس کا غضب کسی سبب سے ہی ہوتا ہے۔ہم پر اس نے عالم ارواح اور ماں کے پیٹ میں رحمتیں کیں،اس وقت ہم کون سے اعمال کررہے تھے۔شعر
درعدم کے بود مارا خود طلب بے طلب کردی عطا ہائے عجب
چھٹے یہ کہ رحمت تو ہمارے بغیر استحقاق کے بھی مل جاتی ہے مگر غضب ہمارے استحقاق سے ہی ہوتا ہے،اب پڑھو یہ آیت کریمہ "
عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُ وَ رَحْمَتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡءٍاس کا اثر یہ ہے کہ آپ دائمی رحمت ہیں تو آپ کی نبوت عالمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ساتویں یہ کہ رحمت کی بہت قسمیں ہیں: رحمت ایجاد،رحمت امداد،رحمت توفیق اعمال،رحمت قبول،رحمت جزاء عمل وغیرہ مگر غضب کے اقسام بہت تھوڑے ہیں۔آٹھویں یہ کہ خلف وعید جائز بلکہ واقع ہے مگر خلف وعد ناممکن ہے،اس کی اور دو وجوہ بھی ہوسکتی ہیں۔۳؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریر لوح محفوظ میں نہیں ہے بلکہ خاص تختی پر ہے لوح محفوظ پر فرشتوں،نبیوں، ولیوں کی نظر ہے مگر اس تحریر پر سوا ہمارے حضور کے کسی کی نظر نہیں،یہ تو حضور کا کرم ہے کہ وہ خاص تحریر ہم کو بتادی سنادی،حضور رب کی طرف سے مختار ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5700