Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5712

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرُ لأَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ مِنْ خَلْفِه خَضْرَاءَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إنما سمي الخضر لأنه جلس على فروة بيضاء فإذا هي تهتز من خلفه خضراء". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا خضر اس لیے نام رکھا گیا کہ آپ سفیدہ زمین پر بیٹھے ۱∞؎تو اچانک وہ آپ کے پیچھے سے سبزہ سے حرکت کر رہی ہے۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎فروہ سفیدہ خشک زمین کو بھی کہتے ہیں اور خشک گھاس کے گٹھے کو بھی یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں بلکہ خشک چمڑہ کو بھی فروہ کہا جاتا ہے۔یعنی آپ کا نام شریف خضر نہیں،نام پاک تو بلیا یا عباس ہے،لقب خضر ہے بمعنی سبزہ بخش یا زندگی بخشنے والے،خضر صفت مشبہ ہے خضرۃ سے بمعنی سبزی۔۲؎یعنی وہ زمین یا خشک گھاس صرف آپ کے نیچے ہی سے سبز نہ ہوئی بلکہ پیچھے سے بھی سبز ہوگئی،پیچھے سے مراد اردگرد چوطرفہ ہے یعنی آپ کا معجزہ یہ ہوا کہ آپ کی برکت جہاں آپ بیٹھے وہ میدان سرسبز ہوگیا یا کھاری زمین سبزہ سے بھر گئی۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کا فیض صرف انسانوں کو ہی نہیں پہنچتا بلکہ زمین کو پہنچ جاتا ہے کہ زمین سرسبز اور تبرک بن جاتی ہے،دیکھو حضرت مریم علیہا السلام کے ہاتھ شریف لگنے سے کھجور کا خشک ڈنڈ سرسبز ہو کر پھلوں سے لد گیا اور فورًا پھل پختہ بھی ہوگئے،رب فرماتاہے:"وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا"جب بزرگوں کے ہاتھ کی برکت سے خشک زمین سبز اور خشک درخت پھل دار ہوسکتے ہیں تو ان کی نگاہ کی برکت سے ہمارے خشک و غافل دل بھی ہرے بھرے اور زندہ ہوسکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5712