Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5737

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: "آدَمُ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: "نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَمِ المُرْسَلُونَ؟ قَالَ: "ثَلَاثُ مِئَةٍ وَبِضْعَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا".وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَمْ وَفَاءُ عِدَّةِ الأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: "مِئة أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا، الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِئَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا".

وعن أبي ذر قال: قلت: يا رسول الله! أي الأنبياء كان أول؟ قال: "آدم". قلت: يا رسول الله! ونبي كان؟ قال: "نعم نبي مكلم". قلت: يا رسول الله! كم المرسلون؟ قال: "ثلاث مئة وبضع عشر جما غفيرا".وفي رواية عن أبي أمامة قال أبو ذر: قلت: يا رسول الله! كم وفاء عدة الأنبياء؟ قال: "مئة ألف وأربعة وعشرون ألفا، الرسل من ذلك ثلاث مئة وخمسة عشر جما غفيرا".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم کون سے نبی پہلے ہیں فرمایا آدم علیہ السلام ۱∞؎میں نے عرض کیا یارسول الله کیا وہ نبی تھے فرمایا ہاں کلام والے نبی۲؎میں نے عرض کیا یارسول الله رسول کتنے ہیں تو فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس بڑی جماعت۳؎اور ایک روایت ہے میں حضرت ابو امامہ سے ہے ۴؎کہ جناب ابوذر نے فرمایا میں نے عرض کیا یارسول الله نبیوں کی پوری تعداد کتنی ہے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار جن میں سے رسول تین سو پندرہ ہیں بڑی جماعت۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آدم علیہ السلام پہلے انسان ہیں اور پہلے نبی تاکہ کوئی وقت نبوت سے خالی نہ رہے،زمانہ نبی سے خالی ہوسکتا ہے نبوت سے خالی نہیں ہوسکتا،آج بھی ہمارے حضور کی نبوت موجود ہے۔۲؎یعنی آپ نبی بھی تھے اور آپ پر صحیفے الہیہ بھی نازل ہوئے تھے یعنی صاحب صحیفہ نبی تھے۔۳؎مرسلین سے مراد رسول ہیں۔نبی،رسول اور مرسل میں چند طرح فرق کیا گیا ہے: ایک یہ کہ نبی وہ انسان ہیں جن پر وحی الٰہی آئے کتاب یا صحیفہ آئے یا نہ آئے۔رسول وہ جن پر وحی بھی آئے اور انہیں کتاب یا صحیفہ بھی ملے۔مرسل وہ جن کو نئی کتاب اور نئی شریعت عطا ہو۔نبی رسول تین سو تیرہ یا چودہ یا پندرہ ہیں،بعض نے فرمایا کہ نبی وہ جن پر وحی بھی آئے،رسول وہ جن پر وحی بھی آئے اور انہیں کوئی معجزہ بھی عطا ہو۔(مرقات)۴؎یہاں ابو امامہ سے مراد ابو امامہ باہلی نہیں کہ وہ تو صحابی ہیں بلکہ ابو امامہ سہلی ابن حنیف انصاری اوسی مراد ہیں، آپ حضور صلی الله علیہ و سلم کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے،عظیم الشان تابعی ہیں،آپ کی عمر بانوے۹۲ سال ہوئی ۱۰۰؁ ہجری میں وفات پائی۔(مرقات)۵؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کے اجمال کی تفصیل ہے وہاں ارشاد ہوا تھا تین اور کچھ اور دس،اس کچھ کی یہ تفصیل کی ہے یعنی کل رسول تین سو پندرہ ہیں۔خیال رہے کہ تین سو تیرہ کی بھی روایت ہے اور چودہ کی بھی یہاں پندرہ ہے اس لیے ایمان اس طرح لائے کہ سارے نبیوں رسولوں پر ہمارا ایمان ہے،یہ بھی یاد رکھو کہ نبی رسول اور مرسل میں عام خاص کی نسبت ہے جیسے انسان اور حیوان میں۔ہر مرسل رسول بھی ہے نبی بھی مگر ہر نبی رسول یا مرسل نہیں۔نکتہ: نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار،رسول تین سو تیرہ،مرسل چار ہیں،اسی طرح صحابہ کرام ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں، اصحاب بدر تین سو تیرہ ہیں اور خلفاء راشدین چار،پھر چار مرسلین ہیں،ایک ہیں خاتم المرسلین یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم،اسی طرح چار خلفاء راشدین ہیں: ایک ہیں افضل الخلق بعد النبیین یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5737