- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5737
باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5737
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: "آدَمُ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: "نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَمِ المُرْسَلُونَ؟ قَالَ: "ثَلَاثُ مِئَةٍ وَبِضْعَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا".وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَمْ وَفَاءُ عِدَّةِ الأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: "مِئة أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا، الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِئَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا".
وعن أبي ذر قال: قلت: يا رسول الله! أي الأنبياء كان أول؟ قال: "آدم". قلت: يا رسول الله! ونبي كان؟ قال: "نعم نبي مكلم". قلت: يا رسول الله! كم المرسلون؟ قال: "ثلاث مئة وبضع عشر جما غفيرا".وفي رواية عن أبي أمامة قال أبو ذر: قلت: يا رسول الله! كم وفاء عدة الأنبياء؟ قال: "مئة ألف وأربعة وعشرون ألفا، الرسل من ذلك ثلاث مئة وخمسة عشر جما غفيرا".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم کون سے نبی پہلے ہیں فرمایا آدم علیہ السلام ۱∞؎میں نے عرض کیا یارسول الله کیا وہ نبی تھے فرمایا ہاں کلام والے نبی۲؎میں نے عرض کیا یارسول الله رسول کتنے ہیں تو فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس بڑی جماعت۳؎اور ایک روایت ہے میں حضرت ابو امامہ سے ہے ۴؎کہ جناب ابوذر نے فرمایا میں نے عرض کیا یارسول الله نبیوں کی پوری تعداد کتنی ہے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار جن میں سے رسول تین سو پندرہ ہیں بڑی جماعت۵؎
شرح حدیث
۱∞؎آدم علیہ السلام پہلے انسان ہیں اور پہلے نبی تاکہ کوئی وقت نبوت سے خالی نہ رہے،زمانہ نبی سے خالی ہوسکتا ہے نبوت سے خالی نہیں ہوسکتا،آج بھی ہمارے حضور کی نبوت موجود ہے۔۲؎یعنی آپ نبی بھی تھے اور آپ پر صحیفے الہیہ بھی نازل ہوئے تھے یعنی صاحب صحیفہ نبی تھے۔۳؎مرسلین سے مراد رسول ہیں۔نبی،رسول اور مرسل میں چند طرح فرق کیا گیا ہے: ایک یہ کہ نبی وہ انسان ہیں جن پر وحی الٰہی آئے کتاب یا صحیفہ آئے یا نہ آئے۔رسول وہ جن پر وحی بھی آئے اور انہیں کتاب یا صحیفہ بھی ملے۔مرسل وہ جن کو نئی کتاب اور نئی شریعت عطا ہو۔نبی رسول تین سو تیرہ یا چودہ یا پندرہ ہیں،بعض نے فرمایا کہ نبی وہ جن پر وحی بھی آئے،رسول وہ جن پر وحی بھی آئے اور انہیں کوئی معجزہ بھی عطا ہو۔(مرقات)۴؎یہاں ابو امامہ سے مراد ابو امامہ باہلی نہیں کہ وہ تو صحابی ہیں بلکہ ابو امامہ سہلی ابن حنیف انصاری اوسی مراد ہیں، آپ حضور صلی الله علیہ و سلم کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے،عظیم الشان تابعی ہیں،آپ کی عمر بانوے۹۲ سال ہوئی ۱۰۰ ہجری میں وفات پائی۔(مرقات)۵؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کے اجمال کی تفصیل ہے وہاں ارشاد ہوا تھا تین اور کچھ اور دس،اس کچھ کی یہ تفصیل کی ہے یعنی کل رسول تین سو پندرہ ہیں۔خیال رہے کہ تین سو تیرہ کی بھی روایت ہے اور چودہ کی بھی یہاں پندرہ ہے اس لیے ایمان اس طرح لائے کہ سارے نبیوں رسولوں پر ہمارا ایمان ہے،یہ بھی یاد رکھو کہ نبی رسول اور مرسل میں عام خاص کی نسبت ہے جیسے انسان اور حیوان میں۔ہر مرسل رسول بھی ہے نبی بھی مگر ہر نبی رسول یا مرسل نہیں۔نکتہ: نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار،رسول تین سو تیرہ،مرسل چار ہیں،اسی طرح صحابہ کرام ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں، اصحاب بدر تین سو تیرہ ہیں اور خلفاء راشدین چار،پھر چار مرسلین ہیں،ایک ہیں خاتم المرسلین یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم،اسی طرح چار خلفاء راشدین ہیں: ایک ہیں افضل الخلق بعد النبیین یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5737