Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5699

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مَقَامًا، فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الْخَلْقِ حَتَّى دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ، وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ، حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عمر قال: قام فينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مقاما، فأخبرنا عن بدء الخلق حتى دخل أهل الجنة منازلهم، وأهل النار منازلهم، حفظ ذلك من حفظه، ونسيه من نسيه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں ہم میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم ایک جگہ کھڑے ہوئے تو ہم کو ابتداء خلق کے متعلق خبر دی حتی کہ جنتی جنت میں اپنے گھروں میں داخل ہوگئے اور دوزخی اپنے گھروں میں ۱∞؎جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور کا یہ وعظ فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک تھا،درمیان میں سواء ظہر کی و عصر کی نماز کے اور کسی کام کے لیے وعظ شریف بند نہ فرمایا اور دن بھر میں ابتداء سے انتہا تک بیان فرمادینا بھی حضور انور کا معجزہ ہے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام گھوڑے پر زین کستے کستے پوری زبور شریف پڑھ لیتے تھے،بعض روایات میں ہے کہ اس وعظ شریف میں پرندہ کا پر مارنا،قطرہ کا حرکت کرنا،ذرہ کا جنبش فرمانا تک بیان فرمادیا،گزشتہ ماضی کے سارے حالات اور آئندہ مستقبل کا ایک ایک حال بیان کردیا۔یہ ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کا علم غیب کلی کی بڑی قوی دلیل اور یہ حدیث ان آیات کی تفسیر ہے"وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ"یارب کا فرمان:"وَیُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمْ تَکُوۡنُوۡا تَعْلَمُوۡنَشعر
خدا مطلع ساخت ہر جملہ غیب علی کل شئی خبر آمدی
۲
؎الله تعالٰی نے سارے غیب حضور صلی الله علیہ وسلم کو بتائے حضور کو یاد بھی رہے،فرماتے ہیںو تجلی لی کل شئی وعرفتپھر حضور انور نے یہ سب کچھ صحابہ کو بتایا مگر ان میں سے کسی کو سارا یاد نہ رہا۔یہ فرق ہے اس تعلیم میں اور اس تعلیم میں بعض کو زیادہ یاد رہا،بعض کو کم،بعض کو کچھ یاد نہ رہا۔غرضکہ رب نے اپنے محبوب کو سب کچھ سکھایا،حضور نے صحابہ کو سب کچھ وعظ میں بتایا جیسے حضرت آدم کو رب نے سارے نام سکھائے"وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا"اور حضرت آدم علیہ السلام نے فرشتوں کو وہ سب نام سکھائے نہیں بلکہ بتائے"فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمْ"یہ فرق خیال میں رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5699