Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5710

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. [خ: 3416، م: 2376].
وَفِي رِوَايَةِ البُخَارِيِّ قَالَ: "من قَالَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ".

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما ينبغي لعبد أن يقول: إني خير من يونس بن متى". متفق عليه. [خ: 3416، م: 2376].
وفي رواية البخاري قال: "من قال: أنا خير من يونس بن متى فقد كذب".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کسی بندے کو لائق نہیں کہ کہے کہ میں یونس ابن متی سے افضل ہوں ۱∞؎(مسلم،بخاری)اور بخاری کی روایت میں ہے کہ فرمایا جو کہے کہ میں یونس ابن متی علیہ السلام سے افضل ہوں وہ جھوٹ بولا۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کوئی اپنے کو حضر ت یونس علیہ السلام سے افضل نہ کہے کیونکہ کوئی ولی خواہ کسی درجے کا ہو نبی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتا،نبی کی شان تو بڑی ہے۔تمام جہان کے اولیاء مل کر صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچتے اور اگر "میں" سے مراد حضور صلی الله علیہ و سلم ہیں تو اس کے مطلب وہ ہی ہیں جو ابھی عرض کیے گئے۔۲؎کیونکہ یونس علیہ السلام نبی ہیں اور تو نبی نہیں پھر اپنے کو ان سے افضل کیسے کہتا ہے،اس سے وہابی عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ کبھی امتی بظاہر نبی سے بڑھ جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5710