Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5734

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِيَدَيَّ فَقَالَ: "خَلَقَ اللَّهُ الْتُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ،وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ وَآخِرِ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلى اللَّيْل". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: أخذ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بيدي فقال: "خلق الله التربة يوم السبت، وخلق فيها الجبال يوم الأحد، وخلق الشجر يوم الاثنين، وخلق المكروه يوم الثلاثاء،وخلق النور يوم الأربعاء، وبث فيها الدواب يوم الخميس، وخلق آدم بعد العصر من يوم الجمعة في آخر الخلق وآخر ساعة من النهار فيما بين العصر إلى الليل". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے میرا ہاتھ پکڑا ۱∞؎پھر فرمایا کہ الله نے مٹی پیدا کی ہفتہ کے دن اور اس میں پہاڑ پیدا کیے اتوار کے دن اور درخت پیدا کیے پیر کے دن اور ناپسندیدہ چیزیں پیدا کیں منگل کے دن،نور پیدا فرمایا بدھ کے دن اور اس میں جانور پھیلائے جمعرات کے دن۲؎اور آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا فرمایا آخری مخلوق ہیں۳؎اور دن کی آخر ساعت میں عصر سے لے کر رات تک کے درمیان(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ہاتھ پکڑنا یا تو اہتمام کے لیے ہے یا یہ تفصیل گنانے کے لیے یا قرب بتانے کے لیے۔۲؎خلاصہ یہ ہے کہ ان مذکورہ چیزوں کی پیدائش کی ابتدا ہفتہ(سنیچر)کے دن ہوئی اور انتہا جمعہ کو جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔خیال رہے کہ ہفتہ کے دن سے مراد ہے اس دن کا آخری حصہ جب کہ قریبًا اتوار شروع ہوجاتا ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ"یہ کہا جاوے کہ آیت کریمہ میں آسمان اور زمین کی پیدائش کا ذکر ہے اور یہاں زمینی چیزوں کی پیدائش کا۔۳؎یہاں آدم علیہ السلام کی پیدائش سے مراد یا تو ان کے جسم شریف کی تکمیل ہے یا جسم شریف میں روح پھونکنا مراد ہے کیونکہ آدم علیہ السلام کے جسم کی ساخت تو بہت عرصہ تک ہوتی رہی،ہر قسم کی مٹی پانی کا جمع فرمانا پھر اس کا خمیر کرنا،پھر اعضاء ظاہری باطنی کا بنانا،پھر بہت روز تک سکھانا اس میں بہت دن لگے،یہ ایک دن اور ایک ساعت میں نہیں ہوا۔جمعہ کو جمعہ اسی لیے کہتے ہیں کہ اس دن میں حضرت آدم کے جسم شریف کی تکمیل ہوئی،جمعہ کے معنی ہیں مجتمع ہونا مکمل ہونا،چونکہ آپ تمام مخلوق کے مقصود ہیں اس لیے آپ کو آخر میں پیدا فرمایا گیا،دیکھو مرقات یہ مقام۔اس لیے صبح صادق کا وقت قبولیت دعا کا وقت ہے کہ وہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی ولادت پاک کا وقت ہے اور بارھویں ربیع الاول شریف مبارک رات ہے مگر روزانہ صبح صادق وقت قبولیت ہے اور جمعہ کی آخری ساعتیں وقت قبولیت ہیں یعنی آدم علیہ السلام کا فیض ہفتہ میں ایک بار حضور کا فیض روزانہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5734