Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5723

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعَنُ الشَّيْطَانُ فِي جَنْبَيْهِ بِإِصْبُعَيْهِ حِينَ يُوَلَدُ، غَيْرَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعَنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "كل بني آدم يطعن الشيطان في جنبيه بإصبعيه حين يولد، غير عيسى ابن مريم ذهب يطعن فطعن في الحجاب". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر انسان کی کروٹوں میں شیطان اپنی انگلیاں مارتا ہے جب وہ پیدا ہوتا ہے ۱∞؎سواء عیسیٰ ابن مریم کے۲؎کہ وہ انگلی مارنے لگا تو اس کی انگلی پردہ میں لگی۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں بنی آدم سے مراد اولاد آدم ہیں لڑکے ہوں یا لڑکیاں۔شیطان کو انسان سے دلی عداوت ہےوہ بچہ کی پیدائش کے وقت سے ہی اس کے پیچھے پڑتاہے،اسی مار کے اثر سے بچہ پیدائش کے وقت روتا ہے،بچپن میں بہت سی بیماریاں شیطان کے اثرسے ہوتی ہیں جیسے ام الصبیان وغیرہ جیسے سانپ بچھو وغیرہ جانور،بعض جڑی بوٹیاں انسان کو بیمار کردیتی ہیں ایسے ہی شیطان بھی انسان کو بیمارکردیتا ہے،رب فرماتاہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ۲؎ایسے مقام پر متکلم مستثنٰی ہوتا ہے حضور صلی الله علیہ و سلم کو بھی ولادت پاک کے وقت شیطان نہ چھو سکا۔(اشعۃ اللمعات)اسی لیے حضور ولادت پاک کے وقت روئے نہیں۔۳؎یہ حدیث باب الوسوسہ میں گزر چکی ہے،اس وقت الله تعالٰی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور شیطان کے درمیان ایک پردہ حائل کردیا شیطان کی انگلی اس پردے میں لگی،حضرت حنہ(والدہ مریم)کی دعا سے یہ واقعہ ہوا آپ نے دعاکی تھی"اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَابِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5723