Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5702

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ مَا هُوَ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أنس أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "لما صور الله آدم في الجنة تركه ما شاء الله أن يتركه، فجعل إبليس يطيف به ينظر ما هو، فلما رآه أجوف عرف أنه خلق خلقا لا يتمالك". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب الله تعالٰی نے حضرت آدم کی جنت میں صورت بنائی ۱∞؎تو جب تک چھوڑے رکھنا چاہا انہیں چھوڑے رکھا، ابلیس ان کے آس پاس گردش کرنے لگا دیکھتا تھا کہ یہ کیا چیزہے تو جب انہیں خالی پیٹ دیکھا تو سمجھ گیا کہ وہ ایسی خلقت سے پیدا کیے گئے جو اپنے قابو میں نہ ہوں گے۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آدم علیہ السلام کی پیدائش کے چند درجے ہیں: اولًا ان کا پتلا زمین پر یعنی مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان وادیٔ نعمان میں بنایا اور سُکھایا گیا پھر وہ سوکھا ہوا پتلا جنت میں رکھا گیا وہاں ہی روح پھونکی گئی وہاں ہی فرشتوں سے سجدہ کرایا گیا وہاں ہی حوا پیدا ہوئیں،پھر وہاں سے زمین پر بھیجا گیا یہاں اس دوسرے ٹھکانہ کا بیان ہے لہذا یہ حدیث ان روایات کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضرت آدم کا پُتلا نعمان مقام میں بنایا گیا،بعض نے کہا کہفی الجنۃراوی کی غلطی ہے۔۲؎یعنی یہ اپنے پر قابو نہ رکھیں گے خوشی و رنج عیش تکلیف کو برداشت نہ کرسکیں گے شہوت و غصہ میں بے قابو ہوجائیں گے لہذا میں ان کی اولاد کو بہ آسانی بہکا سکوں گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5702