Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5731

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ إِسْرَافِيلَ مُنْذُ يَوْمِ خَلْقِهُ صَافًّا قَدَمَيْهِ لَا يَرْفَعُ بَصَرَهُ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَبْعُونَ نُورًا، مَا مِنْهَا مِنْ نُورٍ يَدْنُو مِنْهُ إِلَّا احْتَرَقَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله خلق إسرافيل منذ يوم خلقه صافا قدميه لا يرفع بصره، بينه وبين الرب تبارك وتعالى سبعون نورا، ما منها من نور يدنو منه إلا احترق". رواه الترمذي وصححه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله نے جناب اسرافیل کو پیدا فرمایا جس دن سے انہیں پیدا کیا ہے اپنے قدموں پر کھڑے ہیں ۱∞؎وہ اپنی نگاہ نہیں اٹھاتے۲؎ان کے اور رب تعالٰی کے درمیان ستر نور ہیں،ان میں سے کوئی نور نہیں مگر جس سے وہ قریب ہوں تو جل جاویں۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ اسرافیل علیہ السلام ان فرشتوں میں سے ہیں جن کی عبادت کھڑا رہنا ہے اور حکم الٰہی کا انتظار کرنا ہے کہ کب حکم ہو اور میں صور پھونکوں۔۲؎یعنی ان کی نگاہیں ادب سے نیچے ہیں،عرش اعظم یا لوح محفوظ کی طرف نظر نہیں اٹھاتے جیسے نمازی اپنی سجدہ گاہ پر قیام میں نظر رکھتا ہے ایسی ہی ان کی نظر ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور اس عالم کی ہر چیز کو ملاحظہ فرمارہے ہیں۔حضرت اسرافیل علیہ السلام کی ہر ادا حضور کی نگاہ میں ہے،اسی طرح سب غلاموں کی ہر ادا حضور کی نگاہ میں ہر وقت ہے۔جو عرش کو دیکھ سکتا ہے وہ فرش پر بھی نظر رکھ سکتا ہے،اعلٰی حضرت قدس سرہٗ فرماتے ہیں۔سر عرش پر ہے تری گزر دل فرش پر ہے تیری نظر
۳
؎وہ حجاب نورانی ہیں ناری نہیں وہاں جلنا نور سے ہوسکتا ہے نہ کہ نار سے جیسے آج سورج کی شعاعوں سے گرمی حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ یہ شعاعیں جلا بھی دیتی ہیں۔اس جلنے کی تحقیق ہم ابھی پچھلی حدیث میں عرض کرچکے ہیں۔جنت میں جنتیوں کو پرندوں کے بھنے گوشت بھی دیئےجائیں گے،رب فرماتاہے:"وَ لَحْمِ طَیۡرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوۡنَ"وہاں گوشت آگ سے نہ بھونے جائیں گے کہ جنت میں آگ نہیں بلکہ نور سے اور نورانی گرمی سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5731