Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5724

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ: "يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ"وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: "أَيُّ النَّاسِ أَكَرَمُ"، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ: "الْكَرِيْمُ بْنُ الْكَرِيمِ" فِي (بَابِ الْمُفَاخَرَةِ وَالْعَصَبِيَّةِ)

وعن أبي موسى عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "كمل من الرجال كثير، ولم يكمل من النساء إلا مريم بنت عمران وآسية امرأة فرعون، وفضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام". متفق عليه. وذكر حديث أنس: "يا خير البرية"وحديث أبي هريرة: "أي الناس أكرم"، وحديث ابن عمر: "الكريم بن الكريم" في (باب المفاخرة والعصبية)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے کہ وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا مردوں میں تو بہت کامل ہوئے عورتوں میں سواءمریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کاملہ نہ ہوئیں ۱∞؎اور جناب عائشہ رضی الله عنہا کی بزرگی ساری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی بزرگی تمام کھانوں پر۲؎(مسلم،بخاری)اور انس رضی الله عنہ کی حدیث کہیاخیر البریۃاور ابوہریرہ کی حدیثای الناس اکرماور حضرت ابن عمر کی حدیثکریم ابن کریم،مفاخرہاورعصبیہکے باب میں ذکر کردی گئیں۳؎

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ یہاں کمال سے مراد نبوت و رسالت نہیں کیونکہ یہ کمال تو صرف انسان مردوں کو ہی ملا ہے کوئی عورت اور کوئی غیر انسان نبی نہیں ہوئے بلکہ مراد ولایت کاملہ قطبیت غوثیت وغیرہ ہے اور رب تعالٰی سے قرب خاص کہ یہ صفات مردوں کو زیادہ عورتوں کو کم ملے،نبوت کے متعلق رب فرماتاہے:"وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡنبوت کے فرائض عورت انجام نہیں دے سکتی،پردہ میں رہ کر عام تبلیغ نہیں ہوسکتی۔یہ بھی خیال رہے کہ یہاںنساءسے مراد اس زمانہ کی عورتیں ہیں لہذا اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ حضرت آسیہ و مریم جناب فاطمہ زہرا خدیجہ اور عائشہ صدیقہ سے افضل ہوں،یہ بیبیاں حضرت آسیہ و مریم سے افضل ہیں۔شعر
مریم ازیک نسبت عیسیٰ عزیز از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نور چشم رحمۃ للعالمین آں امام الاولین و آخرین
بانوے آن تاجدار ھل اتی مرتضٰی مشکل کشا شیر خدا
مادرآں مرکز پر کار عشق مادر آں قافلہ سالار عشق!
۲
؎یعنی جناب عائشہ صدیقہ از آدم علیہ السلام تا روز قیامت تمام عورتوں سے ایسی افضل ہیں جیسے ثرید کھانا باقی تمام کھانوں سے افضل، ثرید شوربے میں روٹی بھگو کر پکا ہوا کھانا۔اس میں گفتگو ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ فاطمہ زہرا خدیجۃ الکبریٰ ان تینوں میں افضل کون ہے۔محققین علماء کا قول ہے کہ یہ تینوں مختلف جہات سے افضل ہیں،اس میں بحث نہ کی جاوے تو بہتر ہے،حضرت عائشہ جیسی عالمہ حسن خلقت حسنِ خلق شیریں گفتار ذہینہ ذکیہ بی بی نہ پیدا ہوئی نہ پیدا ہو،آپ بڑی عالمہ محدثہ فقیہہ ہیں،آپ کی براءت میں سورۂ نور کی اٹھارہ آیتیں نازل ہوئیں۔شعر
یعنی ہے سورۂ نور جن کی گواہ ان کی پرنور صورت پہ لاکھوں سلام
بنت صدیق آرام جان نبی اس حریم براءت پہ لاکھوں سلام
نبوت کے بعد صدیقیت ہے اور عائشہ صدیقہ ہیں،ابوبکر صدیق ہیں۔
۳؎یعنی وہ حدیثیں مصابیح میں یہاں مذکور تھیں،ہم نے مشکوۃ شریف میں وہاں یعنیباب المفاخرۃمیں بیان کردیں ان کی شرح وہاں ہی دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5724