Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5728

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، أَنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ إِلَى عَاتِقَيْهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِئَةِ عَامٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن جابر بن عبد الله عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "أذن لي أن أحدث عن ملك من ملائكة الله من حملة العرش، أن ما بين شحمة أذنيه إلى عاتقيه مسيرة سبع مئة عام". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن عبدالله سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہیں،فرمایا مجھے اجازت دی گئی ہے ۱∞؎کہ تم کو الله کے فرشتوں میں ایک فرشتے کے متعلق خبر دوں عرش اٹھانے والوں سے کہ اس کے کانوں کی گدیوں سے اس کے کندھوں تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہم کو عالم غیب کی ہر چیز کی پوری خبر ہے مگر اس کے اظہار کی اجازت نہیں،ہاں اس میں جو فرشتے حاملین عرش ہیں ان میں سے ایک فرشتے کی جسامت و عظمت بتانے کی اجازت دی گئی ہے وہ تم کو بتائے دیتا ہوں حضور انور نے سارا عالم غیب اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا ہے۔اس حدیث سے حضور انورصلی الله علیہ و سلم کے وسعت علم کا پتہ لگا،ساتھ ہی معلوم ہوا کہ کسی چیز کا نہ بتانا نہ جاننے کی دلیل نہیں،بتانا تو اجازت ربانی سے ہوتا ہے۔۲؎کان کی گدیا اور کندھے کے درمیان بہت ہی تھوڑا فاصلہ ہے،جب اس فرشتے کی کان کی گدیا کندھے سے اتنی دور ہے تو باقی جسم کا اندازہ کون لگاسکتا ہے۔خیال رہے کہ فرشتے انسانی شکل پر نہیں انسان کی شکل تمام خلق سے اچھی ہے"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسٰنَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ"ان کی اپنی شکلیں مختلف عرش اٹھانے والے فرشتے بکروں سے ملتے جلتے ہیں جیساکہ پہلے گزر چکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5728