Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5707

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا، فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ: يا أَيُّوبُ! أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُك عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلى وَعِزَّتِكَ، وَلَكِن لَا غِنَى بِي عَنْ بَرْكَتِكَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "بينا أيوب يغتسل عريانا، فخر عليه جراد من ذهب، فجعل أيوب يحثي في ثوبه، فناداه ربه: يا أيوب! ألم أكن أغنيتك عما ترى؟ قال: بلى وعزتك، ولكن لا غنى بي عن بركتك". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب کہ ایوب علیہ السلام برہنہ غسل کر رہے تھے ۱∞؎کہ آپ پر سونے کی ٹڈیاں گریں۲؎آپ اپنے کپڑے میں انہیں سمیٹنے لگے۳؎انہیں ان کے رب نے ندا فرمائی کہ اے ایوب کیا میں نے تم کو تمہیں اس دیکھی چیز سے بے نیاز نہیں کردیا ہے۴؎عرض کیا ہاں تیری عزت کی قسم لیکن مجھے تیری برکت سے بے نیازی نہیں۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ حضرت ایوب علیہ السلام کے مرض سے شفا پاجانے کے بعد کا ہے،غسل خانہ میں تنہائی کی حالت میں ننگا نہانا جائز ہے اگر وہاں بھی تہبند سے نہایا جائے افضل ہے۔۲؎جراداسم جنس ہے مراد بہت ٹڈیاں ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہورہا ہے۔یہ بارش قدرتی تھی رب تعالٰی کے فضل و کرم سے آج بعض دفعہ بارش کے ساتھ بیر بہوٹی برستی ہے لہذا جانوروں کا برسنا ناممکن نہیں۔۳؎یعنی آپ اسی طرح برہنہ بدن غسل خانہ سے نکل کر اپنے تہبند شریف میں یہ ٹڈیاں جمع فرمانے لگے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ آسمان سے برسی ہوئی چیز جنگل کی خود رو جڑی بوٹیاں وہاں کے شکار کے جانور کسی کی ملکیت نہیں جس کا جی چاہے لے لے حتی کہ اگر قرینہ سے معلوم ہوا کہ یہ چیز ہم کو دی گئی ہے اسے بھی لے لینا جائز ہے جیسے برادران یوسف علیہ السلام نے اپنے سامان میں واپس کی ہوئی رقم دیکھ کر بولے"ہٰذِہٖ بِضٰعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیۡنَادوسرے یہ کہ جائز مال کی حرص بری نہیں بلکہ اچھی ہے جب کہ حلال ذریعہ سے حاصل ہو اور غفلت پیدا نہ کرے،دیکھو مرقات یہ ہی مقام۔۴؎آپ کی بیماری کے بعد رب تعالٰی نے آپ کی بیوی صاحبہ رحمت کو جوانی،صحت بخشی،اولاد بہت عطا کی مال اندازے سے بھی زیادہ عطا فرمایا اس فرمان عالی میں اس طرف اشارہ ہے۔۵؎سبحان الله!کیسا پیارا جواب ہے یعنی میں بہت مالدار ہوکر بھی تیری عطا سے بے نیاز نہیں،تیری عطا بھاگ کر دوڑ کر قبول کروں گا،اس میں رب کی نعمت کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ہے۔عرضکہ حرص نفسانی اور چیز ہے یہ حرص کچھ اور چیزہے،یہ حرص نفسانی نہ تھی،ہمیشہ اپنے کو رب کا محتاج جانو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5707