Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5706

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا، لَا يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً، فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالُوا: مَا تَسَتَّرَ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بجِلْدِهِ؛ إِمَّا بَرَصٌ أَوْ أُدْرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ،فَخَلَا يَوْمًا وَحْدَهُ لِيَغْتَسِلَ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَجَمَحَ مُوسَى فِي إِثْرِهِ يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ! ثَوْبِي يَا حَجَرُ! حَتَّى انْتُهَى إِلَى مَلأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ، وَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، وَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا، فَوَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبعًا أَوْ خَمْسًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن موسى كان رجلا حييا ستيرا، لا يرى من جلده شيء استحياء، فآذاه من آذاه من بني إسرائيل فقالوا: ما تستر هذا التستر إلا من عيب بجلده؛ إما برص أو أدرة، وإن الله أراد أن يبرئه،فخلا يوما وحده ليغتسل فوضع ثوبه على حجر، ففر الحجر بثوبه، فجمح موسى في إثره يقول: ثوبي يا حجر! ثوبي يا حجر! حتى انتهى إلى ملأ من بني إسرائيل، فرأوه عريانا أحسن ما خلق الله، وقالوا: والله ما بموسى من بأس، وأخذ ثوبه وطفق بالحجر ضربا، فوالله إن بالحجر لندبا من أثر ضربه ثلاثا أو أربعا أو خمسا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ موسیٰ علیہ السلام بہت شرمیلے پردہ دار تھے ۱∞؎ان کی ظاہری کھال کا کوئی حصہ دیکھا نہ جاتا تھا شرم کی وجہ سے تو انہیں بنی اسرائیل میں سے جس نے ایذاء پہنچائی اس نے پہنچائی بولے اس قدر پردہ کسی کھال کے عیب کی وجہ سے ہی ہے یا برص ہے یا خصیوں کا ورم۲؎الله نے چاہا کہ ان کو بری کرے۳؎تو ایک دن وہ اکیلے تنہائی میں گئے تاکہ غسل کریں اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ اٹھا۴؎موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے یہ کہتے دوڑے اے پتھر میرے کپڑے،اے پتھرمیرے کپڑے۵؎حتی کہ اسرائیلیوں کی ایک جماعت تک پہنچ گئے انہوں نے آپ کو برہنہ دیکھا ۶؎کہ آپ الله کی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں،وہ بولے الله کی قسم موسیٰ علیہ السلام میں کوئی خرابی نہیں۷؎اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنے لگے،رب کی قسم آپ کے مارنے سے پتھر میں تین چار یا پانچ نشانات ہیں۸؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بنی اسرائیل سب کے سامنے ننگے نہایا کرتے تھے مگر موسیٰ علیہ السلام غسل خانہ میں پردہ سے نہاتے تھے،اس حیاء پر بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو خفیہ بیماری کی تہمت لگادی۔معلوم ہوا کہ پردہ اور شرم سنت انبیاء ہے بے شرمی بے حیائی طریقہ کفار ہے،اس سے موجودہ فیشن پرست سبق لیں۔۲؎یعنی آپ اپنے اس عیب کو چھپانے کے لیے چھپ کر نہاتے ہیں اگر بے عیب ہیں تو ہماری طرح سب کے سامنے ننگے کیوں نہیں نہاتے۔۳؎معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام اس قسم کی بیماریوں اور نفرت آور مرضوں سے محفوظ رہتے ہیں اور الله تعالٰی ان کی عزت کا محافظ ہوتا ہے۔۴؎حدیث بالکل ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔آج لوہے سلور کے انجن مشین کی وجہ سے دوڑتے ہیں بلکہ پوری ریل کو دوڑاتے ہیں اگر بہ حکم الٰہی پتھر میں حرکت پیدا ہوجائے تو کیا بعید ہے،جب بھاپ لوہے کو دوڑا سکتی ہے تو حکمِ الٰہی بھی پتھر کو دوڑا سکتا ہے،آپ کی لاٹھی سانپ بن کر دوڑتی کھاتی پیتی تھی۔خیال رہے کہ ضرورۃً غسل خانہ میں ننگے ہوکر نہانا جائز ہے آپ کے پاس اس وقت کوئی تہبند وغیرہ ہوگا نہیں آپ کے اس عمل شریف میں رب تعالٰی کی وہ حکمت تھی جس کا ذکر آگے آرہا ہے،پیغمبر کا ہر فعل رب کی طرف سے ہوتا ہے۔۵؎درخت پتھر وغیرہ لوگوں کی خصوصًا انبیاءکرام کی باتیں سنتے سمجھتے ہیں لہذا آپ کا اسے پکارنا بالکل درست تھا،رب تعالٰی آسمان و زمین کو بالکل پہاڑوں کو پکارتا ہے"یٰجِبَالُ اَوِّبِیۡ مَعَہٗ"حضرت خلیل نے ذبح شدہ جانوروں کو پکارا لہذا اس پکار پر کوئی اعتراض نہیں۔۶؎معلوم ہوا کہ الله تعالٰی اپنے نبی پیغمبر سے لوگوں کے طعن دفع فرماتا ہے،حضرت یوسف علیہ السلام کے دامن سے داغ غلامی دفع کرنے کے لیے سات سال کی قحط سالی بھیجی،تمام قحط زدہ لوگ اپنا سب کچھ آپ کے ہاتھ فروخت کرکے خود آپ کے ہاتھ فروخت ہوگئے غلہ کی عوض اور آپ کے غلام بن گئے اسی طرح رب نے اپنے کلیم کے دامن سے لوگوں کے اس الزام کا دھبہ دھویا،اس وقت ننگا سامنے آنا عرف میں کوئی عیب نہ تھا دینی ضرورت کی وجہ سے شرعًا بھی ممنوع نہ رہا۔آج ضرورۃً ڈاکٹر حکیم کے سامنے ننگے ہونا پڑتا ہے،بعض دفعہ ننگا کرکے تلاشی لی جاتی ہے،جب حفاظت جان کے لیے ننگا ہونا جائز ہے تو وہاں لوگوں کی حفاظت ایمان کے لیے آپ کو ننگا دکھادینا بھی جائز تھا لہذا حدیث شریف پر کوئی اعتراض نہیں کہ رب نے نبی کو برہنہ کیوں دکھایا۔۷؎معلوم ہوا کہ نبی ایسی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں،اسی طرح گھنونی گندی بیماریاں انہیں نہیں ہوتیں،نامردی گونگا بہرا پن برص جذام نبی کو نہیں ہوسکتے۔۸؎آپ کا پتھر کو مارنا جوش میں واقع ہوا جیسے آپ نے اپنی قوم کی بچھڑا پرستی دیکھ کر توریت کی تختیاں گرادیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پتھر کو مارنا عقلمند آدمی کا کام نہیں،عقل اور جوش اور محبت میں بڑا فرق ہے۔لوگ عشق کے جوش میں محبوب کا لباس چومتے ہیں۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پتھر حضور انور کے زمانہ میں موجود تھا اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے اسے دیکھا تھا۔ندبکے معنی ہیں زخم کا اثر،یہاں مراد ہے پتھر میں گڑھے جو لاٹھی سے پڑے پھر اسی پتھر سے مقام تیہ میں پانی کے بارہ چشمے جاری ہوئے جسے بنی اسرائیل تیس چالیس سال پیتے رہے۔خیال رہے کہ پتھر کا بھاگنا اور آپ کی مار سے اس میں اثر ہونا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5706