- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5706
باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5706
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا، لَا يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً، فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالُوا: مَا تَسَتَّرَ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بجِلْدِهِ؛ إِمَّا بَرَصٌ أَوْ أُدْرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ،فَخَلَا يَوْمًا وَحْدَهُ لِيَغْتَسِلَ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَجَمَحَ مُوسَى فِي إِثْرِهِ يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ! ثَوْبِي يَا حَجَرُ! حَتَّى انْتُهَى إِلَى مَلأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ، وَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، وَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا، فَوَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبعًا أَوْ خَمْسًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن موسى كان رجلا حييا ستيرا، لا يرى من جلده شيء استحياء، فآذاه من آذاه من بني إسرائيل فقالوا: ما تستر هذا التستر إلا من عيب بجلده؛ إما برص أو أدرة، وإن الله أراد أن يبرئه،فخلا يوما وحده ليغتسل فوضع ثوبه على حجر، ففر الحجر بثوبه، فجمح موسى في إثره يقول: ثوبي يا حجر! ثوبي يا حجر! حتى انتهى إلى ملأ من بني إسرائيل، فرأوه عريانا أحسن ما خلق الله، وقالوا: والله ما بموسى من بأس، وأخذ ثوبه وطفق بالحجر ضربا، فوالله إن بالحجر لندبا من أثر ضربه ثلاثا أو أربعا أو خمسا". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ موسیٰ علیہ السلام بہت شرمیلے پردہ دار تھے ۱∞؎ان کی ظاہری کھال کا کوئی حصہ دیکھا نہ جاتا تھا شرم کی وجہ سے تو انہیں بنی اسرائیل میں سے جس نے ایذاء پہنچائی اس نے پہنچائی بولے اس قدر پردہ کسی کھال کے عیب کی وجہ سے ہی ہے یا برص ہے یا خصیوں کا ورم۲؎الله نے چاہا کہ ان کو بری کرے۳؎تو ایک دن وہ اکیلے تنہائی میں گئے تاکہ غسل کریں اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ اٹھا۴؎موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے یہ کہتے دوڑے اے پتھر میرے کپڑے،اے پتھرمیرے کپڑے۵؎حتی کہ اسرائیلیوں کی ایک جماعت تک پہنچ گئے انہوں نے آپ کو برہنہ دیکھا ۶؎کہ آپ الله کی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں،وہ بولے الله کی قسم موسیٰ علیہ السلام میں کوئی خرابی نہیں۷؎اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنے لگے،رب کی قسم آپ کے مارنے سے پتھر میں تین چار یا پانچ نشانات ہیں۸؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎بنی اسرائیل سب کے سامنے ننگے نہایا کرتے تھے مگر موسیٰ علیہ السلام غسل خانہ میں پردہ سے نہاتے تھے،اس حیاء پر بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو خفیہ بیماری کی تہمت لگادی۔معلوم ہوا کہ پردہ اور شرم سنت انبیاء ہے بے شرمی بے حیائی طریقہ کفار ہے،اس سے موجودہ فیشن پرست سبق لیں۔۲؎یعنی آپ اپنے اس عیب کو چھپانے کے لیے چھپ کر نہاتے ہیں اگر بے عیب ہیں تو ہماری طرح سب کے سامنے ننگے کیوں نہیں نہاتے۔۳؎معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام اس قسم کی بیماریوں اور نفرت آور مرضوں سے محفوظ رہتے ہیں اور الله تعالٰی ان کی عزت کا محافظ ہوتا ہے۔۴؎حدیث بالکل ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔آج لوہے سلور کے انجن مشین کی وجہ سے دوڑتے ہیں بلکہ پوری ریل کو دوڑاتے ہیں اگر بہ حکم الٰہی پتھر میں حرکت پیدا ہوجائے تو کیا بعید ہے،جب بھاپ لوہے کو دوڑا سکتی ہے تو حکمِ الٰہی بھی پتھر کو دوڑا سکتا ہے،آپ کی لاٹھی سانپ بن کر دوڑتی کھاتی پیتی تھی۔خیال رہے کہ ضرورۃً غسل خانہ میں ننگے ہوکر نہانا جائز ہے آپ کے پاس اس وقت کوئی تہبند وغیرہ ہوگا نہیں آپ کے اس عمل شریف میں رب تعالٰی کی وہ حکمت تھی جس کا ذکر آگے آرہا ہے،پیغمبر کا ہر فعل رب کی طرف سے ہوتا ہے۔۵؎درخت پتھر وغیرہ لوگوں کی خصوصًا انبیاءکرام کی باتیں سنتے سمجھتے ہیں لہذا آپ کا اسے پکارنا بالکل درست تھا،رب تعالٰی آسمان و زمین کو بالکل پہاڑوں کو پکارتا ہے"یٰجِبَالُ اَوِّبِیۡ مَعَہٗ"حضرت خلیل نے ذبح شدہ جانوروں کو پکارا لہذا اس پکار پر کوئی اعتراض نہیں۔۶؎معلوم ہوا کہ الله تعالٰی اپنے نبی پیغمبر سے لوگوں کے طعن دفع فرماتا ہے،حضرت یوسف علیہ السلام کے دامن سے داغ غلامی دفع کرنے کے لیے سات سال کی قحط سالی بھیجی،تمام قحط زدہ لوگ اپنا سب کچھ آپ کے ہاتھ فروخت کرکے خود آپ کے ہاتھ فروخت ہوگئے غلہ کی عوض اور آپ کے غلام بن گئے اسی طرح رب نے اپنے کلیم کے دامن سے لوگوں کے اس الزام کا دھبہ دھویا،اس وقت ننگا سامنے آنا عرف میں کوئی عیب نہ تھا دینی ضرورت کی وجہ سے شرعًا بھی ممنوع نہ رہا۔آج ضرورۃً ڈاکٹر حکیم کے سامنے ننگے ہونا پڑتا ہے،بعض دفعہ ننگا کرکے تلاشی لی جاتی ہے،جب حفاظت جان کے لیے ننگا ہونا جائز ہے تو وہاں لوگوں کی حفاظت ایمان کے لیے آپ کو ننگا دکھادینا بھی جائز تھا لہذا حدیث شریف پر کوئی اعتراض نہیں کہ رب نے نبی کو برہنہ کیوں دکھایا۔۷؎معلوم ہوا کہ نبی ایسی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں،اسی طرح گھنونی گندی بیماریاں انہیں نہیں ہوتیں،نامردی گونگا بہرا پن برص جذام نبی کو نہیں ہوسکتے۔۸؎آپ کا پتھر کو مارنا جوش میں واقع ہوا جیسے آپ نے اپنی قوم کی بچھڑا پرستی دیکھ کر توریت کی تختیاں گرادیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پتھر کو مارنا عقلمند آدمی کا کام نہیں،عقل اور جوش اور محبت میں بڑا فرق ہے۔لوگ عشق کے جوش میں محبوب کا لباس چومتے ہیں۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پتھر حضور انور کے زمانہ میں موجود تھا اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے اسے دیکھا تھا۔ندبکے معنی ہیں زخم کا اثر،یہاں مراد ہے پتھر میں گڑھے جو لاٹھی سے پڑے پھر اسی پتھر سے مقام تیہ میں پانی کے بارہ چشمے جاری ہوئے جسے بنی اسرائیل تیس چالیس سال پیتے رہے۔خیال رہے کہ پتھر کا بھاگنا اور آپ کی مار سے اس میں اثر ہونا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات ہیں۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5706