Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5701

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللَّه عليه وسلم قَالَ: "خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "خلقت الملائكة من نور، وخلق الجان من مارج من نار، وخلق آدم مما وصف لكم". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ۱∞؎اور جنات خالص آگ سے پیدا کیے گئے۲؎اور آدم اس سے پیدا کیے گئے جو تم سے بیان کیا گیا۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎نورکے معنی ہیں روشنی یعنی بذات خود ظاہر دوسروں کا مظہر،یہاں چمک دار جوہر مراد ہے جس میں کثافت بالکل نہ ہو۔(اشعۃ اللمعات)یعنی فرشتے کی پیدائش ایسے جوہر سے ہے جوچمکدار ہے اس میں کثافت بالکل نہیں،ہمارے جسموں کی پیدائش خاک سے ہے جو کثیف ہے اگرچہ اس میں آگ و پانی کی ملاوٹ بھی ہے۔۲؎اس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے"الْجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ"اگرچہ آگ بھی لطیف ہے کثیف نہیں مگر اس میں گرمی بھی ہے،نور میں گرمی نہیں صرف لطافت ہے،نیز آگ نور اور کثافت کے درمیان ہے خالص ہو تو محض چمک ہے،مکدر ہو تو محض دھواں،یہ ہی فرق ہے فرشتے اور جن کے درمیان۔(اشعہ)۳؎اس میں اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے"مِنۡ صَلْصٰلٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوۡنٍ"یعنی ہم نے آدم علیہ السلام کو گلی اور سوکھی کھنکھاتی مٹی سے پیدا فرمایا۔جسم انسانی کی پیدائش مٹی سے ہے،روح انسانی کی پیدائش امر ربی سے"قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡحضور صلی الله علیہ وسلم کا جسم شریف خاکی نورانی ہے،رب فرماتاہے:"سِرَاجًا مُّنِیۡرًا"آدم علیہ السلام کی بچی ہوئی مٹی سے کھجور،انار اور انگور پیدا کیے گئے جنت کی حوریں زعفران سے پیدا کی گئیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5701