Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5717

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ: "أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ ". فَقَالُوا: وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى"، فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعْرِهِ شَيْئًا: "وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ. فَقَالَ: "أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ " قَالُوا: هَرْشَى -أَوْ لِفْتٌ-. فَقَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن عباس قال: سرنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بين مكة والمدينة، فمررنا بواد، فقال: "أي واد هذا؟ ". فقالوا: وادي الأزرق، قال: "كأني أنظر إلى موسى"، فذكر من لونه وشعره شيئا: "واضعا أصبعيه في أذنيه، له جؤار إلى الله بالتلبية مارا بهذا الوادي". قال: ثم سرنا حتى أتينا على ثنية. فقال: "أي ثنية هذه؟ " قالوا: هرشى -أو لفت-. فقال: "كأني أنظر إلى يونس على ناقة حمراء، عليه جبة صوف، خطام ناقته خلبة، مارا بهذا الوادي ملبيا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان چلے تو ایک جنگل پرگزرے تو آپ نے فرمایا یہ کون جنگل ہے لوگوں نے کہا ارزق جنگل ۱∞؎فرمایا گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ نے ان کا رنگ ان کے بال کاکچھ ذکر فرمایا۲؎آپ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دیئے ہوئے بھی آپ کو الله سے قرب ہے۳؎تلبیہ میں مشغول ہیں اس جنگل میں گزر رہے ہیں۴؎فرماتے ہیں کہ پھر ہم کچھ اور چلے حتی کہ ہم ایک گھاٹی پر پہنچے تو فرمایا یہ کوئی گھاٹی ہے لوگوں نے کہا ہرشی ہے یا کفت ۵؎تو فرمایا گویا میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں ۶؎جو سرخ اونٹنی پر ہیں آپ پر اونی جبہ ہے آپ کے ناقہ کی مہارکھجور کی کھال کی ہے اسی جنگل میں تلبیہ کہتے گزر رہے ہیں۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎وادی ارزق حرمین شریفین کے درمیان ایک جنگل ہے،ارزق کے معنی ہیں نیل گوں یا تو وہاں کی زمین نیل گوں ہے یا کسی ایسے آدمی کی طرف منسوب ہے جس کا نام ارزق تھا یا اس کی آنکھیں نیل گوں تھیں یہ گزر یا تو حجۃ الودع کے موقع پر ہوا تھا یا عمرہ قضاکے وقت۔(مرقات،و اشعہ)۲؎کہ آپ گندمی رنگ ہیں خمدار بال شریف جیساکہ پہلے گزر چکا۔۳؎جوار اور خوار دونوں کے معنی ہیں بچھڑے کی آواز پھر مطلقًا آواز کو کہنے لگے،اب محاورہ میں دعا عجزوانکسار کی آواز کو جوار کہتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی آپ مؤذن کی طرح دونوں انگلیاں کانوں میں ڈالے بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔خیال رہے کہ یہاںکانیزائدہ ہے جیسےلا اقسممیںلازائدہ ہوتا ہے،حضور انور اپنی آنکھوں سے ان حضرات کو ملاحظہ فرمارہے تھے اور ان کا تلبیہ سن رہے تھے۔۴؎معلوم ہوا کہ الله کے بندے بعد وفات دنیا میں گشت کرتے ہیں اچھے مجمعوں میں جاتے ہیں،ذاکرین کے ساتھ شرکت کرتے ہیں، بزرگوں میں میلاد شریف،ختم رمضان شریف میں وفات یافتہ بزرگوں کو دیکھا ہے،شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کے ختم رمضان پر لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو بیداری میں دیکھا انہوں نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کل فرمایا تھا کہ ہم عبدالعزیز کے ختم قرآن میں شرکت کرنے دہلی جائیں گے،دیکھو فتاویٰ عزیزیہ کا مقدمہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں لوگوں نے بیداری میں حضور صلی الله علیہ و سلم اور اولیاء کرام کو لاہور اور سیالکوٹ کے بارڈر پر مسلمانوں کی مدد فرماتے ہوئے دیکھا۔۵؎ہرشی منزل جحفہ کے قریب ایک پہاڑ کا نام ہے اسے کفت بھی کہتے تھے،راوی کو شک ہے کہ صحابہ کرام نے ان کا نام ہرشی لیا یا کفت اور ہوسکتا ہے کہ ان حضرات نے یہ ہی عرض کیا ہو یعنی اس پہاڑ کے دو نام ہیں ہرشی اور کفت جو چاہیں ہم کہہ لیں ہرشی یا کفت۔۶؎اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ یہاںکانیفرمانا یقین کے اظہار کے لیے ہے یعنی میں انہیں اس طرح یقینی طور پر دیکھ رہا ہوں گویا انہیں ان کی زندگی شریف میں ہی دیکھ رہاہوں۔۷؎چونکہ یہ حج حضور سید الانبیاء صلی الله علیہ و سلم کا آخری حج تھا اس لیے آسمانوں اور زمین سے حضرات انبیاءکرام برکت حاصل کرنے کے لیے شریک ہوئے،حضور انور نے انہیں ملاحظہ فرمایا۔اس واقعہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرات انبیاءکرام بہ حیات کامل زندہ ہیں،ان کی موت ان کی زندگی کو فنا نہیں کرتی ،جیسے شہداء کا قتل ان کی زندگی فنا نہیں کرتا۔دوسرے یہ کہ وہ حضرات جہاں چاہیں جاتے آتے ہیں۔تیسرے یہ کہ ان کی صرف روح نہیں جاتی بلکہ جسم شریف بھی سیرکرتا ہے۔چوتھے یہ کہ انہیں اس دنیا کی خبر رہتی ہے کہ آج کہاں کیا ہورہا ہے،دیکھو حضور انور کا حج اس دنیا میں ہوا اور ان حضرات کو اس جہاں میں خبر ہوئی۔پانچویں یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم اور بعض حضور کے غلام ان بزرگوں کو دیکھتے ان کی آواز سنتے ہیں،ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔خیال رہے کہ اونٹنی پر سوار ہونا کانوں میں انگلیاں دینا تلبیہ کہنا جسم کا کام ہے صرف روح کا نہیں اور یہ اونٹنی قدرتی تھی جیسے جبریل امین گھوڑے پر سوار نمودار ہوتے تھے وہ گھوڑا قدرتی ہوتا تھا نہ کہ یہ دنیاوی گھوڑا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5717