- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5717
باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5717
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ: "أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ ". فَقَالُوا: وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى"، فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعْرِهِ شَيْئًا: "وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ. فَقَالَ: "أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ " قَالُوا: هَرْشَى -أَوْ لِفْتٌ-. فَقَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن ابن عباس قال: سرنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بين مكة والمدينة، فمررنا بواد، فقال: "أي واد هذا؟ ". فقالوا: وادي الأزرق، قال: "كأني أنظر إلى موسى"، فذكر من لونه وشعره شيئا: "واضعا أصبعيه في أذنيه، له جؤار إلى الله بالتلبية مارا بهذا الوادي". قال: ثم سرنا حتى أتينا على ثنية. فقال: "أي ثنية هذه؟ " قالوا: هرشى -أو لفت-. فقال: "كأني أنظر إلى يونس على ناقة حمراء، عليه جبة صوف، خطام ناقته خلبة، مارا بهذا الوادي ملبيا". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان چلے تو ایک جنگل پرگزرے تو آپ نے فرمایا یہ کون جنگل ہے لوگوں نے کہا ارزق جنگل ۱∞؎فرمایا گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ نے ان کا رنگ ان کے بال کاکچھ ذکر فرمایا۲؎آپ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دیئے ہوئے بھی آپ کو الله سے قرب ہے۳؎تلبیہ میں مشغول ہیں اس جنگل میں گزر رہے ہیں۴؎فرماتے ہیں کہ پھر ہم کچھ اور چلے حتی کہ ہم ایک گھاٹی پر پہنچے تو فرمایا یہ کوئی گھاٹی ہے لوگوں نے کہا ہرشی ہے یا کفت ۵؎تو فرمایا گویا میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں ۶؎جو سرخ اونٹنی پر ہیں آپ پر اونی جبہ ہے آپ کے ناقہ کی مہارکھجور کی کھال کی ہے اسی جنگل میں تلبیہ کہتے گزر رہے ہیں۷؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎وادی ارزق حرمین شریفین کے درمیان ایک جنگل ہے،ارزق کے معنی ہیں نیل گوں یا تو وہاں کی زمین نیل گوں ہے یا کسی ایسے آدمی کی طرف منسوب ہے جس کا نام ارزق تھا یا اس کی آنکھیں نیل گوں تھیں یہ گزر یا تو حجۃ الودع کے موقع پر ہوا تھا یا عمرہ قضاکے وقت۔(مرقات،و اشعہ)۲؎کہ آپ گندمی رنگ ہیں خمدار بال شریف جیساکہ پہلے گزر چکا۔۳؎جوار اور خوار دونوں کے معنی ہیں بچھڑے کی آواز پھر مطلقًا آواز کو کہنے لگے،اب محاورہ میں دعا عجزوانکسار کی آواز کو جوار کہتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی آپ مؤذن کی طرح دونوں انگلیاں کانوں میں ڈالے بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔خیال رہے کہ یہاںکانیزائدہ ہے جیسےلا اقسممیںلازائدہ ہوتا ہے،حضور انور اپنی آنکھوں سے ان حضرات کو ملاحظہ فرمارہے تھے اور ان کا تلبیہ سن رہے تھے۔۴؎معلوم ہوا کہ الله کے بندے بعد وفات دنیا میں گشت کرتے ہیں اچھے مجمعوں میں جاتے ہیں،ذاکرین کے ساتھ شرکت کرتے ہیں، بزرگوں میں میلاد شریف،ختم رمضان شریف میں وفات یافتہ بزرگوں کو دیکھا ہے،شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کے ختم رمضان پر لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو بیداری میں دیکھا انہوں نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کل فرمایا تھا کہ ہم عبدالعزیز کے ختم قرآن میں شرکت کرنے دہلی جائیں گے،دیکھو فتاویٰ عزیزیہ کا مقدمہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں لوگوں نے بیداری میں حضور صلی الله علیہ و سلم اور اولیاء کرام کو لاہور اور سیالکوٹ کے بارڈر پر مسلمانوں کی مدد فرماتے ہوئے دیکھا۔۵؎ہرشی منزل جحفہ کے قریب ایک پہاڑ کا نام ہے اسے کفت بھی کہتے تھے،راوی کو شک ہے کہ صحابہ کرام نے ان کا نام ہرشی لیا یا کفت اور ہوسکتا ہے کہ ان حضرات نے یہ ہی عرض کیا ہو یعنی اس پہاڑ کے دو نام ہیں ہرشی اور کفت جو چاہیں ہم کہہ لیں ہرشی یا کفت۔۶؎اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ یہاںکانیفرمانا یقین کے اظہار کے لیے ہے یعنی میں انہیں اس طرح یقینی طور پر دیکھ رہا ہوں گویا انہیں ان کی زندگی شریف میں ہی دیکھ رہاہوں۔۷؎چونکہ یہ حج حضور سید الانبیاء صلی الله علیہ و سلم کا آخری حج تھا اس لیے آسمانوں اور زمین سے حضرات انبیاءکرام برکت حاصل کرنے کے لیے شریک ہوئے،حضور انور نے انہیں ملاحظہ فرمایا۔اس واقعہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرات انبیاءکرام بہ حیات کامل زندہ ہیں،ان کی موت ان کی زندگی کو فنا نہیں کرتی ،جیسے شہداء کا قتل ان کی زندگی فنا نہیں کرتا۔دوسرے یہ کہ وہ حضرات جہاں چاہیں جاتے آتے ہیں۔تیسرے یہ کہ ان کی صرف روح نہیں جاتی بلکہ جسم شریف بھی سیرکرتا ہے۔چوتھے یہ کہ انہیں اس دنیا کی خبر رہتی ہے کہ آج کہاں کیا ہورہا ہے،دیکھو حضور انور کا حج اس دنیا میں ہوا اور ان حضرات کو اس جہاں میں خبر ہوئی۔پانچویں یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم اور بعض حضور کے غلام ان بزرگوں کو دیکھتے ان کی آواز سنتے ہیں،ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔خیال رہے کہ اونٹنی پر سوار ہونا کانوں میں انگلیاں دینا تلبیہ کہنا جسم کا کام ہے صرف روح کا نہیں اور یہ اونٹنی قدرتی تھی جیسے جبریل امین گھوڑے پر سوار نمودار ہوتے تھے وہ گھوڑا قدرتی ہوتا تھا نہ کہ یہ دنیاوی گھوڑا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5717