Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5719

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا، جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ صَاحِبَتُهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا. فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلْ، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "كانت امرأتان معهما ابناهما، جاء الذئب فذهب بابن إحداهما، فقالت صاحبتها: إنما ذهب بابنك، وقالت الأخرى: إنما ذهب بابنك فتحاكمتا إلى داود، فقضى به للكبرى، فخرجتا على سليمان بن داود فأخبرتاه فقال: ائتوني بالسكين أشقه بينكما. فقالت الصغرى: لا تفعل، يرحمك الله، هو ابنها، فقضى به للصغرى". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے بچے تھےبھیڑیا آیا ایک کا بچہ لے گیا ۱∞؎اس کی ساتھن بولی کہ بھیڑیا تیرا بچہ لے گیا ہے اور دوسری نے کہا کہ تیرا بچہ لے گیا ہے ۲؎چنانچہ وہ دونوں داؤد علیہ السلام کے پاس فیصلہ لے گئیں آپ نے بڑی کے حق اس کا فیصلہ کردیا۳؎وہ دونوں حضرت سلیمان ابن داؤد کے پاس گئیں انہیں یہ خبر دی۴؎آپ نے فرمایا چھری لاؤ میں تم دونوں کے درمیان بچے کے دو ٹکڑے تقسیم کردوں۵؎تو چھوٹی بولی الله آپ پر رحمت کرے یہ نہ کریں یہ اس بڑی کا بچہ ہے۶؎تب آپ نے چھوٹی کے حق میں اس کا فیصلہ کر دیا۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دونوں عورتیں اپنے اپنے لڑکے جنگل میں بٹھال کر کسی کام میں مشغول ہوگئیں کہ یہ حادثہ پیش آگیا اور باقی ماندہ بچہ میں جھگڑا پڑگیا۔۲؎خلاصہ یہ ہے کہ ان دونوں عورتوں میں سے ہر ایک چاہتی تھی کہ یہ بچہ مجھے ملے ایک تو واقعی ماں تھی دوسری ماں بنی جا رہی تھی۔۳؎بڑی کے حق میں یہ فیصلہ فرمانا اس لیے تھا کہ وہ اس بچہ پر قابض تھی یا اس لیے کہ بچہ اس کی ہم شکل تھا۔بہرحال یہ فیصلہ حضرت داؤد علیہ السلام کے اجتہاد سے تھا،وحی الٰہی سے نہ تھا ورنہ اس کی اپیل نہ ہوتی اور نہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس کے خلاف فیصلہ فرماتے۔معلوم ہوا کہ مجتہد کا اجتہاد برحق ہے اور نبی بھی اجتہاد فرماسکتے ہیں۔۴؎اس سے معلوم ہوا کہ فیصلہ کی اپیل ہوسکتی ہے اور اپیل والا حاکم پہلے حاکم کے خلاف فیصلہ دے سکتا ہے بشرطیکہ پہلا فیصلہ اجتہاد سے ہوا ہو وحی سے نہ ہو وحی کی اپیل ناممکن ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَاقَضَیα اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ۵؎یعنی اس بچہ کی دو کھانپ کرکے تم دونوں کو ایک ایک دیدوں۔خیال رہے کہ آپ نے اس بے گناہ بچے کے قتل کا ارادہ نہ فرمایا بلکہ اس کلام سے ان عورتوں کی شفقت و محبت کی آزمائش فرمائی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بے قصور کے قتل کا ارادہ کرنا گناہ ہے اور نبی گناہ سے معصوم ہوتے ہیں۔۶؎اس وقت بڑی عورت یا تو خاموش رہی یا کچھ ہلکی تڑپی دکھلاوے کے لیے،حقیقی تڑپ اور بناوٹی تڑپ میں فرق ہوتا ہے۔خیال رہے کہ یہ کلام اقرار کے لیے نہیں بلکہ بے قراری میں تڑپ کے طور پر ہے یعنی آپ اسے قتل نہ کریں اسی کو دے دیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ چھوٹی نے بڑی کے لیے اقرار کر لیا پھر آپ نے بڑی کو یہ بچہ نہ دیا،اس علامت سے آپ نے پہچان لیا کہ ماں یہ ہی ہے بچہ کی جان بچانے کے لیے کہہ رہی ہے۔۷؎اس واقعہ سے چند مسئلے معلو م ہوئے: ایک یہ کہ اجتہادجائز ہے۔دوسرے یہ کہ کبھی اجتہاد میں غلطی بھی ہوجاتی ہے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کے اجتہاد میں خطا ہوئی۔تیسرے یہ کہ خطا اجتہادی پر پکڑ اور مواخذہ نہیں ہوتا،دیکھو حضرت داؤد علیہ السلام کا فیصلہ ٹوٹ تو گیا مگر ان سے رب نے پوچھ گچھ نہ کی۔چوتھے یہ کہ کبھی افضل کے مقابلے میں مفضول کا فیصلہ قوی اور قابل عمل ہوتا ہے،دیکھو حضرت داؤد علیہ السلام صاحب کتاب صاحب شریعت نبی ہیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے والد ہیں،ان تمام باتوں کے باوجود عملی فیصلہ سلیمان علیہ السلام پر کیا گیا لہذا امام اعظم کے فرمان کے ہوتے ہوئے قول صاحبین پر فتویٰ دینا عمل کرنا درست ہے،یہ حدیث اس کا ماخذ ہے ایک مقدمہ کا ذکر تو قرآن مجید میں فرمایا ہے"فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیۡمٰنَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5719