Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5711

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قتلَهُ الْخَضِرُ طُبعَ كَافِرًا، وَلَوْ عَاشَ لأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي بن كعب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الغلام الذي قتله الخضر طبع كافرا، ولو عاش لأرهق أبويه طغيانا وكفرا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ وہ لڑکا جسے خضر علیہ السلام نے قتل کیا ۱∞؎وہ کافر پیدا ہوا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر سے سرکش کردیتا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خضر خ کے فتحہ ض کے کسرہ سے بمعنی ہرے بھرے،آپ کا نام عباس یا بلیا ابن ملکان ہے،آپ نوح علیہ السلام کے ساتویں پشت میں ہیں،ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں موجود تھے،آپ کا مقام سمندر ہے،الیاس علیہ السلام کا مقام خشکی قیامت تک زندہ رہیں گے،بزرگوں سے ملاقات کرتے ہیں،حضور غوث پاک نے آپ سے فرمایا تھا کہ اے اسرائیلی ولی محمد ولی کی بات سنتے جائیے،آپ نبی ہیں ہر سال حج کے موقعہ پر آپ اور الیاس علیہ السلام جمع ہوتے ہیں،ایک دوسرے کی حجامت کرتے ہیں اور یہ کلام کرتے ہیںبسم الله ماشاءالله لایسوق الخیر الا الله،بسم الله ماشاءالله لا یصرف السوء الا الله،بسم الله ماشاءالله مامن نعمۃ فمن الله،بسم الله ماشاءالله لاحول و لاقوۃ الا بالله۔جو کوئی رات کو سوتے وقت وضو کرکے داہنی کروٹ پر لیٹے اور یہ کلمات پڑھ کر سوئےان شاءاللهولی ہوجائے۔(اشعہ و مرقات)۲؎یعنی اس بچہ کی فطرت یہ تھی کہ یہ کفر اختیار کرتا اور کافرگر بنتا لہذا یہ فرمان عالی اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،اس کی ماں باپ مؤمن تھے وہ اس کی محبت میں خود بھی کافر بن جاتے اس لیے خضر علیہ السلام نے اسے قتل کردیا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ خضر علیہ السلام نبی ہیں کیونکہ ولی اپنے الہام سے بے گناہ بچے کو قتل نہیں کر سکتا نبی کرسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ نبی بہ اعلام الٰہی لوگوں کی سعادت شقاوت کفر و ایمان سے خبردار ہوتے ہیں،یہ علوم خمسہ سے ہے۔خیال رہے کہ ولی اپنے الہام کی بنا پر کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5711