Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5713

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ". قَالَ: "فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا" قَالَ: "فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ فَقَالَ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي". قَالَ: "فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ تَمُوتُ. قَالَ: فَالآنَ مِنْ قَرِيبٍ، رَبِّ أَدْنِنِي مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "جاء ملك الموت إلى موسى بن عمران فقال له: أجب ربك". قال: "فلطم موسى عين ملك الموت ففقأها" قال: "فرجع الملك إلى الله فقال: إنك أرسلتني إلى عبد لك لا يريد الموت وقد فقأ عيني". قال: "فرد الله إليه عينه وقال: ارجع إلى عبدي فقل: الحياة تريد؟ فإن كنت تريد الحياة فضع يدك على متن ثور، فما توارت يدك من شعرة فإنك تعيش بها سنة، قال: ثم مه؟ قال: ثم تموت. قال: فالآن من قريب، رب أدنني من الأرض المقدسة رمية بحجر". قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "والله لو أني عنده لأريتكم قبره إلى جنب الطريق عند الكثيب الأحمر". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حضرت ملک الموت موسیٰ ابن عمران علیہ السلام کے پاس آئے ان سے کہا کہ اپنے رب کا بلاوا قبول کیجئے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کی آنکھ پر طمانچہ مار دیا۲؎اسے نابینا کردیا۳؎فرماتے ہیں کہ پھر وہ فرشتہ رب تعالٰی کی طرف واپس ہوا۴؎عرض کیا کہ تو نے مجھے اپنے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۵؎اور اس نے میری آنکھ بے کار کردی،فرماتے ہیں الله نے ان کی آنکھ انہیں لوٹا دی اور فرمایا میرے بندے کی طرف لوٹو ۶؎ان سے کہو کہ آپ زندگی چاہتے ہیں؟ اگر زندگی چاہتے ہوں تو اپنا ہاتھ بیل کی کھال پر رکھیئے آپ کا ہاتھ جتنے بالوں کو ڈھکے گا آپ ہر بال کے عوض ایک سال جئیں گے۷؎عرض کیا پھر کیا فرمایا پھر آپ وفات پائیں گے ۸؎عرض کیا تو ابھی قریب ہی ہیں۹؎اے میرے رب مجھے مقدس زمین سے ایک پتھر کی پھینک کے قریب گرا دیجئے ۱۰؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الله کی قسم اگر میں اس کے پاس ہوتا تو تم کو ان کی قبر شریف راستہ کے کنارہ سرخ ٹیلہ کے پاس دکھاتا ۱۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی الله کا حکم جو آپ کی موت کے متعلق ہے اسے قبول کیجئے اور اپنے کو موت کے لیے پیش کیجئے۔یہ نبی کی ہی شان ہے ورنہ ملک الموت تو بادشاہوں سے بھی یہ نہیں کہتے،آتے ہیں اور جان نکال کر لے جاتے ہیں۔۲؎آپ نے ملک الموت کو طمانچہ مارا ان کو نبی کا ادب سکھانے کے لیے کوئی شخص نبی سے یہ نہ کہے کہ نماز پڑھ لیجئے،مسجد میں آئیے تو اس میں ایک طرح کا حکم ہے،حضرات انبیاءکرام حاکم ہوتے ہیں کسی بندے کے مامور یا محکوم نہیں ہوتے،نیز نبی تو ہر وقت ہی رب کے مطیع ہوتے ہیں،ان سے کہنا کہ آپ رب کی اطاعت کریں اس کا شائبہ ہے کہ انہیں غیرمطیع مانا۔(مرقات)نبی کا ادب یہ تھاکہ ملک الموت عرض کرتے کہ آپ کو یہاں رہنے اورچلنے کا اختیار ہے اگر اجازت ہو تو میں تعمیل ارشاد کروں،وہ تو الله تعالٰی کی طرف سے موت و حیات کے مختار ہوتے ہیں۔(مرقات)اس طمانچہ کی اور بہت وجہیں بیان کی گئیں ہیں۔۳؎جب فرشتہ شکل انسانی میں آئے تو اس کو انسانی اعضاء دیئے جاتے ہیں،ان کے لیے مختلف شکلیں ایسی ہیں جیسے ہمارے لیے مختلف لباس،حضرت ملک الموت کی یہ ہی بشری آنکھ موسیٰ علیہ السلام کے طمانچہ سے بے کار ہوئی ورنہ ملکی آنکھ کسی طمانچہ وغیرہ سے بے کار نہیں ہوسکتی۔اس سے معلوم ہوا نبی کی طاقت فرشتے کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے۔اس کی تحقیق مرقات میں اسی جگہ ملاحظہ کرو حضرت عزرائیل کو اس آنکھ نکلنے کا درد نہ ہوا جیسے ہمارے لباس پھٹنے سے درد نہیں ہوتا۔۴؎اس کی واپسی بغیر روح موسوی قبض کیے ہوئے ہوئی۔معلوم ہوا کہ ملائکہ حضرات انبیاء کے تابع فرمان ہوتے ہیں مرضی نہ پائی خالی واپس آگئے۔۵؎حضرت ملک الموت طمانچہ مارنے کی وجہ سے یہ ہی سمجھے کہ جناب کلیم الله کو ابھی دنیا میں قیام پسند ہے اپنے خیال سے یہ عرض کیا۔۶؎رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے قصاص نہیں دلوایا کہ استاد سے شاگرد کا،والد سے بیٹے کا،نبی سے امتی کا قصاص نہیں لیا جاتا بلکہ وہاں تو چھوٹا معافی مانگتا ہے۔۷؎یعنی اے ملک الموت تم ان سے اس طرح عرض کرو انہیں اختیار دو آنے کے لیے صیغہ امر عرض نہ کرو،اگر وہ بہت دراز مدت بھی دنیا میں رہنا چاہیں تو منظور ہے۔یہ ہی وجہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام نے طمانچہ مارا کہ وہ حضرات رب کی طرف سے مختار ہوتے ہیں زندگی و موت ان کی اختیاری ہوتی ہے،رب تعالٰی کے اس فرمان میں حضرت ملک الموت کا جواب ہے کہ انہوں نے عرض کیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام مرنا نہیں چاہتے،اے ملک الموت جا کر دیکھ لو کہ تم کو حضرت موسیٰ نے موت سے بچنے کے لیے مارا ہے یا کسی اور وجہ سے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مقبولوں کی دعا بلکہ انکی خواہش سے عمریں بڑھ جاتی ہیں آئی قضا ٹل جاتی ہے،آفتیں دور ہوجاتی ہیں،دیکھو موسیٰ علیہ السلام کی عمر شریف پوری ہوچکی لیکن اگر آپ زندگی چاہتے تو ہزار سال عطا ہوجاتی بلکہ ملک الموت کے اس آنے جانے عرض معروض کرنے کی بقدر قضا ٹلی رہی۔یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوۡنَ"کہ آیت میں اس کی نفی ہے کہ کوئی بغیر مرضی رب محض اپنی مرضی سے موت آگے پیچھے کردے اور یہاں کا ذکر ہے کہ مقبولوں کی مرضی پر رب تعالٰی موت آگے پیچھے کردیتا ہے اس لیے آیۃ کریمہ میںیَسْتَقْدِمُوۡنَاوریَسْتَاۡخِرُوۡنَجمع مذکر ارشاد ہوا۔۸؎مگر وہ وفات بھی ہوگی آپ اختیار سے ہیں۔خیال رہے کہ انبیاء کے لیے بھی موت ضرور ہی آتی ہے مگر وقت موت میں انہیں اختیار ہوتا ہے اور یہ اختیار بھی ہمیشہ کہ جب بھی موت آئے ان کی مرضی سے آئے۔۹؎یعنی مجھے اس گھڑی موت منظور ہے تم کو اس وقت مارنا موت کے خوف سے نہ تھا بلکہ وہ کہلوانے کے لیے تھا جو تم نے اب کہا۔خلاصہ یہ ہے کہ بلاوے تین طرح کے ہوتے ہیں: دعوت خوشی کے لیے بلاوا جسے کہتے ہیں نوید مسرت،دوسرے سمن عدالت میں حاضری کا بلاوا،تیسرے وارنٹ گرفتاری۔کافر کی موت وارنٹ ہے،عام مؤمنوں کی موت سمن ہے،حضرات انبیاء کی موت دعوت خوشی یعنی نوید مسرت ہے،ملک الموت نے نوید مسرت کو سمن کے طور سے پیش کیا یعنی نوید مسرت کو سمن بنادیا کہ کہااجب ربكحاضر بارگاہ ہو اس لیے مارا تھا۔حضرت ملک الموت نے حضور صلی الله علیہ و سلم سے جان شریف قبض کرنے کی اجازت چاہی حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت جبرئیل سے مشورہ کیا،غرضکہ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ رب تعالٰی آپ کا مشتاق ہے،چلیے تب اجازت دی تو انہوں نے قبض روح کیا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سکھا دیا تھا۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جلالی نبی ہیں جب آپ کو غصہ آتا تو سر پر اوڑھی ہوئی ٹوپی جل جاتی تھی۔(اشعہ و مرقات)وہ غضب کی آگ جلائی دکھائی نہیں جاسکتی تھی نور نار سے نہیں جلتا۔۱۰؎نبی جہاں وفات پاتے ہیں وہاں ہی دفن ہوتے ہیں اس لیے آپ نے فرمایا کہ مجھے میری زندگی شریف میں وہاں پہنچادے جو بیت المقدس سے اتنی دور ہو کہ اگر اس شہر کے کنارہ پر کھڑے ہوکر کوئی کنکر پھینکے تو وہاں پہنچ جاوے چنانچہ آپ کو وہاں ہی پہنچادیا گیا وہاں ہی وفات اور دفن واقع ہوئے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جیسے وقت موت میں نبی کو اختیار دیا جاتا ہے ایسے ہی موت کی جگہ میں انہیں اختیارملتا ہے جہاں چاہیں وفات پائیں۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کے مزارات کے پاس دفن ہونا الله کی بڑی نعمت ہے بیت المقدس میں ستر ہزار انبیاء کے مزارات ہیں فقیر نے زیارت کی ہے۔۱۱∞؎اب اس جگہ کا نام موسی کلیم الله ہے،عمان سے بیت المقدس جاتے ہوئے بیت المقدس سے قریب یہ جگہ ہے چھوٹی سی مسجد ہے جس کے داہنے ہاتھ حجرہ میں مزار شریف ہے،فقیر نے اس قبر انور اور اس بستی کی زیارت کی ہے،وہاں نماز پڑھی ہے دیکھو ہمارا سفر نامہ قبلتین۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5713