- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5713
باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5713
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ". قَالَ: "فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا" قَالَ: "فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ فَقَالَ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي". قَالَ: "فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ تَمُوتُ. قَالَ: فَالآنَ مِنْ قَرِيبٍ، رَبِّ أَدْنِنِي مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "جاء ملك الموت إلى موسى بن عمران فقال له: أجب ربك". قال: "فلطم موسى عين ملك الموت ففقأها" قال: "فرجع الملك إلى الله فقال: إنك أرسلتني إلى عبد لك لا يريد الموت وقد فقأ عيني". قال: "فرد الله إليه عينه وقال: ارجع إلى عبدي فقل: الحياة تريد؟ فإن كنت تريد الحياة فضع يدك على متن ثور، فما توارت يدك من شعرة فإنك تعيش بها سنة، قال: ثم مه؟ قال: ثم تموت. قال: فالآن من قريب، رب أدنني من الأرض المقدسة رمية بحجر". قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "والله لو أني عنده لأريتكم قبره إلى جنب الطريق عند الكثيب الأحمر". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حضرت ملک الموت موسیٰ ابن عمران علیہ السلام کے پاس آئے ان سے کہا کہ اپنے رب کا بلاوا قبول کیجئے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کی آنکھ پر طمانچہ مار دیا۲؎اسے نابینا کردیا۳؎فرماتے ہیں کہ پھر وہ فرشتہ رب تعالٰی کی طرف واپس ہوا۴؎عرض کیا کہ تو نے مجھے اپنے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۵؎اور اس نے میری آنکھ بے کار کردی،فرماتے ہیں الله نے ان کی آنکھ انہیں لوٹا دی اور فرمایا میرے بندے کی طرف لوٹو ۶؎ان سے کہو کہ آپ زندگی چاہتے ہیں؟ اگر زندگی چاہتے ہوں تو اپنا ہاتھ بیل کی کھال پر رکھیئے آپ کا ہاتھ جتنے بالوں کو ڈھکے گا آپ ہر بال کے عوض ایک سال جئیں گے۷؎عرض کیا پھر کیا فرمایا پھر آپ وفات پائیں گے ۸؎عرض کیا تو ابھی قریب ہی ہیں۹؎اے میرے رب مجھے مقدس زمین سے ایک پتھر کی پھینک کے قریب گرا دیجئے ۱۰؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الله کی قسم اگر میں اس کے پاس ہوتا تو تم کو ان کی قبر شریف راستہ کے کنارہ سرخ ٹیلہ کے پاس دکھاتا ۱۱∞؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی الله کا حکم جو آپ کی موت کے متعلق ہے اسے قبول کیجئے اور اپنے کو موت کے لیے پیش کیجئے۔یہ نبی کی ہی شان ہے ورنہ ملک الموت تو بادشاہوں سے بھی یہ نہیں کہتے،آتے ہیں اور جان نکال کر لے جاتے ہیں۔۲؎آپ نے ملک الموت کو طمانچہ مارا ان کو نبی کا ادب سکھانے کے لیے کوئی شخص نبی سے یہ نہ کہے کہ نماز پڑھ لیجئے،مسجد میں آئیے تو اس میں ایک طرح کا حکم ہے،حضرات انبیاءکرام حاکم ہوتے ہیں کسی بندے کے مامور یا محکوم نہیں ہوتے،نیز نبی تو ہر وقت ہی رب کے مطیع ہوتے ہیں،ان سے کہنا کہ آپ رب کی اطاعت کریں اس کا شائبہ ہے کہ انہیں غیرمطیع مانا۔(مرقات)نبی کا ادب یہ تھاکہ ملک الموت عرض کرتے کہ آپ کو یہاں رہنے اورچلنے کا اختیار ہے اگر اجازت ہو تو میں تعمیل ارشاد کروں،وہ تو الله تعالٰی کی طرف سے موت و حیات کے مختار ہوتے ہیں۔(مرقات)اس طمانچہ کی اور بہت وجہیں بیان کی گئیں ہیں۔۳؎جب فرشتہ شکل انسانی میں آئے تو اس کو انسانی اعضاء دیئے جاتے ہیں،ان کے لیے مختلف شکلیں ایسی ہیں جیسے ہمارے لیے مختلف لباس،حضرت ملک الموت کی یہ ہی بشری آنکھ موسیٰ علیہ السلام کے طمانچہ سے بے کار ہوئی ورنہ ملکی آنکھ کسی طمانچہ وغیرہ سے بے کار نہیں ہوسکتی۔اس سے معلوم ہوا نبی کی طاقت فرشتے کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے۔اس کی تحقیق مرقات میں اسی جگہ ملاحظہ کرو حضرت عزرائیل کو اس آنکھ نکلنے کا درد نہ ہوا جیسے ہمارے لباس پھٹنے سے درد نہیں ہوتا۔۴؎اس کی واپسی بغیر روح موسوی قبض کیے ہوئے ہوئی۔معلوم ہوا کہ ملائکہ حضرات انبیاء کے تابع فرمان ہوتے ہیں مرضی نہ پائی خالی واپس آگئے۔۵؎حضرت ملک الموت طمانچہ مارنے کی وجہ سے یہ ہی سمجھے کہ جناب کلیم الله کو ابھی دنیا میں قیام پسند ہے اپنے خیال سے یہ عرض کیا۔۶؎رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے قصاص نہیں دلوایا کہ استاد سے شاگرد کا،والد سے بیٹے کا،نبی سے امتی کا قصاص نہیں لیا جاتا بلکہ وہاں تو چھوٹا معافی مانگتا ہے۔۷؎یعنی اے ملک الموت تم ان سے اس طرح عرض کرو انہیں اختیار دو آنے کے لیے صیغہ امر عرض نہ کرو،اگر وہ بہت دراز مدت بھی دنیا میں رہنا چاہیں تو منظور ہے۔یہ ہی وجہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام نے طمانچہ مارا کہ وہ حضرات رب کی طرف سے مختار ہوتے ہیں زندگی و موت ان کی اختیاری ہوتی ہے،رب تعالٰی کے اس فرمان میں حضرت ملک الموت کا جواب ہے کہ انہوں نے عرض کیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام مرنا نہیں چاہتے،اے ملک الموت جا کر دیکھ لو کہ تم کو حضرت موسیٰ نے موت سے بچنے کے لیے مارا ہے یا کسی اور وجہ سے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مقبولوں کی دعا بلکہ انکی خواہش سے عمریں بڑھ جاتی ہیں آئی قضا ٹل جاتی ہے،آفتیں دور ہوجاتی ہیں،دیکھو موسیٰ علیہ السلام کی عمر شریف پوری ہوچکی لیکن اگر آپ زندگی چاہتے تو ہزار سال عطا ہوجاتی بلکہ ملک الموت کے اس آنے جانے عرض معروض کرنے کی بقدر قضا ٹلی رہی۔یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوۡنَ"کہ آیت میں اس کی نفی ہے کہ کوئی بغیر مرضی رب محض اپنی مرضی سے موت آگے پیچھے کردے اور یہاں کا ذکر ہے کہ مقبولوں کی مرضی پر رب تعالٰی موت آگے پیچھے کردیتا ہے اس لیے آیۃ کریمہ میںیَسْتَقْدِمُوۡنَاوریَسْتَاۡخِرُوۡنَجمع مذکر ارشاد ہوا۔۸؎مگر وہ وفات بھی ہوگی آپ اختیار سے ہیں۔خیال رہے کہ انبیاء کے لیے بھی موت ضرور ہی آتی ہے مگر وقت موت میں انہیں اختیار ہوتا ہے اور یہ اختیار بھی ہمیشہ کہ جب بھی موت آئے ان کی مرضی سے آئے۔۹؎یعنی مجھے اس گھڑی موت منظور ہے تم کو اس وقت مارنا موت کے خوف سے نہ تھا بلکہ وہ کہلوانے کے لیے تھا جو تم نے اب کہا۔خلاصہ یہ ہے کہ بلاوے تین طرح کے ہوتے ہیں: دعوت خوشی کے لیے بلاوا جسے کہتے ہیں نوید مسرت،دوسرے سمن عدالت میں حاضری کا بلاوا،تیسرے وارنٹ گرفتاری۔کافر کی موت وارنٹ ہے،عام مؤمنوں کی موت سمن ہے،حضرات انبیاء کی موت دعوت خوشی یعنی نوید مسرت ہے،ملک الموت نے نوید مسرت کو سمن کے طور سے پیش کیا یعنی نوید مسرت کو سمن بنادیا کہ کہااجب ربكحاضر بارگاہ ہو اس لیے مارا تھا۔حضرت ملک الموت نے حضور صلی الله علیہ و سلم سے جان شریف قبض کرنے کی اجازت چاہی حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت جبرئیل سے مشورہ کیا،غرضکہ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ رب تعالٰی آپ کا مشتاق ہے،چلیے تب اجازت دی تو انہوں نے قبض روح کیا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سکھا دیا تھا۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جلالی نبی ہیں جب آپ کو غصہ آتا تو سر پر اوڑھی ہوئی ٹوپی جل جاتی تھی۔(اشعہ و مرقات)وہ غضب کی آگ جلائی دکھائی نہیں جاسکتی تھی نور نار سے نہیں جلتا۔۱۰؎نبی جہاں وفات پاتے ہیں وہاں ہی دفن ہوتے ہیں اس لیے آپ نے فرمایا کہ مجھے میری زندگی شریف میں وہاں پہنچادے جو بیت المقدس سے اتنی دور ہو کہ اگر اس شہر کے کنارہ پر کھڑے ہوکر کوئی کنکر پھینکے تو وہاں پہنچ جاوے چنانچہ آپ کو وہاں ہی پہنچادیا گیا وہاں ہی وفات اور دفن واقع ہوئے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جیسے وقت موت میں نبی کو اختیار دیا جاتا ہے ایسے ہی موت کی جگہ میں انہیں اختیارملتا ہے جہاں چاہیں وفات پائیں۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کے مزارات کے پاس دفن ہونا الله کی بڑی نعمت ہے بیت المقدس میں ستر ہزار انبیاء کے مزارات ہیں فقیر نے زیارت کی ہے۔۱۱∞؎اب اس جگہ کا نام موسی کلیم الله ہے،عمان سے بیت المقدس جاتے ہوئے بیت المقدس سے قریب یہ جگہ ہے چھوٹی سی مسجد ہے جس کے داہنے ہاتھ حجرہ میں مزار شریف ہے،فقیر نے اس قبر انور اور اس بستی کی زیارت کی ہے،وہاں نماز پڑھی ہے دیکھو ہمارا سفر نامہ قبلتین۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5713