Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5705

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى} وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "نحن أحق بالشك من إبراهيم إذ قال: {رب أرني كيف تحي الموتى} ويرحم الله لوطا، لقد كان يأوي إلى ركن شديد، ولو لبثت في السجن طول ما لبث يوسف لأجبت الداعي". متفق عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہم حضرت ابراہیم سے زیادہ حق دار ہیں شک کرنے کے جب کہ انہوں نے عرض کیا یارب مجھے دکھادے کہ تو مردے کیسے زندہ کرے گا ۱∞؎اور الله لوط پر رحم کرے وہ تو بڑے مضبوط پائے کی طرف پناہ لیے ہوئے۲؎اور اگر میں اتنی دراز مدت ٹھہرتا جتنا یوسف علیہ السلام ٹھہرے تو بلانے والے کی بات قبول کر لیتا۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ابراہیم علیہ السلام نے جو عرض کیا تھا"اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی"یہ علم الیقین سے عین الیقین کی طرف ترقی کرنے کے لیے تھا نہ اس لیے کہ آپ کو قیامت میں مردے زندہ کرنے میں شک تھا اگر ا نہیں شک ہوتا تو ہم کو ضرور شک ہوتا کہ ہم ان کی اولاد میں ہیںالولد سر لابیہ۔ہم کو تو شک ہے ہی نہیں تو انہیں شک کیسے ہوسکتا ہے میری امت معصوم نہیں اور حضرت ابراہیم معصوم ہیں۔۲؎یہ حضرت لوط علیہ السلام کی غیبت یا ان پر طعن نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ ہیں نبی اور انہوں نے اپنی پشت پناہ قوی ہونے کی آرزو کی تو معلو م ہوا کہ یہ عمل اور یہ آرزو کرنا جائز ہے کہ انسان مصیبت کے موقعہ پر اپنے عزیزوں قرابت داروں کی پناہ لے۔(مرقات)اگرچہ مضبوط پشت پناہ سب کا رب تعالٰی ہے نبی کا عمل جواز کی دلیل ہے،جب فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں آپ کے ہاں مہمان ہوئے اور بدکار قوم نے آپ کا گھر گھیر لیا تو آپ نے فرمایا"لَوْ اَنَّ لِیۡ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیۡدٍ"کاش کہ مجھ میں تمہارے مقابلہ کی طاقت ہوتی یا کوئی مضبوط طاقتور میرا پشت پناہ ہوتا تو میں تمہارا مقابلہ کرتا یا کرواتا،حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان کی پناہ رب تھا پھر بھی آپ نے یہ فرمایا۔معلوم ہوا کہ مخلوق کا سہارا لینا جائز ہے سنت نبی ہے جیسے یوسف علیہ السلام نے اس قیدی سے کہا تھا"اذْکُرْنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ"اپنے بادشاہ سے میری مظلومیت کی داستان کہہ دینا۔معلوم ہوا کہ کافر حاکم سے داد خواہی جائز ہے سنت یوسف علیہ السلام ہے اگرچہ الله کے فضل سے آپ اس کافر بادشاہ کے احسان مند ہوکر جیل سے نہ نکلے بلکہ اس پر احسان کرکے نکلے رب نے آپ کی شان بالا رکھی۔بعض شارحین نےرکن شدیدسے مراد لوط علیہ السلام کی قوم ہی لی ہے یعنی ان کی قوم طاقتور تھی اور آپ کو ان کی حمایت حاصل تھی،دیکھو شعیب علیہ السلام کو ان کی قوم سے قوت دی کہ کفار نے کہا "لَوْ لَا رَہۡطُکَ لَرَجَمْنٰکَ"حضور کو جناب ابو طالب سے قوت دی کہ فرمایا:"اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی(مرقات)۳؎یعنی یوسف علیہ السلام نو سال یا بارہ سال جیل میں رہے مگر شاہ مصر کا قاصد آپ کو بادشاہ کی طرف سے بلانے آیا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے میری پاکدامنی کی تحقیق کرلو پھر میں جیل سے باہر نکلوں گا،یہ آپ کا اتنہائی صبر ہے،اگر ان کی جگہ جیل میں ہم اتنا رہتے تو ضرور پہلی ہی دعوت پر ہم جیل سے باہر آتے یہ حضور انور کی انتہائی تواضع ہے ورنہ حضور انو ر کا صبر یوسف علیہ السلام سے کہیں زیادہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ آپ کو پہلی دعوت پر ہی جیل سے باہر نکل آنا چاہیے تھا تاکہ تبلیغ نبوت جلد شروع ہوجاتی اگر ہم وہاں ہوتے تو پہلی دعوت پر باہر آکر تبلیغ شروع فرمادیتے۔(مرقات)مگر پہلی توجیہ قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5705