Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5732

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَذُرَّيَتَهُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ! خَلَقْتَهُمْ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَنْكِحُونَ وَيَرْكَبُونَ، فَاجْعَلْ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الآخِرَةَ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَا أَجْعَلُ مَنْ خَلَقْتُهُ بِيَدَيَّ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي كَمَنْ قُلْتُ لَهُ: كُنْ، فَكَانَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن جابر أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "لما خلق الله آدم وذريته قالت الملائكة: يا رب! خلقتهم يأكلون ويشربون وينكحون ويركبون، فاجعل لهم الدنيا ولنا الآخرة. قال الله تعالى: لا أجعل من خلقته بيدي ونفخت فيه من روحي كمن قلت له: كن، فكان". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ الله نے حضرت آدم اور ان کی اولاد کو پیدا کیا تو فرشتے بولے یارب تو نے انہیں پیدا فرمایا کہ وہ کھائیں گے پئیں گے،نکاح کریں گے،سوار ہوں گے ۱∞؎تو ان کے لیے دنیا کردے اور ہمارے لیے آخرت ۲؎الله تعالٰی نے فرمایا کہ جسے میں نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور جس میں میں نے اپنی روح پھونکی اسے اس مخلوق کی طرح نہ کروں گا جس سے میں نے کہا ہو جا وہ ہوگئی۳؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اولاد آدم گھر میں رہ کر بھی دنیا میں مشغول رہیں گے اور خشکی دریا کی سواریوں میں سفر کرکے بھی دنیا میں مشغول رہیں گے دنیا انہیں چمٹی رہے گی اور واقعی ٹھیک کہا۔معلوم ہوا کہ فرشتوں کو بھی رب تعالٰی نے علوم غیبیہ بخشے کہ وہ لوگوں کے آئندہ حالات کی خبر رکھتے ہیں،دیکھ لو جو فرشتوں نے ہمارے متعلق کہا تھا ہم ویسے ہی ہیں۔۲؎یعنی ہم دنیاوی یہ مذکورہ کام نہیں کرتے صرف تیری یاد ہماری زندگی ہے"وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ"لہذا تو انسانوں کو دنیا میں ہمیشہ رکھ اور انہیں وہاں کی نعمتیں ہمیشہ دے ہم کو یہاں ہمیشہ رکھ یہاں کی نعمتیں ہمیشہ دے،ایسا نہ ہو کہ ان کو تو دونوں جہاں کی نعمتیں دے اور ہم ان سب سے محروم رہیں لہذا یہ آدمیوں کے لیے بددعا یا بدخواہی نہیں بلکہ ان کی بھی خیر خواہی ہے اور اپنے لیے دعا بھی ہے۔۳؎یعنی اے فرشتو میرے ظاہری و باطنی کمالات کا مظہر انسان ہے جیسے تم کو میں نے صرفکنفرماکر پیدا کیا ایک آن میں اور انسان یعنی حضرت آدم کا خمیر عرصہ تک تیار کیا گیا،پھر عرصہ تک اسے سکھایا گیا،میں نے اپنے دستِ قدرت سے اس کی شکل بنائی اور اسے ظاہری خوبیوں سے آراستہ کیا،پھر اس میں اپنی خاص روح پھونکی جس سے وہ باطنی خوبی کا حامل ہوگیا۔انسان مادہ اور مجرد دونوں کا معجون مرکب ہے،تم بذات خود معصوم ہو لہذا دوزخ سے محفوظ اور جنت سے محروم ہو،انسان طاقت اور غصے سے مخلوط ہے،عطایا اور بلایا مشحون ہے لہذا وہ ثواب و عذاب کا مستحق ہے۔یہ حدیث پاک ان حضرات کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ بشر فرشتہ سے افضل ہے،یہ ہی اہلسنت کا مذہب ہے۔فرشتوں کے کمالات انسان پر موقوف ہیں فرشے انسان ہی کے ذریعہ حامل وحی،مجاہد غازی سب کچھ ہے،جنس بشریت جنس ملکیت سے افضل ہے اگرچہ بعض افراد ملک انسان کے بعض افراد سے افضل ہیں جیساکہ آگےآرہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5732