Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5714

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "عُرِضَ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، ورأيتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَن رأيتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ -يَعْنِي نَفْسَهُ-، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "عرض علي الأنبياء فإذا موسى ضرب من الرجال، كأنه من رجال شنوءة، ورأيت عيسى بن مريم فإذا أقرب من رأيت به شبها عروة بن مسعود، ورأيت إبراهيم فإذا أقرب من رأيت به شبها صاحبكم -يعني نفسه-، ورأيت جبريل فإذا أقرب من رأيت به شبها دحية بن خليفة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا مجھے انبیاءکرام پیش کیے گئے ۱∞؎تو موسیٰ علیہ السلام مردوں میں درمیانہ قد ہیں گویا کہ وہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہیں۲؎اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو جن کو ہم نے دیکھا ہے ان میں قریب ترین مشابہت والے عروہ ابن مسعود ہیں۳؎اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو جنہیں میں نے دیکھا ہے ان میں قریب ترین مشابہت والے تمہارے یہ صاحب ہیں یعنی حضور کی ذات شریف۴؎اور میں نے جبرئیل کو دیکھا تو جسے میں نے دیکھا ان میں قریب ترین مشابہت والا دحیہ ابن خلیفہ ہیں۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ شبِ معراج کا ہے کہ بیت المقدس میں بھی اور آسمان پر بھی حضور صلی الله علیہ و سلم نے سارے نبیوں سے ملاقات کی،رب فرماتاہے:"فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرْیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ۲؎شنوءہ یمن میں ایک مشہور قبیلہ ہے جس کے لوگ بہت خوبصورت اور خوش اخلاق ہوتے ہیں،موسیٰ علیہ السلام کا حسن صورۃً بتانے کے لیے حضور نے ان کا ذکر فرمایا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم ہر نبی کے مقام ان کی قبور سے بھی خبردار ہیں اور تمام نبیوں سے ملاقات کی ہے انہیں جانتے پہچانتے ہیں۔۳؎بعض شارحین نے سمجھا کہ یہ عروہ بھائی ہیں حضرت عبدالله ابن مسعود کے یہ غلط ہے،یہ مسعود دوسرے ہیں جن کے بیٹے عروہ ہیں،آپ صحابی ثقفی ہیں،جب حضور انور طائف کی فتح سے مدینہ منورہ واپس ہوئے تو آپ مدینہ منورہ آکر مسلمان ہوئے پھر اپنی کافر قوم کو اسلام کی دعوت دی،آپ نے اپنی گھر کی چھت پر کھڑے ہوکر بہ آواز بلند اذان دینے لگے کسی نے اسی حالت میں آپ کو تیر مارا جس سے آپ اذان دیتے ہوئے شہید ہوئے،حضور انور نے فرمایا کہ یہ اس اسرائیلی مؤمن کی طرح ہیں جو گزشتہ زمانہ میں اپنی قوم کو تبلیغ کرتے ہوئے شہید کیا گیا تھا۔(اشعہ)یہ بہت حسین تھے۔۴؎یعنی میں بالکل حضرت ابراہیم کی ہم شکل ہوں جو انہیں دیکھنا چاہے وہ مجھے دیکھ لے،حضور سیرت طیبہ طاہرہ میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتے جلتے تھے۔۵؎دحیہ ابن خلیفہ کلبی بڑے مشہور صحابی ہیں،بہت ہی حسین و جمیل تھے،اکثر جبریل امین آپ کی شکل میں حاضر ہوتے تھے،حضرات صحابہ سمجھتے تھے کہ دحیہ کلبی آئے جبریل جب شکل انسانی میں آتے تو اس شکل میں آتے تھے،ان کی اپنی شکل و صورت تو ایسی ہے کہ کسی میں انکے دیکھنے کی تاب نہیں حضور انور نے صرف دوبار آپ کو اصلی شکل میں دیکھا جیساکہ روایات میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5714