- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5726
باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5726
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: زَعَمَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- جَالِسٌ فِيهِمْ، فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرُوا إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟ ". قَالُوا: السَّحَابَ. قَالَ: "وَالْمُزْنَ؟ " قَالُوا: وَالْمُزْنَ. قَالَ: "وَالْعَنَانَ؟ " قَالُوا: وَالْعَنَانَ. قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ؟ " قَالُوا: لَا نَدْرِي،قَالَ: "إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا إِمَّا وَاحِدَةٌ وَإِمَّا اثْنَتَانِ أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، وَالسَّمَاءُ الَّتِي فَوْقَهَا كَذَلِكَ" حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ. ثُمَّ "فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ، بَيْنَ أَظْلَافِهِنَّ وَوُرُكِهِنَّ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ الْعَرْشُ، بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
وعن العباس بن عبد المطلب: زعم أنه كان جالسا في البطحاء في عصابة ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- جالس فيهم، فمرت سحابة، فنظروا إليها، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما تسمون هذه؟ ". قالوا: السحاب. قال: "والمزن؟ " قالوا: والمزن. قال: "والعنان؟ " قالوا: والعنان. قال: "هل تدرون ما بعد ما بين السماء والأرض؟ " قالوا: لا ندري،قال: "إن بعد ما بينهما إما واحدة وإما اثنتان أو ثلاث وسبعون سنة، والسماء التي فوقها كذلك" حتى عد سبع سماوات. ثم "فوق السماء السابعة بحر بين أعلاه وأسفله كما بين سماء إلى سماء، ثم فوق ذلك ثمانية أوعال، بين أظلافهن ووركهن مثل ما بين سماء إلى سماء، ثم على ظهورهن العرش، بين أسفله وأعلاه ما بين سماء إلى سماء، ثم الله فوق ذلك". رواه الترمذي وأبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عباس ابن عبدالمطلب سے فرماتے ہیں کہ وہ بطحاء میں ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے ۱∞؎اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم ان میں بیٹھے تھے کہ ایک بادل گزرا لوگوں نے اس کی طرف دیکھا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تم اس کا نام کیا رکھتے ہو۲؎لوگوں نے عرض کیا سحاب،فرمایا اور مزن بھی عرض کیا مزن بھی فرمایا اور عنان بھی،عرض کیا اور عنان بھی۳؎فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آسمان و ز مین کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہم نہیں جانتے،فرمایا ان کے درمیان فاصلہ اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا۴؎اور جو آسمان اس کے اوپر ہے وہ بھی ایسا ہی ہے حتی کہ آپ نے سات آسمان گنائے ۵؎پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک دریا ہے جسکے اوپر اور نیچے حصے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۶؎پھر اس کے اوپر آٹھ بکرے ہیں۷؎جن کے کھروں اور سیرین کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۸؎پھر ان کی پیٹھوں پر عرش ہے جس کے نیچے اور اوپر کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک ہے۹؎پھر الله اس کے اوپر ہے۱۰؎(ترمذی، ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎بطحا کے لفظی معنی ہیں پتھریلی یا کنکریلی نشیبی زمین جہاں سیلاب کی گزر گاہ ہو،اب مکہ معظمہ کے قریب جنت معلی کے پاس ایک جنگل کا نام ہے،مکہ معظمہ کو بھی بطحایا ابطح کہتے ہیں،اسی وجہ سے حضورصلی الله علیہ و سلم کا لقب ہے رسول البطحیٰ۔غالبًا یہ جماعت مسلمانوں کی نہ تھی،اس وقت حضرت عباس بھی مسلمان نہ ہوئے تھے۔(اشعہ)مگر ایک قول یہ ہے کہ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد کا ہے اور یہ جماعت مؤمنین کی تھی،حضرت عباس بھی مسلمان ہوچکے تھے۔(مرقات)والله ورسولہ اعلم!۲؎حضور انور کا ان سے یہ پوچھنا اگلے کلام کی تمہید ہے جیسے رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے پہلے یہ پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے پھر اگلا کلام فرمایا۔۳؎حضور صلی الله علیہ و سلم لغات کے بادشاہ ہیں۔مطلب یہ ہے کہ عربی میں بادل کے تین نام ہیں:سحاب،مزن،عنان یا تو بادل کے یہ تین نام ہیں،یا مزن وہ سفید بادل جو پانی کو روک نہ سکے ضرور برسے،عنان بھورا بادل اور سحاب ہر بادل۔(مرقات)اس کلام مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بادل کے یہ تین نام ہیں کیونکہ حضور انور نے اس دیکھے ہوئے بادل کے یہ تین نام ارشاد فرمائے۔۴؎یہ شک راوی کا ہے۔خیال رہے کہ ایسے موقعہ پر ستر وغیرہ کے معنی ہوتے ہیں بے شمار یا بہت زیادہ لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے کہ یہاں کا یہ فرمان بمعنی تکثیر ہے نہ کہ حدبندی کے لیے۔۵؎یعنی اتنے اتنے فاصلہ پر سات آسمان واقع ہیں فلاسفہ نو آسمان مانتے ہیں وہ کرسی اور عرش کو آسمان ہی کہتے ہیں مگر جھوٹے ہیں،قرآن کریم نے بھی آسمان سات ہی ارشاد فرمائے ہیں۔موجودہ سائنس آسمان کے وجود ہی کا انکار کرتی ہے مگر جھوٹی ہے آسمان ہیں اور سات ہیں انہیں نظر آئیں یا نہ آئیں انہیں ملیں یا نہ ملیں۔۶؎یعنی ساتوں آسمانوں کے اوپر صاف اور جاری پانی کا ذخائر دریا ہے جس کی گہرائی اتنی ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ،رب جانے کہ وہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جارہا ہے۔اس حدیث کی تائید وہ حدیث کرتی ہے کہ الله تعالٰی نے عرش کے نیچے ایک نہایت گہرا دریا پیدا فرمایا۔۷؎اوعالجمع ہےوعلکی،وعل کہتے ہیں پہاڑی بکرے کو یہ فرشتے حاملین عرش ہیں جو بکرے کی شکل میں ہیں،یہ ہی فرشتے مؤمنین انسانوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔۸؎یعنی وہ فرشتے جن کی پشت پر عرش اعظم ہے جو بکروں کی شکل میں ہیں،ان کی عظمت اور جسامت کا یہ حال ہے کہ ان کے کھر سے لے کر چوتڑوں تک اتنا عظیم الشان فاصلہ ہے جب ان کی ٹانگیں اتنی بڑی ہیں تو سمجھ لو کہ بقیہ جسم کتنا ہوگا وہ تو ہماری عقل سے وراء ہے۔۹؎یعنی عرش اعظم کا دل اس کی موٹائی اتنی ہے کہ اس کی اوپر اور نیچے کی سطحوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے۔۱۰؎یہاں فوقیت سے مراد جسمانی فوقیت نہیں نہ مکانی بلندی ہے بلکہ عظمت و قدرت کی بلندی مراد ہے یعنی الله تعالٰی کی عظمت و قدرت عرش اعظم سے بھی اوپر ہے۔مقصود یہ ہے کہ یہ بت جو زمین پر مارے مارے پھررہے ہیں عبادت کے لائق نہیں،عبادت کے لائق وہ رب ہے جس کی عظمت کا یہ حال ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5726