Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5726

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: زَعَمَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- جَالِسٌ فِيهِمْ، فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرُوا إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟ ". قَالُوا: السَّحَابَ. قَالَ: "وَالْمُزْنَ؟ " قَالُوا: وَالْمُزْنَ. قَالَ: "وَالْعَنَانَ؟ " قَالُوا: وَالْعَنَانَ. قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ؟ " قَالُوا: لَا نَدْرِي،قَالَ: "إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا إِمَّا وَاحِدَةٌ وَإِمَّا اثْنَتَانِ أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، وَالسَّمَاءُ الَّتِي فَوْقَهَا كَذَلِكَ" حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ. ثُمَّ "فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ، بَيْنَ أَظْلَافِهِنَّ وَوُرُكِهِنَّ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ الْعَرْشُ، بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن العباس بن عبد المطلب: زعم أنه كان جالسا في البطحاء في عصابة ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- جالس فيهم، فمرت سحابة، فنظروا إليها، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما تسمون هذه؟ ". قالوا: السحاب. قال: "والمزن؟ " قالوا: والمزن. قال: "والعنان؟ " قالوا: والعنان. قال: "هل تدرون ما بعد ما بين السماء والأرض؟ " قالوا: لا ندري،قال: "إن بعد ما بينهما إما واحدة وإما اثنتان أو ثلاث وسبعون سنة، والسماء التي فوقها كذلك" حتى عد سبع سماوات. ثم "فوق السماء السابعة بحر بين أعلاه وأسفله كما بين سماء إلى سماء، ثم فوق ذلك ثمانية أوعال، بين أظلافهن ووركهن مثل ما بين سماء إلى سماء، ثم على ظهورهن العرش، بين أسفله وأعلاه ما بين سماء إلى سماء، ثم الله فوق ذلك". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عباس ابن عبدالمطلب سے فرماتے ہیں کہ وہ بطحاء میں ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے ۱∞؎اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم ان میں بیٹھے تھے کہ ایک بادل گزرا لوگوں نے اس کی طرف دیکھا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تم اس کا نام کیا رکھتے ہو۲؎لوگوں نے عرض کیا سحاب،فرمایا اور مزن بھی عرض کیا مزن بھی فرمایا اور عنان بھی،عرض کیا اور عنان بھی۳؎فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آسمان و ز مین کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہم نہیں جانتے،فرمایا ان کے درمیان فاصلہ اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا۴؎اور جو آسمان اس کے اوپر ہے وہ بھی ایسا ہی ہے حتی کہ آپ نے سات آسمان گنائے ۵؎پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک دریا ہے جسکے اوپر اور نیچے حصے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۶؎پھر اس کے اوپر آٹھ بکرے ہیں۷؎جن کے کھروں اور سیرین کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۸؎پھر ان کی پیٹھوں پر عرش ہے جس کے نیچے اور اوپر کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک ہے۹؎پھر الله اس کے اوپر ہے۱۰؎(ترمذی، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎بطحا کے لفظی معنی ہیں پتھریلی یا کنکریلی نشیبی زمین جہاں سیلاب کی گزر گاہ ہو،اب مکہ معظمہ کے قریب جنت معلی کے پاس ایک جنگل کا نام ہے،مکہ معظمہ کو بھی بطحایا ابطح کہتے ہیں،اسی وجہ سے حضورصلی الله علیہ و سلم کا لقب ہے رسول البطحیٰ۔غالبًا یہ جماعت مسلمانوں کی نہ تھی،اس وقت حضرت عباس بھی مسلمان نہ ہوئے تھے۔(اشعہ)مگر ایک قول یہ ہے کہ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد کا ہے اور یہ جماعت مؤمنین کی تھی،حضرت عباس بھی مسلمان ہوچکے تھے۔(مرقات)والله ورسولہ اعلم!۲؎حضور انور کا ان سے یہ پوچھنا اگلے کلام کی تمہید ہے جیسے رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے پہلے یہ پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے پھر اگلا کلام فرمایا۔۳؎حضور صلی الله علیہ و سلم لغات کے بادشاہ ہیں۔مطلب یہ ہے کہ عربی میں بادل کے تین نام ہیں:سحاب،مزن،عنان یا تو بادل کے یہ تین نام ہیں،یا مزن وہ سفید بادل جو پانی کو روک نہ سکے ضرور برسے،عنان بھورا بادل اور سحاب ہر بادل۔(مرقات)اس کلام مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بادل کے یہ تین نام ہیں کیونکہ حضور انور نے اس دیکھے ہوئے بادل کے یہ تین نام ارشاد فرمائے۔۴؎یہ شک راوی کا ہے۔خیال رہے کہ ایسے موقعہ پر ستر وغیرہ کے معنی ہوتے ہیں بے شمار یا بہت زیادہ لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے کہ یہاں کا یہ فرمان بمعنی تکثیر ہے نہ کہ حدبندی کے لیے۔۵؎یعنی اتنے اتنے فاصلہ پر سات آسمان واقع ہیں فلاسفہ نو آسمان مانتے ہیں وہ کرسی اور عرش کو آسمان ہی کہتے ہیں مگر جھوٹے ہیں،قرآن کریم نے بھی آسمان سات ہی ارشاد فرمائے ہیں۔موجودہ سائنس آسمان کے وجود ہی کا انکار کرتی ہے مگر جھوٹی ہے آسمان ہیں اور سات ہیں انہیں نظر آئیں یا نہ آئیں انہیں ملیں یا نہ ملیں۔۶؎یعنی ساتوں آسمانوں کے اوپر صاف اور جاری پانی کا ذخائر دریا ہے جس کی گہرائی اتنی ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ،رب جانے کہ وہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جارہا ہے۔اس حدیث کی تائید وہ حدیث کرتی ہے کہ الله تعالٰی نے عرش کے نیچے ایک نہایت گہرا دریا پیدا فرمایا۔۷؎اوعالجمع ہےوعلکی،وعل کہتے ہیں پہاڑی بکرے کو یہ فرشتے حاملین عرش ہیں جو بکرے کی شکل میں ہیں،یہ ہی فرشتے مؤمنین انسانوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔۸؎یعنی وہ فرشتے جن کی پشت پر عرش اعظم ہے جو بکروں کی شکل میں ہیں،ان کی عظمت اور جسامت کا یہ حال ہے کہ ان کے کھر سے لے کر چوتڑوں تک اتنا عظیم الشان فاصلہ ہے جب ان کی ٹانگیں اتنی بڑی ہیں تو سمجھ لو کہ بقیہ جسم کتنا ہوگا وہ تو ہماری عقل سے وراء ہے۔۹؎یعنی عرش اعظم کا دل اس کی موٹائی اتنی ہے کہ اس کی اوپر اور نیچے کی سطحوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے۔۱۰؎یہاں فوقیت سے مراد جسمانی فوقیت نہیں نہ مکانی بلندی ہے بلکہ عظمت و قدرت کی بلندی مراد ہے یعنی الله تعالٰی کی عظمت و قدرت عرش اعظم سے بھی اوپر ہے۔مقصود یہ ہے کہ یہ بت جو زمین پر مارے مارے پھررہے ہیں عبادت کے لائق نہیں،عبادت کے لائق وہ رب ہے جس کی عظمت کا یہ حال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5726