Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5720

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "قَالَ سُلَيْمَانُ: لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً -وَفِي رِوَايَةٍ: بِمِئَةِ امْرَأَةٍ- كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "قال سليمان: لأطوفن الليلة على تسعين امرأة -وفي رواية: بمئة امرأة- كلهن يأتي بفارس يجاهد في سبيل الله. فقال له الملك: قل إن شاء الله. فلم يقل ونسي، فطاف عليهن، فلم تحمل منهن إلا امرأة واحدة جاءت بشق رجل، وأيم الذي نفس محمد بيده لو قال: إن شاء الله لجاهدوا في سبيل الله فرسانا أجمعون". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی الله علیہ و سلم نے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں آج رات نوے بیویوں پر چکر لگاؤں گا،ایک روایت میں ہے کہ سو بیویوں پر ۱∞؎وہ تمام ایک سوار جنیں گی جو الله کی راہ میں جہاد کرے گا۲؎ان سے فرشتے نے کہاان شاءاللهکہہ لیجئے مگر وہ نہ کہہ سکے بھول گئے۳؎چنانچہ آپ نے ان سب پر چکر لگایا۴؎تو ان میں سے کوئی حاملہ نہ ہوئی سواء ایک عورت کے جو آدمی کی ایک کروٹ لائی اس کی قسم جس کے قبضہ میں حضور محمد کی جان ہے اگر وہان شاءاﷲکہہ لیتے تو وہ سب الله کی راہ میں سوار ہوکر جہاد کرتے۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس وقت آپ کی بیویاں ننانوے تھیں لہذا یہاں سو سے مراد قریبًا سو ہیں،بعض روایات میں ساٹھ اور ستر بھی ہے کیونکہ بیویاں ساٹھ یا ستر تھیں باقی لونڈیاں تھیں،آپ کی کل بیویاں لونڈیاں ایک ہزار تھیں۔۲؎معلوم ہوا کہ دین کی خدمت کے لیے اولاد چاہنا اختیارکرنا سنت انبیاء ہے محض گھر کی رونق اور اپنی خدمت کی نیت نہ کرے۔۳؎آپ کی یہ بھول بھی رب تعالٰی کی طرف سے تھی تاکہ دنیا کے لیے مثال قائم ہوجاوے کہان شاءاﷲنہ کہنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے،ان حضرات کی بھول میں رب کی حکمتیں ہوتی ہیں۔فرشتے سے مراد الہام والا فرشتہ ہے یا آپ کے ساتھ رہنے والا فرشتہ۔۴؎یعنی ایک شب میں ان سب سے صحبت کی اس میں آپ کے دو معجزے ہیں: ایک تو جماع کی اتنی طاقت کہ قریبًا سو بیویوں سے صحبت کی۔دوسرے ایک رات میں اتنی صحبتیں ہوجانا تھوڑے وقت میں زیادہ کام۔۵؎یعنی وہ سب بیویاں حا ملہ ہوتیں جو حاملہ ہوتی سب کے لڑے پیدا ہوتے زندہ رہتے اور راہِ خدا میں جہاد کرتے۔اس سے معلوم ہوا کہ کسی کام میں اپنے پر بھروسہ نہ کرے رب تعالٰی پر توکل کرے توان شاءاﷲکامیابی ہوتی ہے،آئندہ کام پران شاءاﷲضرور کہے اور گزشتہ کام پران شاءاﷲکہنا برکت کے لیے درست ہے جیسےان شاءاﷲمیں مسلمان ہوں یعنی الله کے فضل سے میں مؤمن ہوچکا ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5720