Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5718

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقُرْآنُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَوَابِّهِ فَتُسْرَجُ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَوَابُّهُ، وَلَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدَيهِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "خفف على داود القرآن، فكان يأمر بدوابه فتسرج، فيقرأ القرآن قبل أن تسرج دوابه، ولا يأكل إلا من عمل يديه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام پر قرآن آسان کیا گیا ۱∞؎تو آپ اپنے گھوڑے کا حکم دیتے تھے اس کی زین لگائی جاتی تھی تو آپ گھوڑے کے زین لگائے جانے سے پہلے قرآن پڑھ لیتے تھے ۲؎اور نہ کھاتے تھے مگر اپنے ہاتھ کے کام سے۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں قرآن لغوی معنی میں ہے بمعنی پڑھی ہوئی کتاب اور اس سے مراد زبور شریف ہے،رب فرماتا ہے:"وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہۡجُوۡرًا۲؎جیسے طی الارض کرامت یا معجزہ ہے ویسے ہی طی الوقت بھی معجزہ و کرامت ہے کہ تھوڑے وقت میں زیادہ کام ہوجاوے یہ عقل سے وراء چیز ہے۔معراج میں حضور کے لیے وقت اور جگہ دونوں چیزیں سمیٹ دی گئیں،حضرت علی رضی الله عنہ گھوڑے کی رکاب میں ایک پاؤں رکھتے وقت قرآن مجید شروع کرتے تھے اور دوسرے قدم رکھتے وقت تک پورا قرآن ختم کرلیتے تھے ایک ایک لفظ صاف صاف سمجھا جاسکتا تھا۔(مرقات و اشعۃ اللمعات)۳؎حضرت داؤد علیہ السلام لوہے کا کام کرتے تھے،لوہا ان کے لیے نرم کردیا گیا تھا جس طرح چاہتے اسے موڑ لیتے تھے اس کی اجرت پر گزارہ فرماتے تھے حالانکہ آپ بادشاہ تھے علیہ الصلوۃ والسلام۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5718