Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5655

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا". وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: "إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا"، ثُمَّ قَرَأَ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [طه: 130]. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن جرير بن عبد الله قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنكم سترون ربكم عيانا". وفي رواية: قال: كنا جلوسا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فنظر إلى القمر ليلة البدر، فقال: "إنكم سترون ربكم كما ترون هذا القمر، لا تضامون في رؤيته، فإن استطعتم أن لا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس وقبل غروبها فافعلوا"، ثم قرأ: {وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها} [طه: 130]. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جریر ابن عبدالله سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تم اپنے رب کو ظاہر ظہور دیکھو گے ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس بیٹھے تھے کہ حضور انور نے چودھویں شب میں چاند کو دیکھا ۲؎پھر فرمایا کہ تم اپنے رب کو ایسے دیکھو گے جیسے چاند کو دیکھ رہے ہو تم اس کے دیکھنے میں شک نہیں کرتے۳؎تو اگر تم یہ کر سکو کہ سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلی والی نماز پر مغلوب نہ ہو تو کرو۴؎پھرحضور نے یہ قراءت کی سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح کرو اس کی حمد کے ساتھ ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث عامۃ المسلمین کی دلیل ہے کہ مؤمن رب تعالٰی کو محشر میں بھی آنکھوں سے دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیکھا کریں گے، خوارج اور معتزلہ اس کے منکر ہیں،یہ حدیث ان کی سخت تردید کررہی ہے اس پر سوالات وجوابات علم کلام کی کتب میں تفصیل وار مذکور ہیں۔خیال رہے کہ یہ دیدار بغیر کسی جہت و سمت کے ہوگا کیونکہ الله تعالٰی جہت و سمت سے پاک ہے۔۲؎یعنی رحمان کے چاند نے آسمان کے چاند کو دیکھا ڈوبنے والے گہنے چاند کو اس چاند نے دیکھا جو نہ غروب ہو نہ گہنے،ظاہر کے چمکانے والے چاند کو اس چاند نے دیکھا جو دل و جان روح و ایمان کو چمکاتا ہے،رات میں چمکنے والے چاند کو اس چاند نے دیکھا جو ابدالآباد تک ہر وقت دن رات چمکتا ہے اور چمکے گا میں کیا کہوں مجھے الفاظ بھی نہیں ملتےاللھم صل وسلم وبارك علی بدر النبوۃ وشمس الرسالۃصلی الله علیہ وسلم۔یوں کہہ لو کہ اس چاند کو جو سورج سے چمکتا ہے اس چاند نے دیکھا جو سورج کو چمکاتا ہے جو دلوں پر دن نکال دیتا ہے۔شعر
پاشمس نظرت الی لیلی چوبہ طیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھل جھل جگ میں رچی موری شب نے نہ دن ہونا جانا
چاند بھی خوش نصیب ہے جسے محبوب نے دیکھا یہ چاند وہ ہی ہے جس پر حضور صلی الله علیہ وسلم کی نگاہیں پڑی ہیں۔
۳؎لاتضامونیا تو بنا ہےضیمسے بمعنی ظلم و نقصان تو میم پر پیش ہے شد نہیں یا بنا ہےضمسے بمعنی ملنا بھیڑکرنا تب میم پر شد اور پیش ہے یعنی تم دیدارِ الٰہی میں نقصان میں نہ رہو گے کہ کسی کو دیدار ہو کسی کو نہ ہو،کسی کو یقین سے ہو کسی کو مشکوک طریقہ سے یا تم رب تعالٰی کو بھیڑ کرکے دشواری سے نہ دیکھو گے بلکہ آرام سے دیکھو گے اطمینان کے ساتھ۔(اشعہ،مرقات)یہ دیدار قیامت میں تو ہوگا ہی جنت میں ہمیشہ ہوا کرے گا کسی کو جلد جلد کسی کو دیرسے۔۴؎خیال رہے کہ جنت کی ساری نعمتیں نیک اعمال کا عوض ہوں گی خواہ اپنے اعمال کا خواہ اس کے اعمال کا جس کی طفیل جنت میں گیا مگر دیدار الٰہی کسی عمل کا عوض نہ ہوگا خالص عطاء ذوالجلال ہوگی،ان دو نمازوں پر پابندی اس دیدار کی لیاقت و قابلیت پیدا کرے گی یعنی فجروعصر کی پابندی دنیا میں نماز ایسے پڑھو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو کیونکہ یہاں حجاب ہے وہاں حجاب اٹھ جائے گا گویا ختم ہوجائے گا اسے دیکھ کر اس سے کلام کرو۔(اشعہ)۵؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں تسبیح و تحمید سے مراد نماز ہے،چونکہ فجروعصر کی نماز میں رات و دن کے محافظ فرشتے جمع ہوجاتے ہیں،نیز فجر کی نماز سونے کی غفلت کا وقت ہے اور نماز عصر کاروبار سیر و تفریح کی غفلت کا وقت،ان وجوہ سے ان نمازوں کی تاکید زیادہ کی ہے،رب فرماتاہے:"اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْہُوۡدًا"،نماز عصر کے متعلق فرماتاہے: "حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5655