Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5657

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ، وَأَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً". ثُمَّ قَرَأَ: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 22 - 23]. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

عن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن أدنى أهل الجنة منزلة لمن ينظر إلى جنانه وأزواجه ونعيمه وخدمه وسرره مسيرة ألف سنة، وأكرمهم على الله من ينظر إلى وجهه غدوة وعشية". ثم قرأ: {وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة} [القيامة: 22 - 23]. رواه أحمد والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنتیوں میں ادنی درجے والا وہ ہوگا جو اپنے باغات اپنی بیویوں اپنی نعمتیں اپنے خدام کو اور اپنے تختوں کو ایک ہزار سال کے پھیلاوے میں دیکھے گا ۱∞؎اور الله کے نزدیک بڑی عزت والا ہوگا وہ جو صبح شام اس کی ذات کے نظارے کرے۲؎پھر تلاوت فرمائی بعض چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھنے والے۳؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ادنی جنتی کا اپنا رقبہ اور اس رقبہ میں اپنا سامان پھیلا ہوا اتنا وسیع ہوگا کہ اس کنارے سے اس کنارہ تک انسان ایک ہزار سال میں پہنچے۔یہ تو ادنی درجے کے جنتی کا رقبہ ہے تو سوچو کہ اعلٰی درجے کا جنتی کا رقبہ کتنا ہوگا،پھر غور کرو کہ جنت کیسی وسیع ہے۔۲؎جنتیوں کو رب کا دیدار حسب مراتب ہوگا کسی کو ہفتہ میں ایک بار،کسی کو روزانہ دوبار،کسی کو ہر وقت جیسے دنیا میں بعض لوگ ہر وقت عشقِ الٰہی میں محو رہتے ہیں بعض کبھی کبھی۔۳؎یہاںوجوہسے مراد ذات ہیں اورناظرہسے مراد وہ تروتازگی ہے جو مؤمنوں پر نمودار ہوگی جب تک مؤمن رب کو دیکھیں گے کسی نعمت کی طرف التفات نہ کریں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5657