Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5661

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمِ. فَقَالَ كَعْبٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى، فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ، وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ. قَالَ مَسْرُوقٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: هَل رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعْرِيْ، قُلْتُ: رُويدًا، ثُمَّ قَرَأْتُ: {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: 18] ، فَقَالَتْ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِكَ؟ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ. مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ، أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ، أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} [لقمان: 34] ، فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ، لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَمَرَّةً فِي أَجْيَادٍ، لَهُ سِتُّ مِئَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الأُفُقَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وَرَوَى الشَّيْخَانِ مَعَ زِيَادَةٍ وَاخْتِلَافٍ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ: {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 8 - 9] ؟ قَالَتْ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عليه السلام كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الأُفُقَ.

وعن الشعبي قال: لقي ابن عباس كعبا بعرفة، فسأله عن شيء، فكبر حتى جاوبته الجبال. فقال ابن عباس: إنا بنو هاشم. فقال كعب: إن الله قسم رؤيته وكلامه بين محمد وموسى، فكلم موسى مرتين، ورآه محمد مرتين. قال مسروق: فدخلت على عائشة فقلت: هل رأى محمد ربه؟ فقالت: لقد تكلمت بشيء قف له شعري، قلت: رويدا، ثم قرأت: {لقد رأى من آيات ربه الكبرى} [النجم: 18] ، فقالت: أين تذهب بك؟ إنما هو جبريل. من أخبرك أن محمدا رأى ربه، أو كتم شيئا مما أمر به، أو يعلم الخمس التي قال الله تعالى: {إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث} [لقمان: 34] ، فقد أعظم الفرية، ولكنه رأى جبريل، لم يره في صورته إلا مرتين: مرة عند سدرة المنتهى، ومرة في أجياد، له ست مئة جناح قد سد الأفق. رواه الترمذي.
وروى الشيخان مع زيادة واختلاف، وفي روايتهما: قال: قلت لعائشة: فأين قوله: {ثم دنا فتدلى فكان قاب قوسين أو أدنى} [النجم: 8 - 9] ؟ قالت: ذاك جبريل عليه السلام كان يأتيه في صورة الرجل، وإنه أتاه هذه المرة في صورته التي هي صورته فسد الأفق.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شعبی سے فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کعب سے عرفہ میں ملے تو ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیر کہی جس سے پہاڑ گونج گئے ۱∞؎تب حضرت ابن عباس نے فرمایا ہم بنی ہاشم ہیں۲؎تب حضرت کعب نے فرمایا کہ الله تعالٰی نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم فرمادیا تو موسیٰ علیہ السلام سے دوبار کلام کیا۳؎اور محمد مصطفی نے رب کو دوبار دیکھا ۴؎مسروق کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے عرض کیا حضور نے اپنے رب کو دیکھا ۵؎آپ بولیں تم نے ایسے بات کہی جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۶؎میں نے عرض کیا پھر میں نے یہ آیت پڑھی کہ حضور نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۷؎آپ بولیں خیالات تمہیں کہاں لیے پھرتے ہیں وہ تو حضرت جبریل ہیں۸؎جو تمہیں خبر دے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا یا جس کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا اس میں سے کچھ چھپایا ۹؎یا حضور ان پانچ باتوں کو جانتے ہیں جن کے متعلق الله تعالٰی نے فرمایا کہ الله ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے بارش تو اس نے بڑا بہتان باندھا۱۰؎لیکن آپ نے حضرت جبریل کو دیکھا ان کی اصلی صورت کبھی نہ دیکھی سواء دوبار کے ایک بار سدرۃ المنتہی کے پاس اور دوسری بار محلہ اجیاد میں ان کے چھ سو پر تھے جنہوں کے کنارہ نے آسمان بند کردیئے تھے ۱۱∞؎(ترمذی)اور مسلم،بخاری نے کچھ زیادتی اور کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی روایت میں ہے فرمایا میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا تو رب کا یہ قول کہاں پھر قریب ہوا پھر تو دو کمانوں کی بلکہ اس سے بھی قریب تر،آپ بولیں یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو حضور کے پاس مرد کی صورت میں آئے تھے۱۲؎اور اس دفعہ آپ کے پاس اپنی اصلی صورت میں آئے جو ان کی اپنی صورت ہے تو کنارہ آسمان بھردیئے۱۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نویں ذی الحجہ حج کے دن حضرت عبدالله ابن عباس کی ملاقات جناب کعب احبار سے ہوئی،حضرت ابن عباس نے کعب سے رب تعالٰی کے دیدار کے متعلق پوچھا تو حضرت کعب نے اس سوال پر اتنی بلند آواز سے الله اکبر کہا کہ پہاڑ گونج گئے،کعب نے یہ سوال بڑا ہی اہم سمجھا۔۲؎یعنی ہم اہل بیت نبوت ہیں ہم کوئی غلط یا ناممکن بات نہیں پوچھتے،نیز امت پر ہمارا احترام ضروری ہے اے کعب تم صرف تکبیر پر نہ ٹالو بلکہ جواب دو یا یہ کہ تم ہم سے جو چاہو پوچھوان شاءاللهہم جواب دیں گے۔خیال رہے کہ حضرت کعب احبار تابعی ہیں،پہلے یہود کے بڑے عالم تھے،توریت شریف کے ماہر ہیں،حضرت ابن عباس نے یہ سوال ان سے اس لیے کیا تاکہ بذریعہ توریت ان سے تائید کرائیں۔۳؎موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار وادیٔ ایمن میں رب سے کلام کیا عطاءنبوت کے وقت اور دوسری بار کوہ طور پر،حضرت احبار نے یہ توریت شریف سے نقل کرکے بتایا۔(اشعہ)معلوم ہوا کہ حضور کے دیدار الٰہی کا ذکر توریت شریف میں بھی تھا۔خیال رہے کہمرتینسے شخصی بار مراد نہیں بلکہ نوعی بار مراد ہے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام نے طور پر رب سے بارہا کلام کیا مگر یہ کلام تھا ایک ہی نوعیت کا اور وادیٔ ایمن میں عطاء نبوت کے وقت کلام کیا وہ دوسری نوعیت کا تھا۔۴؎یعنی دنیا میں رب سے بلاواسطہ کلام کرنا موسیٰ علیہ السلام کی خصوصی صفت ہے اور معراج میں اللہ تعالٰی کو آنکھوں سے دیکھنا حضور کی خصوصی صفت ہے ورنہ حضور نے معراج میں رب تعالٰی کا دیداربھی باربار کیا اس سے کلام بھی بار بار کیا"فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی۵؎غالبًا حضرت مسروق وہاں موجود تھے جہاں حضرت ابن عباس اور کعب احبار کی مذکورہ گفتگو ہوئی جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ حضور نے رب کو دیکھا آپ نے اس کی تصدیق حضرت عائشہ صدیقہ سے کرانی چاہی اس لیے یہ سوال کیا،مسروق تابعی ہیں امام شعبی کے استاذ۔۶؎یعنی تمہارے اس سوال سے میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے بھلا حضور رب تعالٰی کو کیسے دیکھ سکتے ہیں۔خیال رہے کہ جناب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ جسمانی معراج کا انکار فرماتی ہیں پھر وہ دیدار الٰہی حضور کے لیے کیسے مان سکتی ہیں،یہ دیدار تو معراج کا ایک حصہ ہے یہ دونوں انکار ان کے اجتہاد سے ہیں انہیں دیدار اور معراج کی روایات نہیں پہنچیں۔یہ واقعات تو آپ کے حضور کی زوجیت میں آنے سے پہلے کے ہیں اس لیے آپ نے کوئی حدیث اس پر پیش نہیں کی صرف اپنا اجتہاد بیان فرمایا۔۷؎یعنی میں نے سورۂ والنجم کی وہ آیات پیش کیں جن میں یہ ہے"وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی"صرف یہ آیت پیش نہ فرمائی صرف اس آیت سے ان کا منشا پورا نہ ہوتا کہ یہاں آیاتِ رب دیکھنے کا ذکر ہے نہ کہ رب کو دیکھنے کا۔(مرقات)۸؎سورۂ والنجم کی یہ آیات ہی بتارہی ہیں کہ یہاں حضرت جبریل مرادنہیں رب تعالٰی کا دیدار ہی مراد ہوسکتا ہے کہ آیتِ اولٰی یہ ہے "عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الْقُوٰی"اسشدید القویسے مراد الله تعالٰی ہے کہ اس نے حضور کو قرآن سکھایا نہ کہ جبریل علیہ السلام نے "اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ"آگے ہے"فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰیحضور صلی الله علیہ و سلم اللہ تعالٰی کے بندے ہیں نہ کہ حضرت جبریل علیہ السلام کے،جب کہعبدہکی ضمیر رب کی طرف ہے تو ساری ضمیریں اس کی طرف ہیں"ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی"سے لے کر"وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی"تک کی ساری ضمیریںشدید القویکی طرف ہیں یعنی رب کی طرف اس آیت سے جسمانی معراج اور رب کا دیدار دونوں ہی ثابت ہیں۔ام المؤمنین نے ادھر توجہ نہ فرمائی اس لیے صحابہ نے آپ کی یہ تفسیر قبول نہ کی۔۹؎یعنی حضور انور نے تبلیغی شرعی احکام میں سے کوئی حکم کسی سے نہ چھپایا سب پہنچادیئے اسی لیےمما امربہفرماتی ہیں،رہے رموزو اسرار وہ اغیار سے ضرور چھپائے،متشابہات کی تفسیر نہ بتائی۔حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور انور سے ایک برتن علم کا وہ ملا ہے کہ اگر میں ظاہر کروں تو میری گردن ماری جائے۔۱۰؎یعنی حضور انور یہ پانچ چیزیں بغیر تعلیم الٰہی نہیں جانتے ہاں الله تعالٰی کی تعلیم سے جانتے ہیں۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حضور سے پوچھا کہ ہم ازواج میں سے پہلے حضور سے کون ملے گا،کس کی وفات پہلے ہوگی،فرمایا لمبے ہاتھ والی یعنی حضرت زینب،انہیں ام المؤمنین نے پوچھا یارسول الله کس کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر ہیں فرمایا عمر فاروق کی،حضور نے جنگ بدر سے پہلے خطوط کھینچ کر بتادیا کہ کل فلاں کافر یہاں مارا جائے گا فلاں کافر یہاں،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں،اس کی تحقیق ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو۔۱۱∞؎اجیادمکہ مکرمہ کا مشہور محلہ ہے۔حضور صلی الله علیہ و سلم نے واقعی جبریل امین کو دوبار ان کی اصل شکل میں دیکھا اس پر تمام امت کا اتفاق ہے مگر گفتگو اس میں ہے کہ سورۂ والنجم میں یہ ہی دیدار جبریل مراد ہے یا دیدار الٰہی،جمہورصحابہ اور عام مسلمانوں کا قول یہ ہے کہ اس آیت میں دیدار الٰہی مراد ہے نہ کہ دیدار جبریل علیہ السلام۔۱۲؎حضرت جبریل حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں آتے تھے،حضرت دحیہ کلبی بڑے ہی خوبصورت تھے جناب جبریل انہیں کی شکل اختیار کرتے تھے۔۱۳؎خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ام المؤمنین حضور کے دیدار الٰہی کا انکار فرماتی ہیں کیونکہ آپ جسمانی معراج کی قائل نہیں،بعض صحابہ نے دل سے دیدار مانا ہے مگر عام صحابہ اور سارے بعد کے مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور انور نے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اسی طرح کہ دل ہوش میں رہا اور ایسا ٹکٹکی باندھ کر دیکھا کہ پلک بھی نہ مارا"مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی"۔الحمدلله!فقیر بینوا بندہ گنہگار احمدیار نے دیدار کا مضمون آخر ماہ رمضان المبارک ۱۳۸۷ھ؁ میں لکھا،الله تعالٰی اسے قبول فرمائے اور اس گنہگار کو اپنے اور اپنے محبوب کے دیدار سے سرشار فرمادے کہ ہم فقیروں کی یہ معراج ہے۔شعر
تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5661