- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5661
باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5661
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمِ. فَقَالَ كَعْبٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى، فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ، وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ. قَالَ مَسْرُوقٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: هَل رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعْرِيْ، قُلْتُ: رُويدًا، ثُمَّ قَرَأْتُ: {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: 18] ، فَقَالَتْ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِكَ؟ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ. مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ، أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ، أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} [لقمان: 34] ، فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ، لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَمَرَّةً فِي أَجْيَادٍ، لَهُ سِتُّ مِئَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الأُفُقَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وَرَوَى الشَّيْخَانِ مَعَ زِيَادَةٍ وَاخْتِلَافٍ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ: {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 8 - 9] ؟ قَالَتْ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عليه السلام كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الأُفُقَ.
وعن الشعبي قال: لقي ابن عباس كعبا بعرفة، فسأله عن شيء، فكبر حتى جاوبته الجبال. فقال ابن عباس: إنا بنو هاشم. فقال كعب: إن الله قسم رؤيته وكلامه بين محمد وموسى، فكلم موسى مرتين، ورآه محمد مرتين. قال مسروق: فدخلت على عائشة فقلت: هل رأى محمد ربه؟ فقالت: لقد تكلمت بشيء قف له شعري، قلت: رويدا، ثم قرأت: {لقد رأى من آيات ربه الكبرى} [النجم: 18] ، فقالت: أين تذهب بك؟ إنما هو جبريل. من أخبرك أن محمدا رأى ربه، أو كتم شيئا مما أمر به، أو يعلم الخمس التي قال الله تعالى: {إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث} [لقمان: 34] ، فقد أعظم الفرية، ولكنه رأى جبريل، لم يره في صورته إلا مرتين: مرة عند سدرة المنتهى، ومرة في أجياد، له ست مئة جناح قد سد الأفق. رواه الترمذي.
وروى الشيخان مع زيادة واختلاف، وفي روايتهما: قال: قلت لعائشة: فأين قوله: {ثم دنا فتدلى فكان قاب قوسين أو أدنى} [النجم: 8 - 9] ؟ قالت: ذاك جبريل عليه السلام كان يأتيه في صورة الرجل، وإنه أتاه هذه المرة في صورته التي هي صورته فسد الأفق.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت شعبی سے فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کعب سے عرفہ میں ملے تو ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیر کہی جس سے پہاڑ گونج گئے ۱∞؎تب حضرت ابن عباس نے فرمایا ہم بنی ہاشم ہیں۲؎تب حضرت کعب نے فرمایا کہ الله تعالٰی نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم فرمادیا تو موسیٰ علیہ السلام سے دوبار کلام کیا۳؎اور محمد مصطفی نے رب کو دوبار دیکھا ۴؎مسروق کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے عرض کیا حضور نے اپنے رب کو دیکھا ۵؎آپ بولیں تم نے ایسے بات کہی جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۶؎میں نے عرض کیا پھر میں نے یہ آیت پڑھی کہ حضور نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۷؎آپ بولیں خیالات تمہیں کہاں لیے پھرتے ہیں وہ تو حضرت جبریل ہیں۸؎جو تمہیں خبر دے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا یا جس کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا اس میں سے کچھ چھپایا ۹؎یا حضور ان پانچ باتوں کو جانتے ہیں جن کے متعلق الله تعالٰی نے فرمایا کہ الله ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے بارش تو اس نے بڑا بہتان باندھا۱۰؎لیکن آپ نے حضرت جبریل کو دیکھا ان کی اصلی صورت کبھی نہ دیکھی سواء دوبار کے ایک بار سدرۃ المنتہی کے پاس اور دوسری بار محلہ اجیاد میں ان کے چھ سو پر تھے جنہوں کے کنارہ نے آسمان بند کردیئے تھے ۱۱∞؎(ترمذی)اور مسلم،بخاری نے کچھ زیادتی اور کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی روایت میں ہے فرمایا میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا تو رب کا یہ قول کہاں پھر قریب ہوا پھر تو دو کمانوں کی بلکہ اس سے بھی قریب تر،آپ بولیں یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو حضور کے پاس مرد کی صورت میں آئے تھے۱۲؎اور اس دفعہ آپ کے پاس اپنی اصلی صورت میں آئے جو ان کی اپنی صورت ہے تو کنارہ آسمان بھردیئے۱۳؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی نویں ذی الحجہ حج کے دن حضرت عبدالله ابن عباس کی ملاقات جناب کعب احبار سے ہوئی،حضرت ابن عباس نے کعب سے رب تعالٰی کے دیدار کے متعلق پوچھا تو حضرت کعب نے اس سوال پر اتنی بلند آواز سے الله اکبر کہا کہ پہاڑ گونج گئے،کعب نے یہ سوال بڑا ہی اہم سمجھا۔۲؎یعنی ہم اہل بیت نبوت ہیں ہم کوئی غلط یا ناممکن بات نہیں پوچھتے،نیز امت پر ہمارا احترام ضروری ہے اے کعب تم صرف تکبیر پر نہ ٹالو بلکہ جواب دو یا یہ کہ تم ہم سے جو چاہو پوچھوان شاءاللهہم جواب دیں گے۔خیال رہے کہ حضرت کعب احبار تابعی ہیں،پہلے یہود کے بڑے عالم تھے،توریت شریف کے ماہر ہیں،حضرت ابن عباس نے یہ سوال ان سے اس لیے کیا تاکہ بذریعہ توریت ان سے تائید کرائیں۔۳؎موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار وادیٔ ایمن میں رب سے کلام کیا عطاءنبوت کے وقت اور دوسری بار کوہ طور پر،حضرت احبار نے یہ توریت شریف سے نقل کرکے بتایا۔(اشعہ)معلوم ہوا کہ حضور کے دیدار الٰہی کا ذکر توریت شریف میں بھی تھا۔خیال رہے کہمرتینسے شخصی بار مراد نہیں بلکہ نوعی بار مراد ہے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام نے طور پر رب سے بارہا کلام کیا مگر یہ کلام تھا ایک ہی نوعیت کا اور وادیٔ ایمن میں عطاء نبوت کے وقت کلام کیا وہ دوسری نوعیت کا تھا۔۴؎یعنی دنیا میں رب سے بلاواسطہ کلام کرنا موسیٰ علیہ السلام کی خصوصی صفت ہے اور معراج میں اللہ تعالٰی کو آنکھوں سے دیکھنا حضور کی خصوصی صفت ہے ورنہ حضور نے معراج میں رب تعالٰی کا دیداربھی باربار کیا اس سے کلام بھی بار بار کیا"فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی"۔۵؎غالبًا حضرت مسروق وہاں موجود تھے جہاں حضرت ابن عباس اور کعب احبار کی مذکورہ گفتگو ہوئی جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ حضور نے رب کو دیکھا آپ نے اس کی تصدیق حضرت عائشہ صدیقہ سے کرانی چاہی اس لیے یہ سوال کیا،مسروق تابعی ہیں امام شعبی کے استاذ۔۶؎یعنی تمہارے اس سوال سے میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے بھلا حضور رب تعالٰی کو کیسے دیکھ سکتے ہیں۔خیال رہے کہ جناب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ جسمانی معراج کا انکار فرماتی ہیں پھر وہ دیدار الٰہی حضور کے لیے کیسے مان سکتی ہیں،یہ دیدار تو معراج کا ایک حصہ ہے یہ دونوں انکار ان کے اجتہاد سے ہیں انہیں دیدار اور معراج کی روایات نہیں پہنچیں۔یہ واقعات تو آپ کے حضور کی زوجیت میں آنے سے پہلے کے ہیں اس لیے آپ نے کوئی حدیث اس پر پیش نہیں کی صرف اپنا اجتہاد بیان فرمایا۔۷؎یعنی میں نے سورۂ والنجم کی وہ آیات پیش کیں جن میں یہ ہے"وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی"صرف یہ آیت پیش نہ فرمائی صرف اس آیت سے ان کا منشا پورا نہ ہوتا کہ یہاں آیاتِ رب دیکھنے کا ذکر ہے نہ کہ رب کو دیکھنے کا۔(مرقات)۸؎سورۂ والنجم کی یہ آیات ہی بتارہی ہیں کہ یہاں حضرت جبریل مرادنہیں رب تعالٰی کا دیدار ہی مراد ہوسکتا ہے کہ آیتِ اولٰی یہ ہے "عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الْقُوٰی"اسشدید القویسے مراد الله تعالٰی ہے کہ اس نے حضور کو قرآن سکھایا نہ کہ جبریل علیہ السلام نے "اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ"آگے ہے"فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی"۔حضور صلی الله علیہ و سلم اللہ تعالٰی کے بندے ہیں نہ کہ حضرت جبریل علیہ السلام کے،جب کہعبدہکی ضمیر رب کی طرف ہے تو ساری ضمیریں اس کی طرف ہیں"ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی"سے لے کر"وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی"تک کی ساری ضمیریںشدید القویکی طرف ہیں یعنی رب کی طرف اس آیت سے جسمانی معراج اور رب کا دیدار دونوں ہی ثابت ہیں۔ام المؤمنین نے ادھر توجہ نہ فرمائی اس لیے صحابہ نے آپ کی یہ تفسیر قبول نہ کی۔۹؎یعنی حضور انور نے تبلیغی شرعی احکام میں سے کوئی حکم کسی سے نہ چھپایا سب پہنچادیئے اسی لیےمما امربہفرماتی ہیں،رہے رموزو اسرار وہ اغیار سے ضرور چھپائے،متشابہات کی تفسیر نہ بتائی۔حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور انور سے ایک برتن علم کا وہ ملا ہے کہ اگر میں ظاہر کروں تو میری گردن ماری جائے۔۱۰؎یعنی حضور انور یہ پانچ چیزیں بغیر تعلیم الٰہی نہیں جانتے ہاں الله تعالٰی کی تعلیم سے جانتے ہیں۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حضور سے پوچھا کہ ہم ازواج میں سے پہلے حضور سے کون ملے گا،کس کی وفات پہلے ہوگی،فرمایا لمبے ہاتھ والی یعنی حضرت زینب،انہیں ام المؤمنین نے پوچھا یارسول الله کس کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر ہیں فرمایا عمر فاروق کی،حضور نے جنگ بدر سے پہلے خطوط کھینچ کر بتادیا کہ کل فلاں کافر یہاں مارا جائے گا فلاں کافر یہاں،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں،اس کی تحقیق ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو۔۱۱∞؎اجیادمکہ مکرمہ کا مشہور محلہ ہے۔حضور صلی الله علیہ و سلم نے واقعی جبریل امین کو دوبار ان کی اصل شکل میں دیکھا اس پر تمام امت کا اتفاق ہے مگر گفتگو اس میں ہے کہ سورۂ والنجم میں یہ ہی دیدار جبریل مراد ہے یا دیدار الٰہی،جمہورصحابہ اور عام مسلمانوں کا قول یہ ہے کہ اس آیت میں دیدار الٰہی مراد ہے نہ کہ دیدار جبریل علیہ السلام۔۱۲؎حضرت جبریل حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں آتے تھے،حضرت دحیہ کلبی بڑے ہی خوبصورت تھے جناب جبریل انہیں کی شکل اختیار کرتے تھے۔۱۳؎خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ام المؤمنین حضور کے دیدار الٰہی کا انکار فرماتی ہیں کیونکہ آپ جسمانی معراج کی قائل نہیں،بعض صحابہ نے دل سے دیدار مانا ہے مگر عام صحابہ اور سارے بعد کے مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور انور نے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اسی طرح کہ دل ہوش میں رہا اور ایسا ٹکٹکی باندھ کر دیکھا کہ پلک بھی نہ مارا"مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی"۔الحمدلله!فقیر بینوا بندہ گنہگار احمدیار نے دیدار کا مضمون آخر ماہ رمضان المبارک ۱۳۸۷ھ میں لکھا،الله تعالٰی اسے قبول فرمائے اور اس گنہگار کو اپنے اور اپنے محبوب کے دیدار سے سرشار فرمادے کہ ہم فقیروں کی یہ معراج ہے۔شعر
تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5661