- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5663
باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5663
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَلَهُ وَلِلْبُخَارِيِّ فِي قَوْلِهِ: {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: 18] ، قَالَ: رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ. [خ:، م: 174، ت:. وَسُئِلَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] ، فَقِيلَ: قَوْمٌ يَقُولُونَ: إِلَى ثَوَابِهِ فَقَالَ مَالِكٌ: كَذَبُوا فَأَيْنَ هُمْ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15] ؟ قَالَ مَالِكٌ: النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَعْيُنِهِمْ، وَقَالَ: لَوْ لَمْ يَرَ الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ يُعَيِّرِ اللَّهُ الْكُفَّارَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15]. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
وفي رواية الترمذي قال: {ما كذب الفؤاد ما رأى} ، قال: رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جبريل في حلة من رفرف قد ملأ ما بين السماء والأرض، وله وللبخاري في قوله: {لقد رأى من آيات ربه الكبرى} [النجم: 18] ، قال: رأى رفرفا أخضر سد أفق السماء. [خ:، م: 174، ت:. وسئل مالك بن أنس عن قوله تعالى: {إلى ربها ناظرة} [القيامة: 23] ، فقيل: قوم يقولون: إلى ثوابه فقال مالك: كذبوا فأين هم عن قوله تعالى: {كلا إنهم عن ربهم يومئذ لمحجوبون} [المطففين: 15] ؟ قال مالك: الناس ينظرون إلى الله يوم القيامة بأعينهم، وقال: لو لم ير المؤمنون ربهم يوم القيامة لم يعير الله الكفار بالحجاب فقال: {كلا إنهم عن ربهم يومئذ لمحجوبون} [المطففين: 15]. رواه في "شرح السنة".
حدیث ترجمہ
اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا دل نے نہ جھٹلایا جو دیکھا فرمایا،رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو باریک ریشم کے جوڑے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کو بھر دیا تھا۳؎∞ ترمذی و بخاری کی روایت میں ہے رب کے اس فرمان کے متعلق بے شک ریشمی جوڑے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیا تھا اور بخاری کی روایت میں اس آیت کے متعلق ہے کہ بے شک اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں،فرمایا آپ نے باریک سبز ریشم دیکھا جس نے آسمان کا کنارہ بھر دیا تھا ۴؎∞ اورحضرت مالک ابن انس سے باری تعالٰی کے قول"اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ"کے متعلق پوچھا گیا کہا گیا کہ ایک قوم کہتی ہے کہ لوگ رب کے ثواب کو دیکھیں گے۵؎∞ امام مالک نے فرمایا جھوٹ کہا وہ اس فرمان باری سے جا رہے ہیں کہ خبردار وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے،امام مالک نے فرمایا ۶؎∞ کہ قیامت کے دن لوگ الله تعالٰی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے فرمایا اگر قیامت کے دن مؤمن اپنے رب کو نہ دیکھتے تو الله تعالٰی کفار کو حجاب سے عار نہ دلاتا ۷؎∞ اس نے فرمایا کہ وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے۸؎∞(شرح سنہ)
شرح حدیث
۳؎∞ تحقیق یہ ہے کہرفرفجمع ہے،اس کا واحد ہےرفرفۃ،دوسری جمعرفارفہے۔اس کے لفظی معنی ہیں بستر، رب فرماتاہے: "مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ"۔حضرت جبریل کے پر پھیلانے پر وسیع بستر محسوس ہوئے تھے،اس سےرفرفکا لفظ فرمایا،اب پرندے کے پر کو کہتے ہیں لباس کے جوڑے نرم کپڑے وغیرہ کو بھیرفرفکہتے ہیں،یہاںرفرفبمعنی سبز ہے کیونکہ ساتھ ہیحلہفرمایا گیا ہے۔
۴؎∞ خلاصہ کلام یہ ہے کہ دیدار الٰہی کے متعلق صحابہ کرام کے تین قول ہیں: ایک یہ کہ معراج میں یا کبھی اور دیدار مطلقًا نہ ہوایہ قول حضرت عائشہ صدیقہ کا ہے۔دوسرا یہ کہ دل سے رب کو دیکھا نہ کہ آنکھوں سے یعنی بصیرت سے دیکھا بصارت سے نہیں،یہ قول حضرت ابن مسعود کی طرف منسوب ہے۔تیسرا یہ کہ حضور انور نے اپنی آنکھوں سے رب کا دیدار کیا،یہ آخری قول جمہور صحابہ کا ہے،حضرت ابن عباس سے یہ ہی مروی ہے وہ سورۂ والنجم کی آیات کی تفسیر میں یہ ہی فرماتے ہیں۔حضرت عبدالله ابن عمر پہلے اس دیدار کے منکر تھے بعد میں حضرت ابن عباس کے قول کی طرف رجوع فرمایا،حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہ نے اس انکار کی کوئی دلیل نہیں دی صرف اپنے اجتہاد سے انکار فرمایا،حضرت ابن عباس یہ فرمان صرف اجتہاد سے نہیں فرماسکتے بلکہ کسی روایت کی بناء پر ہی کہہ سکتے ہیں۔(اشعہ)
۵؎∞ معتزلہ،خوارج دیدار الٰہی کے انکاری ہیں کہ جنت میں کسی کو رب کا دیدار نہیں ہوگا،ان کا ہی یہ قول ہے وہ ہی حضرت امام مالک کے سامنے پیش کیا گیا کہ وہ اس آیت کے یہ ہی معنی کرتے ہیں،یہ تاویل نہیں تحریف ہے۔
۶؎∞ یعنی اگر اس آیت میں دیدار الٰہی سے مراد الله کا ثواب دیکھنا ہے تو اس آیت کے کیا معنی کریں گے کہ کفار رب سے حجاب میں ہوں گے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ مؤمنین حجاب میں نہ ہوں گے اس کا دیدار کریں گے۔سبحان الله!کیسا پیارا جواب ہے۔
۷؎∞ خلاصہ یہ ہے کہ جیسے جنتیوں کے لیے دیدار الٰہی ساری نعمتوں سے افضل و اعلٰی نعمت ہے ایسے ہی دوزخیوں کے لیے دیدار سے محرومی سارے عذابوں سے بدتر عذاب ہوگا کہ محبوب کا فراق بھی بڑا عذاب ہے۔
۸؎∞ یہاں اس دن سے مراد یا دوزخ میں کفار کے داخلہ کے بعد کا دن ہے اس دن کی انتہاء کبھی نہیں تب تو آیت بالکل ظاہر ہے اور اگر قیامت کا دن مراد ہے تو مطلب یہ ہے کہ رب کی نظر کرم سے حجاب میں ہوں گے ورنہ قہر کا دیدار تو قیامت کے دن کفار کو بھی ہوگا جیساکہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5663