Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5663

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَلَهُ وَلِلْبُخَارِيِّ فِي قَوْلِهِ: {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: 18] ، قَالَ: رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ. [خ:، م: 174، ت:. وَسُئِلَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] ، فَقِيلَ: قَوْمٌ يَقُولُونَ: إِلَى ثَوَابِهِ فَقَالَ مَالِكٌ: كَذَبُوا فَأَيْنَ هُمْ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15] ؟ قَالَ مَالِكٌ: النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَعْيُنِهِمْ، وَقَالَ: لَوْ لَمْ يَرَ الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ يُعَيِّرِ اللَّهُ الْكُفَّارَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15]. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وفي رواية الترمذي قال: {ما كذب الفؤاد ما رأى} ، قال: رأى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جبريل في حلة من رفرف قد ملأ ما بين السماء والأرض، وله وللبخاري في قوله: {لقد رأى من آيات ربه الكبرى} [النجم: 18] ، قال: رأى رفرفا أخضر سد أفق السماء. [خ:، م: 174، ت:. وسئل مالك بن أنس عن قوله تعالى: {إلى ربها ناظرة} [القيامة: 23] ، فقيل: قوم يقولون: إلى ثوابه فقال مالك: كذبوا فأين هم عن قوله تعالى: {كلا إنهم عن ربهم يومئذ لمحجوبون} [المطففين: 15] ؟ قال مالك: الناس ينظرون إلى الله يوم القيامة بأعينهم، وقال: لو لم ير المؤمنون ربهم يوم القيامة لم يعير الله الكفار بالحجاب فقال: {كلا إنهم عن ربهم يومئذ لمحجوبون} [المطففين: 15]. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا دل نے نہ جھٹلایا جو دیکھا فرمایا،رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو باریک ریشم کے جوڑے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کو بھر دیا تھا۳؎∞ ترمذی و بخاری کی روایت میں ہے رب کے اس فرمان کے متعلق بے شک ریشمی جوڑے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیا تھا اور بخاری کی روایت میں اس آیت کے متعلق ہے کہ بے شک اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں،فرمایا آپ نے باریک سبز ریشم دیکھا جس نے آسمان کا کنارہ بھر دیا تھا ۴؎∞ اورحضرت مالک ابن انس سے باری تعالٰی کے قول"اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ"کے متعلق پوچھا گیا کہا گیا کہ ایک قوم کہتی ہے کہ لوگ رب کے ثواب کو دیکھیں گے۵؎∞ امام مالک نے فرمایا جھوٹ کہا وہ اس فرمان باری سے جا رہے ہیں کہ خبردار وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے،امام مالک نے فرمایا ۶؎∞ کہ قیامت کے دن لوگ الله تعالٰی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے فرمایا اگر قیامت کے دن مؤمن اپنے رب کو نہ دیکھتے تو الله تعالٰی کفار کو حجاب سے عار نہ دلاتا ۷؎∞ اس نے فرمایا کہ وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے۸؎∞(شرح سنہ)

شرح حدیث

۳؎∞ تحقیق یہ ہے کہرفرفجمع ہے،اس کا واحد ہےرفرفۃ،دوسری جمعرفارفہے۔اس کے لفظی معنی ہیں بستر، رب فرماتاہے: "مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ"۔حضرت جبریل کے پر پھیلانے پر وسیع بستر محسوس ہوئے تھے،اس سےرفرفکا لفظ فرمایا،اب پرندے کے پر کو کہتے ہیں لباس کے جوڑے نرم کپڑے وغیرہ کو بھیرفرفکہتے ہیں،یہاںرفرفبمعنی سبز ہے کیونکہ ساتھ ہیحلہفرمایا گیا ہے۔
۴
؎∞ خلاصہ کلام یہ ہے کہ دیدار الٰہی کے متعلق صحابہ کرام کے تین قول ہیں: ایک یہ کہ معراج میں یا کبھی اور دیدار مطلقًا نہ ہوایہ قول حضرت عائشہ صدیقہ کا ہے۔دوسرا یہ کہ دل سے رب کو دیکھا نہ کہ آنکھوں سے یعنی بصیرت سے دیکھا بصارت سے نہیں،یہ قول حضرت ابن مسعود کی طرف منسوب ہے۔تیسرا یہ کہ حضور انور نے اپنی آنکھوں سے رب کا دیدار کیا،یہ آخری قول جمہور صحابہ کا ہے،حضرت ابن عباس سے یہ ہی مروی ہے وہ سورۂ والنجم کی آیات کی تفسیر میں یہ ہی فرماتے ہیں۔حضرت عبدالله ابن عمر پہلے اس دیدار کے منکر تھے بعد میں حضرت ابن عباس کے قول کی طرف رجوع فرمایا،حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہ نے اس انکار کی کوئی دلیل نہیں دی صرف اپنے اجتہاد سے انکار فرمایا،حضرت ابن عباس یہ فرمان صرف اجتہاد سے نہیں فرماسکتے بلکہ کسی روایت کی بناء پر ہی کہہ سکتے ہیں۔(اشعہ)
۵
؎∞ معتزلہ،خوارج دیدار الٰہی کے انکاری ہیں کہ جنت میں کسی کو رب کا دیدار نہیں ہوگا،ان کا ہی یہ قول ہے وہ ہی حضرت امام مالک کے سامنے پیش کیا گیا کہ وہ اس آیت کے یہ ہی معنی کرتے ہیں،یہ تاویل نہیں تحریف ہے۔
۶
؎∞ یعنی اگر اس آیت میں دیدار الٰہی سے مراد الله کا ثواب دیکھنا ہے تو اس آیت کے کیا معنی کریں گے کہ کفار رب سے حجاب میں ہوں گے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ مؤمنین حجاب میں نہ ہوں گے اس کا دیدار کریں گے۔سبحان الله!کیسا پیارا جواب ہے۔
۷
؎∞ خلاصہ یہ ہے کہ جیسے جنتیوں کے لیے دیدار الٰہی ساری نعمتوں سے افضل و اعلٰی نعمت ہے ایسے ہی دوزخیوں کے لیے دیدار سے محرومی سارے عذابوں سے بدتر عذاب ہوگا کہ محبوب کا فراق بھی بڑا عذاب ہے۔
۸
؎∞ یہاں اس دن سے مراد یا دوزخ میں کفار کے داخلہ کے بعد کا دن ہے اس دن کی انتہاء کبھی نہیں تب تو آیت بالکل ظاہر ہے اور اگر قیامت کا دن مراد ہے تو مطلب یہ ہے کہ رب کی نظر کرم سے حجاب میں ہوں گے ورنہ قہر کا دیدار تو قیامت کے دن کفار کو بھی ہوگا جیساکہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5663