Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5659

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ: "نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن أبي ذر قال: سألت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: هل رأيت ربك؟ قال: "نور أنى أراه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا کیا اپنے رب کو دیکھا فرمایا میں نے اسے دیکھا ہے نور والا ہے ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس عبارت کی دو قرتیں ہیں: ایک تونورٌر کی تنوین سے اوراَنّیحرف استفہام بمعنیکیفاور معنی یہ ہیں کہ رب تعالٰی عظیم الشان نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں،اس نور سے نگاہ خیرہ ہوجاتی ہے۔اس صورت میں یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے جو دیدار کے منکر ہیں اور دوسری قرأت ہے نورانی جیسے ربانی اوراراہبمعنی ماضی ہے یعنی میں نے اسے دیکھا ہے،ایسا دیکھا ہے گویا اب بھی دیکھ رہا ہوں وہ نورانی ہے۔فقیر کے نزدیک پہلی قرأت بھی دیدار الٰہی کی نفی نہیں کرتی۔وہ صاحب سوال کررہے تھے دنیا میں یعنی اس زمین پر رہتے ہوئے رب کے دیدار کے متعلق یارسول الله کیا آپ نے مدینہ میں رہتے ہوئے کبھی ان آنکھوں سے خدا کو دیکھا ہے،فرمایا وہ نور عظیم ہے میں ان آنکھوں سے اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں،یہ آنکھیں اس نور کی تاب نہیں لاتیں،حضور نے رب کا دیدار کیا ہے معراج کی رات،اس وقت آنکھ ہی دوسری تھی عالم ہی دوسرا تھا،معراج کی رات کا دیدار تو قرآنِ کریم سے ثابت ہے جیساکہ آگے بیان ہوگا۔ان شاء الله !

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5659