Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5662

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 9] ، وَفِي قَوْلِهِ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} [النجم: 11] ، وَفِي قَوْلِهِ: {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: 18] ، قَالَ فِيهَا كُلِّهَا: رَأَى جِبْرِيلَ عليه السلام لَهُ سِتُّ مِئَةِ جَنَاحٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن مسعود في قوله: {فكان قاب قوسين أو أدنى} [النجم: 9] ، وفي قوله: {ما كذب الفؤاد ما رأى} [النجم: 11] ، وفي قوله: {لقد رأى من آيات ربه الكبرى} [النجم: 18] ، قال فيها كلها: رأى جبريل عليه السلام له ست مئة جناح. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے رب کے اس فرمان کے بارے میں تو ہوا دو کمانوں کے فاصلہ یا اور زیادہ قریب ۱∞؎اور رب کے اس فرمان کے بارے میں کہ نہیں جھٹلایا دل نے جو دیکھا اور رب کے اس قول کے بارے میں کہ بے شک اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں فرمایا ان سب میں حضور نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا جن کے چھ سو بازو تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قاب قوسینکے متعلق صوفیاءکرام فرماتے ہیں کہ دو کمانیں مل کر دائرہ بن جاتا ہے جس کے بیچ میں مرکز ہوتا ہے۔جب کسی سے معانقہ کیا جائے گلے لگایا جائے تو دونوں ہاتھوں کا دائرہ اس کی پیٹھ پر بناتے ہیں اور اسے گلے لگاتے ہیں،مصافحہ میں قدرے دور کی ملاقات ہوتی ہے مگر معانقہ میں اتصال کی ملاقات۔نور الٰہی رحمت الٰہی نے اس رات اپنے محبوب کو اپنی آغوش میں اس طرح لیا کہ رحمتِ خداوندی دائرہ تھی اور محبوب اس کا مرکز کہ ہر طرف رب کی رحمت،اس کا نور بیچ میں حضور مصطفی کا ظہور صلی الله علیہ و سلم۔۲؎یعنی ان آیات میں ساری ضمیریں حضرت جبریل علیہ السلام کی طرف ہیں،وہ حضور سے قریب ہوئے انہیں حضور نے دیکھا وہ ہی دو کمانوں کے برابر ہوئے لیکن اس تفسیر میں مشکل یہ ہوگی کہ ان آیات میں ایک آیت ہے "فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی"عبدہکی ضمیر حضور کی طرف نہیں لوٹ سکتی کیونکہ حضور انور الله کے بندے ہیں نہ کہ جبریل علیہ السلام کے،وہ آیت بتارہی ہے کہ ساری ضمیریں اللہ تعالٰی کی طرف ہیں جیسے"عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الْقُوٰی"میں بیان فرمایا ہم ابھی کچھ پہلے اس کی تحقیق کرچکے ہیں،نیز اس کی تحقیق ہماری کتاب شان حبیب الرحمن میں مطالعہ فرماؤ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5662