Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5658

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رَزِيْنٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "بَلَى". قُلْتُ: وَمَا آيَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "يَا أَبَا رَزِينٍ! أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ؟ ". قَالَ: بَلَى. قَالَ: "فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي رزين العقيلي قال: قلت: يا رسول الله! أكلنا يرى ربه مخليا به يوم القيامة؟ قال: "بلى". قلت: وما آية ذلك؟ قال: "يا أبا رزين! أليس كلكم يرى القمر ليلة البدر مخليا به؟ ". قال: بلى. قال: "فإنما هو خلق من خلق الله والله أجل وأعظم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله کیا قیامت کے دن سب اپنے رب کو خلوت میں دیکھیں گے ۱∞؎فرمایا ہاں میں نے عرض کیا الله کی مخلوق میں اس کی نشانی کیا ہے فرمایا اے ابو رزین کیا تم سب چودھویں شب میں چاند کو خلوت میں نہیں دیکھتے،عرض کیا ہاں۲؎فرمایا یہ تو الله کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے،الله تو بہت جلالت و عظمت والا ہے۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ قیامت کے دن سے مراد وہ ہی فیصلہ کا دن ہے کہ اس دن مسلمان رب تعالٰی کو بیک وقت دیکھیں گے مگر ہر ایک کو رب سے خلوت بھی ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ یوم قیامت سے مراد جنت ہو جس کا فیصلہ قیامت میں ہوگا۔سوال کا مقصد یہ ہے کہ خلوت اور جلوت دو ضدیں ہیں بیک وقت دونوں جمع کیسے ہوں گی۔سبحان الله!نہایت ہی قوی سوال ہے جس میں منطق کی جان موجود ہے۔۲؎سبحان الله!ایک مثال میں مسئلہ حل کردیا کہ بدر کو تمام دنیا اپنے اپنے گھر میں اکیلے بیٹھ کر دیکھے تو وہاں بندے کی خلوت ہے اور چاند کی طرف سے جلوت ۔خلوت جمع ہیں مگر دو طرف سے،بندے کی طرف سے خلوت ہوگی ،رب کی طرف سے جلوت۔شعر
جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوے اور فلسفیوں سے کھل نہ سکے
وہ بھید اک کملی والے نے سمجھا دیئے چند اشاروں میں
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ خالق کی صفات کو مخلوق کے ذریعے سمجھانا جائز ہے محض تمثیل ہے تشبیہ نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ"وہاں تشبیہ کی نفی ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5658