Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5664

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ، إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ، فَرَفَعُوا رُؤُوْسَهُمْ، فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ} [يس: 58]، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، حَتَّى يَحْتجِبَ عَنْهُمْ، وَيَبْقَى نُورُهُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن جابر عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: "بينا أهل الجنة في نعيمهم، إذ سطع لهم نور، فرفعوا رؤوسهم، فإذا الرب قد أشرف عليهم من فوقهم، فقال: السلام عليكم يا أهل الجنة، قال: وذلك قوله تعالى: {سلام قولا من رب رحيم} [يس: 58]، قال: فنظر إليهم وينظرون إليه، فلا يلتفتون إلى شيء من النعيم ما داموا ينظرون إليه، حتى يحتجب عنهم، ويبقى نوره". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی کہ جب کہ جنتی لوگ اپنی نعمتوں میں ہوں گے کہ اچانک ان کے سامنے ایک نور چمکے گا ۱؎∞ یہ اپنے سر اٹھائیں گے تو اچانک الله تعالٰی ان پر ان کے اوپر سے متوجہ ہوگا ۲؎∞ فرمائے گا تم پر سلامتی ہو اے جنت والو۳؎∞ فرمایا یہ ہی وہ رب کا فرمان ہے،سلام کا کلام ہوگا مہربان رب کی طرف سے فرمایا پھر ان کی طرف نظر فرمائے گا وہ رب کو دیکھیں گے تو جب تک رب کو دیکھتے رہیں گے کسی نعمت کی طرف التفات نہ کریں گے۴؎∞ یہاں تک کہ ان سے حجاب فرمائے گا اور اس کا نور باقی رہے گا ۵؎∞ (ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱؎∞ یعنی جنتی لوگ پھل فروٹ کھانے اپنے بچوں میں شغل خدام سے خدمت لینے اور دیگر نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ ایک نئے قسم کا نور اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔
۲
؎∞ یہ نور اس کی تجلی کی جھلک ہوگی۔خیال رہے کہ الله سمت سے یعنی اوپر نیچے ہونے سے پاک ہے اس کا اوپر تجلی فرمانا ایسا ہوگا جیسے موسیٰ علیہ السلام پر طور سے تجلی فرمانا یا وادیٔ سینا میں درخت پر سے کلام فرمانا کہ طور اور درخت تجلی گاہ الٰہی تھے نہ کہ اس کا مکان۔
۳
؎∞ یہ کلام یا تو رب تعالٰی کی طرف سے خوشخبری ہے کہ تم ہمیشہ ہر آفت سے سلامت ہو یا اظہار کرم ہے۔غرضکہ دعا نہیں کہ الله تعالٰی دعا مانگنے سے پاک ہے،اس کے معنی ہیں تم پر سلامتی ہے یا تم پر سلامتی ہو،عرب میں یہ دعائیہ کلمہ اظہار محبت کے لیے ہوتا ہے۔
۴
؎∞ مرقات نے فرمایا کہ یہ وہ معمولی درجے کے جنتی ہوں گے جو نعمتوں میں مشغول ہوکر اس طرف سے غافل ہوگئے تھے،مست الست والے ہر وقت ادھر ہی متوجہ رہیں گے۔
۵
؎∞ جیسے کہ آفتاب غروب ہونے کے بعد اس کا نور بہت دیر تک رہتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے جسم اور روح و دل پر اس نور کی تجلی رہے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5664