Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5660

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} [النجم: 11] ، {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: 13] ، قَالَ: رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة التِّرْمِذِي قَالَ: رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ. قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ} قَالَ: وَيْحَكَ ذَاكَ إِذَا تَجَلَّى بِنُورِهِ الَّذِي هُوَ نُورُهُ، وَقَدْ رَأَى رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ.

وعن ابن عباس: {ما كذب الفؤاد ما رأى} [النجم: 11] ، {ولقد رآه نزلة أخرى} [النجم: 13] ، قال: رآه بفؤاده مرتين. رواه مسلم. وفي رواية الترمذي قال: رأى محمد ربه. قال عكرمة: قلت: أليس الله يقول: {لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار} قال: ويحك ذاك إذا تجلى بنوره الذي هو نوره، وقد رأى ربه مرتين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے دل نے وہ نہیں جھٹلایا جو دیکھا ۱∞؎اور بے شک اس کو دوسری بار دیکھا،فرمایا حضور نے رب کو اپنے دل سے دوبار دیکھا ۲؎(مسلم)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا حضور محمد نے اپنے رب کو دیکھا۳؎عکرمہ فرماتے ہیں میں نے کہا کیا الله تعالٰی یہ نہیں کہتا کہ اسے آنکھیں نہیں پاسکتی اور وہ آنکھوں کو پاتا ہے۴؎فرمایا تم پر افسوس ہے یہ جب ہے جب رب اپنے خاص نور سے تجلی فرمائے جو اس کا ذاتی نور ہے۵؎اور حضور نے یقینًا اپنے رب کو دو بار دیکھا۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ سورۂ نجم شریف کی آیت ہے جس میں معراج میں دیدار الٰہی کا اعلٰی درجہ کا ثبوت ہے،جس میں فرمایا گیا ہے کہ حضور نے رب کو آنکھوں سے دیکھا اور دل نے اس دیکھنے کو جھٹلایا نہیں بلکہ اس کی تصدیق کی،دیکھا آنکھ نے تصدیق کی دل نے، دل کی مدد سے آنکھ نے دیکھا،اگر دل آنکھ کو جھٹلا دے تو دل سچا ہوتا ہے آنکھ جھوٹی۔چلتی ریل میں آنکھ دیکھتی ہے کہ سامنے کے درخت بھاگ رہے ہیں مگر دل کہتا ہے کہ نہیں بلکہ ریل بھاگ رہی ہے، آنکھ جھوٹی ہوتی ہے دل سچا۔آیت میں فرمایا گیا کہ آنکھ نے رب کو دیکھا دل نے آنکھ کی تصدیق کی،تصدیق کرنے والا دیکھنے والے کا غیر ہوتا ہے۔۲؎اس فرمان میں ابن عباس کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے معراج کی شب رب کو آنکھ سے دیکھا مگر دل کی مدد سے دیکھا،اس طرح کہ دیدار کے وقت دل ہوش میں رہا آنکھ کی تائید کرتا رہا جناب کلیم الله کی طرح دل پر غشی طاری نہ ہوگئی۔مرتینکے معنی ہیں بار بار جیسے رب فرماتاہے:"ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ" یعنی حضور رب کی بارگاہ میں معراج کی رات بار بار حاضر ہوتے رہے اسے دیکھتے رہے،ایک بار تو ملاقات اول کے وقت اور نو بار نمازیں کم کرانے کے لیے۔حضرت ابن عباس کا مذہب یہ ہے کہ حضور انور نے رب کو آنکھوں دیکھا معراج میں، شیخ نے مدارج میں فرمایا کہ اس رات یا تو آنکھ دل میں تھی یا دل آنکھ میں لہذا چاہے یوں کہو کہ آنکھ سے دیکھا یا یوں کہو کہ دل سے دیکھا مطلب ایک ہی ہے۔(اشعہ)قریبًا سارے صحابہ کا یہ ہی قول ہے کہ حضور انور نے الله تعالٰی کو دیکھا سواء حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت انس کے وہ فرماتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا۔۳؎یعنی ترمذی کی روایت میںبفوادہنہیں کہ دل سے دیکھا بلکہ یہ ہے کہ اپنے رب کو دیکھا یعنی آنکھ سے دیکھا اسی لیے حضرت عکرمہ نے وہ سوال کیا جو آگے آرہا ہے۔۴؎یعنی اے صحابی رسول اور اہل بیت نبی آپ تو کہتے ہیں کہ حضور انور نے رب تعالٰی کوآنکھوں سے دیکھا مگر قرآن کریم یہ فرماتا ہے، آپ کا کلام قرآن مجید کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔خیال رہے کہ حضرت عکرمہ نے رؤیت بصر اور ادراک بصر میں فرق نہیں کیا آنکھ کا دیکھنا اور ہے آنکھ کا پانا یعنی اسے احاطہ کرنا گھیرنا کچھ اور۔ہم سمندر زمین، آسمان کو دیکھتے تو ہیں مگر ان کا احاطہ نہیں کرسکتے کہ یہ چیزیں کلی اتنی لمبی چوڑی ہیں،حضور کی آنکھوں نے رب تعالٰی کا دیدار کیا اس کا احاطہ نہیں کیا۔جنتی مؤمن رب کا دیدارکریں گے اس کا احاطہ نہیں کریں گے۔یاالابصارسے مراد دنیا کی آنکھ ہے یا اس سے مراد کفار کی آنکھیں ہیں غرضکہ اس آیت کے بہت معنی کیے گئے ہیں۔۵؎یعنی لوگ خدا تعالٰی کو جب دیکھ سکتے ہیں جب وہ اپنی تجلی ان کی برداشت کے قابل فرمادے،اگر اپنی ذاتی تجلی فرمادے جیسا وہ ہے ویسا ظاہر ہو تو لوگ کیا اور چیزیں بھی فنا ہوجائیں۔خیال رہے کہ یہ گفتگو مؤمنین کے دیدار کے متعلق ہے،حضور انور نے تو عین ذات دیکھی جیسا رب ہے ویسا دیکھا،اگر وہ تجلی خدا ہے تو یہ دیدۂ مصطفی ہے صلی الله علیہ وسلم وہ سب کچھ جھیل سکتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5660