Main Icon

باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5656

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ صُهَيْبٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ "، قَالَ: "فَيُرْفَعُ الْحِجَابُ، فَيَنْظُرُونَ إِلَى وَجْهِ اللَّهِ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ"، ثُمَّ تَلَا: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: 26]. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. [م: 181].

وعن صهيب عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إذا دخل أهل الجنة الجنة يقول الله تعالى: تريدون شيئا أزيدكم؟ فيقولون: ألم تبيض وجوهنا؟ ألم تدخلنا الجنة وتنجنا من النار؟ "، قال: "فيرفع الحجاب، فينظرون إلى وجه الله، فما أعطوا شيئا أحب إليهم من النظر إلى ربهم"، ثم تلا: {للذين أحسنوا الحسنى وزيادة} [يونس: 26]. رواه مسلم. [م: 181].

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صہیب سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو الله تعالٰی فرمائے گا کیا تم وہ چیز چاہتے ہو جو میں تم کو زائد دوں ۱∞؎وہ عرض کریں گے کیا تو نے ہمارے منہ اوجیالے نہ کردیئے کیا تو نے ہم کو جنت میں داخل نہیں کردیا اور ہم کو آگ سے نجات نہ دے دی۲؎فرمایا کہ رب حجاب اٹھا دے گا۳؎یہ رب کی ذات کا نظارہ کریں گے تو انہیں کوئی چیز رب کے دیدار سے زیادہ پیاری نہ دی گئی۴؎پھر حضور نے یہ تلاوت کی،نیک کاروں کے لیے اچھی چیز ہے اور زیادتی ہے۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان نعمتوں کے علاوہ اور نعمت دوں یا تمہارے اعمال کی جزا سے زیادہ عطا کروں جو تمہارے کسی عمل کا بدلہ نہ ہو خاص میری عطا ہو یا تم کو وہ نعمت دوں جو ان سب سے زیادہ ہو سب سے افضل و اعلٰی ہو۔ازیدکی تین شرحیں ہیں۔۲؎یعنی اے مولٰی ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان نعمتوں سے زیادہ ان سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہوگی تو نے ہمارا منہ اجیالا کیا،تو نے ہم کو نعمتوں کے مرکز جنت میں داخل جہاں ہر قسم کی راحتیں ہیں،تو نے ہمیں دوزخ سے بچایا،تیرے نام پر ہماری جانیں فدا،اعلٰی حضرت نے فرمایا۔شعر
جملہ عالم بندۂ اکرام تو صد چو جان من فدائے نام تو
۳
؎وہ حجاب اٹھاوے گا جو طالب و مطلوب کے درمیان آڑ تھا اور وہ حجاب باقی رکھا جاوے گا جو دیدار کا ذریعہ ہے جسے رداء کبریائی کہتے ہیں جیسے سورج پر ہلکے پتلے بادل کا حجاب جو سورج کو دکھا دیتا ہے اگر یہ حجاب نہ ہو تو سورج پر نظر نہیں ٹھہرتی۔۴؎دیداریار کی بہار یا تو مصری عورتوں سے پوچھو جنہوں نے جمال یوسفی کی ایک جھلک سے مست ہو کر اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے یا جناب ابوبکر صدیق سے پوچھو جو جمال محمدی سے مست ہو کر اپنا سب کچھ فدا کر بیٹھے،آج مخلوق کے حسن پر گردنیں کٹ جاتی ہیں تو خالق کا حسن کیسا ہوگا۔۵؎معلوم ہوا کہ زیادہ سے مراد دیدار الٰہی ہے،زیادہ کی تین شرحیں ابھی پچھلی حدیث میں عرض کی گئیں۔یہ نعمت سب سے زیادہ ہے بقیہ نعمتوں میں عدل کا ظہور ہے،اس میں فضل کی جلوہ گری۔اس پوری حدیث کی شرح میں صوفیاء فرماتے ہیں کہ صفات ذات کا پردہ بھی ہیں اور ذات کو دکھانے والی بھی یہاں جسم کو رنگت کے پردہ میں دیکھا جاتا ہے،اگر رنگ نہ ہو تو جسم نظر نہ آے،الله تعالٰی ذات کا حجاب تو اٹھاوے گا مگر صفات کی چلمن میں ذات کا دیدار کرائے گا۔(اشعہ)دنیا میں رب نے ہم کو اپنا دیدار کرایا مگر رخسار یار میں یعنی جمال محمدی میں وہ بے صورت اسی صورت میں نظر آتا ہے،حضرت اعلٰی فاضل گولڑوی نے فرمایا۔شعر
ایہہ صورت ہے بے صورت دی بے صورت ظاہر صورت تھیں
پر کام نہیں بے سوجھت دا کوئی ورلیاں موتی لے تریں

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5656