Main Icon

باب : ماہ رمضان میں قیام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1295

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلّٰى فِيهَا لَيَالِيَ حَتّٰى اجْتَمَعَ عَلَيْهِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهٗ لَيْلَةً وَظَنُّوا أَنَّهٗ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ. فَقَالَ: مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتّٰى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهٖ . فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ ففِي بَيْتِهٖ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن زيد بن ثابت: أن النبي صلى الله عليه وسلم اتخذ حجرة في المسجد من حصير فصلى فيها ليالي حتى اجتمع عليه ناس ثم فقدوا صوته ليلة وظنوا أنه قد نام فجعل بعضهم يتنحنح ليخرج إليهم. فقال: ما زال بكم الذي رأيت من صنيعكم حتى خشيت أن يكتب عليكم ولو كتب عليكم ما قمتم به . فصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء ففي بيته إلا الصلاة المكتوبة) (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے زید ابن ثابت سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا حجرہ بنایا ۱∞؎اس میں چند راتیں نماز پڑھی حتی کہ آپ پر لوگ جمع ہوگئے ۲؎پھر ایک شب لوگوں نے آپ کی آواز نہ پائی سمجھے کہ آپ سو گئے تو بعض لوگ کھنکارنے لگے تاکہ آپ تشریف لے آئیں۳؎حضور نے ارشاد فرمایا میں نے جو تمہارا کام دیکھا وہ تم پر دائمی رہا ۴؎حتی کہ میں نے یہ خوف کیا کہ تم پر یہ نماز فرض کردی جائے گی اور اگر تم پر فرض کردی جاتی تو تم قائم نہ کرسکتے ۵؎اے لوگو اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ مرد کی نماز فرائض کے سوا گھر میں بہتر ہے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ماہ رمضان میں بحالت اعتکاف اس طرح کہ اپنے اردگرد مسجد کے ایک گوشہ میں چٹائی کھڑی کرلی تاکہ خلوت میں خاص عبادتیں کریں۔اس سے معلوم ہوا کہ معتکف مسجد میں چادر ٹاٹ وغیرہ کا عارضی حجرہ اپنے لیئے بناسکتا ہے مگر اتنا وسیع نہ بنائے کہ نمازیوں پر جگہ تنگ ہوجائے۔(مرقاۃ وغیرہ)۲؎حق یہ ہے کہ یہ نماز تراویح تھی اور اس طرح ادا ہوتی تھی کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم اس حجرے کے اندر سے امامت فرماتے اور صحابہ اس حجرے کے باہر آپ کی اقتداء کرتے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ نماز تہجد ہی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے کبھی تراویح پڑھی ہی نہیں،تراویح سنت صحابہ ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے۔۳؎روش کلام سے معلوم ہورہا ہے کہ گزشتہ راتوں میں حضور صلی الله علیہ وسلم نے قرأت اورتکبیریں بآواز بلند ادا کیں جس پر صحابہ نے اقتدا کی آج چونکہ آواز نہ تھی لہذا اقتدا نہ کرسکے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کبھی حضور صلی الله علیہ وسلم کو نماز کے لیئے جگاتے نہ تھے،بے ادبی سمجھتے تھے اور اکیلےحضورصلی الله علیہ وسلم کے بغیر پڑھتے بھی نہ تھے کہ اسے محرومی جانتے تھے۔۴؎یعنی تمہارا نماز کا شوق اور ہمارے باہرتشریف لانے کی رغبت کا اظہار اور اس کے لیئے کھانسناکھکارنا کافی دیر تک رہا ہم سو نہ رہے تھے سن رہے تھے۔۵؎اس فرمان سے چند اہم باتیں معلوم ہوئیں:ایک یہ کہ حضورصلی الله علیہ وسلم جانتے تھے کہ اگر آج جماعت سے تراویح پڑھادی گئی تو تراویح بھی پنجوقتی نمازوں کی طرح فرض ہوجائیں گی۔دوسرے یہ کہ آپ کو یہ بھی خبر تھی کہ اگر تراویح فرض کردی گئی تو میری امت پر بھاری پڑے گی وہ ا س پر پابندی نہ کرسکیں گے۔یہ دونوں چیزیں علوم غیبیہ میں سے ہیں۔تیسرے یہ کہ جیسے حضور صلی الله علیہ وسلم کے ہاں اوروں پر شرعی احکام مرتب ہوجاتے ہیں کہ ہاں فرمادیں تو شے فرض ہوجائے نہ فرمادیں تو فرض نہ ہو جیسا کہ "کتاب الحج" میں آئے گا کہ اگر ہم ہاں کہہ دیتے تو حج ہر سال فرض ہوجاتا،ایسے ہی کبھی آپ کے عمل پر بھی شرعی احکام مرتب ہوجاتے ہیں کہ اگر آج تراویح پڑھا دیتے تو فرض ہوجاتیں نہ پڑھائیں فرض نہ ہوئیں۔یہ ہے میری سرکار کی سلطنت خداداد۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"سلطنت مصطفی"میں دیکھو۔چوتھے یہ کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنی امت پر رحیم و کریم ہیں اس رحمت کی وجہ سے آج تراویح نہ پڑھائیں۔پانچویں یہ کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے کیونکہ صحابہ نے ہمیشہ پڑھیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے ہمیشہ نہ پڑھنے کا عذر بیان فرمادیا،اس عذر سے ہمیشہ نہ پڑھنا تراویح کو غیر مؤکدہ نہ بنادے گا،ہاں تراویح کی جماعت سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔۶؎یہاں عام نوافل کا ذکر ہے ورنہ نماز اشراق، نمازسفر، نمازکسوف، نماز استسقاء وغیرہ نوافل مسجد میں افضل ہیں اور اب تراویح بھی مسجد میں افضل کیونکہ اس کی جماعت سے اب کوئی مانع نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1295