Main Icon

باب : ماہ رمضان میں قیام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1308

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا يَوْمَهَافَإِنَّ اللهَ تَعَالٰى يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهٗ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتّٰى يَطْلَعَ الْفَجْرَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا يومهافإن الله تعالى ينزل فيها لغروب الشمس إلى السماء الدنيا فيقول: ألا من مستغفر فأغفر له؟ ألا مسترزق فأرزقه؟ ألا مبتلى فأعافيه؟ ألا كذا ألا كذا حتى يطلع الفجر". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب پندھوریں شعبان کی رات ہو تو رات میں قیام کرو،دن میں روزہ رکھو ۱∞؎کیونکہ اس رات میں الله تعالٰی سورج ڈوبتے ہی آسمان دنیا کی طرف نزول رحمت فرماتا ہے کہتا ہے کہ کوئی معافی مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں کہ کیا کوئی روزی مانگنے والا ہے کہ میں اسے روزی دوں کیا کوئی بیمار ہے کہ میں اسے آرام دوں کیا کوئی ایسا ہے کیا کوئی ایسا ہے طلوع فجر تک ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎بہتر یہ ہے کہ ساری رات ہی جاگ کر عبادت کرے اور اگر نہ ہوسکے تو اول رات سوئے آخر رات میں تہجد پڑھے اور زیارت قبور کرے اور تین دن روزے رکھے۔تیرھویں،چودھویں،پندرھویں کہ ایک نفلی روزہ رکھنا بہتر نہیں۔تمام افضل راتوں کے اعمال ہماری کتاب "اسلامی زندگی"میں دیکھو۔۲؎یعنی اور راتوں کے آخری حصوں میں یہ کرم نوازی ہوتی ہے مگر اس رات شروع سے ہی۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اس رات عبادتیں کرلیں اور بدنصیب ہیں وہ جو یہ رات آتشبازیوں اور سینماؤں میں گزاریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1308