Main Icon

باب : ماہ رمضان میں قیام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1302

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: أَمَرَ عُمَرُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ فِي رَمَضَانَ بِإِحْدٰى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَكَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ حَتّٰى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَی العَصَا مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّافِي فُرُوعِ الْفَجْرِ.رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن السائب بن يزيد قال: أمر عمر أبي بن كعب وتميما الداري أن يقوما للناس في رمضان بإحدى عشرة ركعة فكان القارئ يقرأ بالمئين حتى كنا نعتمد علی العصا من طول القيام فما كنا ننصرف إلافي فروع الفجر.رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سائب ابن یزیدسے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ابی کعب اورتمیم داری کو حکم دیا کہ لوگوں کو رمضان میں گیارہ رکعتیں پڑھائیں ۱∞؎تو اماممئینسورتیں پڑھتا تھا حتی کہ ہم درازیٔ قیام کی وجہ سے لاٹھی پر ٹیک لگالیتے تھے تو شروع فجر سے پہلے فارغ نہ ہوتے تھے ۲؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎آٹھ رکعتیں تراویح اور تین وتر کبھی ابی ابن کعب نے پڑھائیں اور کبھی تمیم داری یا تراویح ابی ابن کعب نے پڑھائیں اور وتر تمیم داری نے۔اس حدیث سے غیر مقلد آٹھ تراویح پر دلیل پکڑتے ہیں مگر یہ ان کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ وتر ایک رکعت پڑھتے ہیں اور اس میں تین کا ثبوت ہے۔اس حدیث میں چند طرح گفتگو ہے:ایک یہ کہ حدیث صحیح نہیں بلکہ مضطرب ہے،اس کے راوی محمد ابن یوسف ہیں انہوں نے یہاں گیارہ کی روایت کی اورمحمد ابن نصر سے تیرہ کی،عبدالرزاق نے انہیں سے اکیس رکعتیں نقل کیں۔(فتح الباری)ابن عبدالبر نے فرمایا کہ یہ روایت وہم ہے۔صحیح یہ ہے کہ آپ نے لوگوں کو بیس رکعت کا حکم دیا۔(مرقاۃ)دوسرے یہ کہ ہوسکتاہے کہ اولًا آٹھ تراویح پڑھی گئی ہوں،پھر بارہ،پھر بیس یہ دونوں منسوخ ہوں،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔۲؎مئین:وہ سورتیں کہلاتی ہیں جن کی آیات سو سے زیادہ ہوں جیسے سورۂ بقر،آل عمران یعنی آٹھ رکعتوں میں لمبی سورتیں پڑھی جاتی تھی تو ہم تھک کر اپنی بغل میں لاٹھی دباکر ٹیک لگالیتے تھے۔اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس سے معلوم ہوگا کہ لاٹھی پر ٹیک لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے اور شبینہ سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1302