- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1301
باب : ماہ رمضان میں قیام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1301
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَن عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْلَةً إِلَى المَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهٖ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلیٰ قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلیٰ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهٗ لَيْلَةً أُخْرٰى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ. قَالَ عُمَرُ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هٰذِهٖ وَالَّتِي تَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ. يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُوْمُوْنَ أَوَّلَهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عن عبد الرحمن بن عبد القاري قال: خرجت مع عمر بن الخطاب ليلة إلى المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط فقال عمر: إني لو جمعت هؤلاء علی قارئ واحد لكان أمثل ثم عزم فجمعهم علی أبي بن كعب ثم خرجت معه ليلة أخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم. قال عمر: نعمت البدعة هذه والتي تنامون عنها أفضل من التي تقومون. يريد آخر الليل وكان الناس يقومون أوله. رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہےحضرت عبدالرحمان ابن عبدالقاری سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں ایک رات حضرت عمر ابن خطاب کے ساتھ مسجد کو گیا لوگ متفرق طور پر الگ الگ تھے کوئی اکیلے نماز پڑھ رہاتھا اور کسی کے ساتھ کچھ جماعت پڑھ رہی تھی۲؎حضرت عمر نے فرمایا اگر میں ان لوگوں کو ایک قاری پر جمع کردیتا تو بہتر تھا پھر آپ نے ارادہ کر ہی لیا تو انہیں ابی ابن کعب پر جمع کردیا ۳؎فرماتے ہیں کہ پھر میں دوسری رات آپ کے ساتھ گیا تو لوگ اپنے قاری کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر نے فرمایا یہ بڑی اچھی بدعت ہے۴؎اور وہ نماز جس سے تم سورہتے ہو اس سے افضل ہے جس کو تم قائم کرتے ہو یعنی آخر رات کی ۵؎اور لوگ اول رات میں پڑھتے تھے۶؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎قاریعبدالرحمن کی صفت ہے نہ کہعبدکا مضاف الیہ اور یہ قبیلہ قارہ کی طرف منسوب ہے،آپ تابعی ہیں،حضرت عمر فاروق کی طرف سے بیت المال پر عامل تھے۔۲؎یعنی رمضان کی راتوں میں سے ایک ر ات میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو لوگوں کو اس طرح متفرق طور پر تراویح پڑھتے دیکھا کہ کوئی جماعت سے پڑھ رہا ہے کوئی اکیلے۔خیال رہے کہ فرائض کی جماعت اولیٰ کے وقت مسجد میں علیحدہ نماز پڑھنا منع ہے۔تراویح کا یہ حکم نہیں اب بھی پیچھے آنے والے تراویح کی جماعت کے وقت فرائض اور بقیہ تراویح پڑھتے رہتے ہیں۔۳؎اس طرح کہ حضرت ابی ابن کعب کو حکم دیا کہ صحابہ کو تراویح پڑھایا کریں اور صحابہ کو حکم دیا کہ ان کے پیچھے جمع ہو کر تراویح پڑھا کریں۔خیال رہے کہ فرائض کے امام خود عمر فاروق تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر فرائض اور امام پڑھائے اور تراویح دوسرا تو جائز ہے،ہاں جس نے فرض جماعت سے نہ پڑھے ہوں وہ وتر نہیں پڑھا سکتا بلکہ جماعت سے پڑھ بھی نہیں سکتا۔۴؎یعنی تراویح کی بیس رکعت اور باجماعت ہمیشہ اہتمام سے قائم کرنا میری ایجاد ہے اوربدعت حسنہ ہے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نفس تراویح سنتِ رسول الله ہے مگر اس پر ہمیشگی،باجماعت اور اہتمام سے ادا کرنا سنتِ فاروقی ہے یعنی بدعت حسنہ ہے۔د وسرے یہ کہ ایجادات صحابہ شرعًا بدعت ہیں اگرچہ انہیں لغۃً سنت کہا جاتا ہے،اسی لحاظ سے حضورصلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِالرَّاشِدِیْن" لہذا یہ دونوں حدیثیں متعارض نہیں۔تیسرے یہ کہ ہر بدعت بری نہیں،بعض اچھی بھی ہوتی ہیں،مگر فرضی قرآن کریم کے اعراب اور سیپارے حدیثوں کو کتابی شکل میں جمع کرنا بدعت ہے مگر فرض۔چوتھے یہ کہ قیامت تک تراویح کی دھوم دھام عمر فاروق کی یادگار ہے۔۵؎یعنی تم لوگ تراویح تو پڑھ لیتے ہو مگر تہجد چھوڑ دیتے ہو حالانکہ وہ بہت افضل ہے وہ بھی پڑھاکرو یا یہ مطلب ہے کہ میں کسی عذر کی وجہ سے تمہارے ساتھ تراویح میں شریک نہیں ہوتا مگر تہجد پڑھتا ہوں جو اس جماعت سے افضل ہے۔خیال رہے کہ تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔۶؎اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کا عمل تراویح اول رات میں پڑھنے کا تھا۔خیال رہے کہ تراویح سو کر اٹھ کر نہ پڑھے بلکہ سونے سے پہلے پڑھے خواہ آخری رات تک پڑھتا رہے جیسا کہ شبینہ میں ہوتا ہے اور صحابہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ عمل کیا یا پڑھ کر سوئے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1301