Main Icon

باب : ماہ رمضان میں قیام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1296

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: (كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْغَبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُمَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ. فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْاَمْرُ عَلیٰ ذٰلِكَ ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلیٰ ذٰلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلیٰ ذَلِك» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: (كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرغب في قيام رمضان من غير أن يأمرهم فيه بعزيمة فيقول: «من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر لهما تقدم من ذنبه. فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم والامر علی ذلك ثم كان الأمر علی ذلك في خلافة أبي بكر وصدرا من خلافة عمر علی ذلك» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیتے انہیں اس کا تاکیدی حکم نہ فرماتے ۱∞؎فرماتے تھے کہ جو رمضان میں ایمان کے ساتھ طلب اجر کے لیئے قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۲؎نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی اور معاملہ یوں ہی رہا،پھر خلافت صدیقی اور شروع خلافت فاروقی میں یہ معاملہ اسی طرح رہا ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تراویح کو فرض یا واجب نہ قرار دیا لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ یہ سنت مؤکدہ بھی نہ ہوں۔۲؎یعنی تراویح کی پابندی کی برکت سے سارے صغیرہ گناہ معاف ہوجائیں گے کیونکہ گناہ کبیرہ توبہ سے اور حقوق العباد حق والے کے معاف کرنے سے معاف ہوتے ہیں،اس کا ذکر بارہا گزر چکا ۔۳؎کہ لوگ باقاعدہ پابندی سے تراویح کی جماعت نہ کرتے حضور صلی الله علیہ وسلم کا عذر تو معلوم ہوچکا۔صدیق اکبر نے مختصر سے زمانۂ خلافت میں جہادوں سے فراغت نہ پائی،عہدِ فاروقی میں اس کا باقاعدہ انتظام ہو گیاجیسا کہ آیندہ آرہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1296