Main Icon

باب : ماہ رمضان میں قیام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1299

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ " أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ رَزِينٌ: «مِمَّنِ اسْتَحَقَّ النَّارَ» وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي البُخَارِيّ يُضَعِّفُ هٰذَا الحَدِيثَ

وعن عائشة قالت: فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فإذا هو بالبقيع فقال " أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله؟ قلت: يا رسول الله إني ظننت أنك أتيت بعض نسائك فقال: إن الله تعالى ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيغفر لأكثر من عدد شعر غنم كلب " رواه الترمذي وابن ماجه وزاد رزين: «ممن استحق النار» وقال الترمذي: سمعت محمدا يعني البخاري يضعف هذا الحديث

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو گم پایا دیکھا کہ آپ جنت البقیع میں تھے ۱∞؎تو آپ نے فرمایا کیا تم اس سے خوف کرتی تھیں کہ تم پر الله و رسول ظلم کریں گے۲؎میں نے عرض کیا یا رسول الله مجھے خیال ہوا کہ آپ اپنی کسی اور بیوی کے پاس تشریف لے گئے ۳؎تو فرمایا کہ الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے تو قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ کوبخش دیتا ہے۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)رزین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ جو آگ کے مستحق ہو چکے ہیں۵؎ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے محمد امام بخاری کو سنا کہ اس حدیث کو ضعیف کہتے تھے۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک دفعہ شعبان کی پندرہ تاریخ تھی،حضور صلی الله علیہ وسلم کی باری میرے مکان پرتھی اور آپ میرے ہاں تشریف فرما تھے میں رات کو اٹھی تو آپ کا بستر خالی پایا،آپ کو ڈھونڈنے مدینہ کے گلی کوچوں میں نکلی حتی کہ بستی سے باہر گئی تو مدینہ کے قبرستان میں آپ کو ذکر و دعا میں مشغول پایا۔۲؎اس طرح کہ ہم تمہاری باری میں کسی اور بیوی کے ہاں رات کو قیام فرمائیں جو بظاہرحق تلفی اور تم پر ظلم ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم پر ازواج کی باری اور مہر شرعًا واجب نہ تھا مگر آپ نے خود اپنے کرم سے ان کی باریاں مقرر فرمادی تھیں،اب اس کے خلاف کرنا اپنے وعدہ کے خلاف ہوگا اس لیئے اسے ظلم فرمایا،نیز چونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا ہرعمل رب کی طرف سے ہے اس لیئے اس ظلم کو رب کی طرف بھی منسوب کیا لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔۳؎کیونکہ آپ پر باری فرض نہیں اور آپ اس معاملہ میں مختار ہیں،ہاں مجھے غیرت ضرورتھی کہ میری باری اور بیوی نے کیوں لے لی۔اس غیرت میں کئی علماء فرماتے ہیں کہ غیرت عورتوں کی فطری چیز ہے جس پرکوئی پکڑ نہیں۔۴؎یعنی اس رات رب کی رحمت خاص دنیا کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور قبیلہ بنی کلب جن کے پاس بہت بکریاں ہیں ان بکریوں کے جسم پر جس قدر بال ہیں اتنے گناہ گاروں کی مغفرت ہوتی ہے۔اسی سے معلوم ہوا کہ شب برات میں عبادات کرنا،قبرستان جانا سنت ہے۔خیال رہے کہ اس رات کو بھی شبِ قدر کہتے ہیں یعنی تمام سال کے انتظامی امور کے فیصلے کی رات۔قدر بمعنی اندازہ،رب تعالٰی فرماتا ہے: "فِیۡہَایُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍحَکِیۡمٍاور ستائیسویں رمضان کو بھی شبِ قدر کہتے ہیں یعنی تنگی کی رات،قدر بمعنی تنگی،اس میں فرشتے اتنے نازل ہوتے ہیں کہ زمین تنگ ہوجاتی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَاشب برات کے فضائل و اعمال ہماری کتاب"مواعظہ نعیمیہ"اور"اسلامی زندگی"میں دیکھو۔۵؎یعنی مومن گنہگار نہ کہ کفار ان کی بخشش ناممکن اگر کفر پر مرجائیں۔۶؎کوئی حر ج نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1299