Main Icon

باب : ماہ رمضان میں قیام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1305

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَل تَدْرِيْنَ مَا فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ؟» يَعْنِي لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَالَتْ: مَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «فِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ وَفِيهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ». فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالٰى؟ فَقَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالٰى» . ثَلَاثًا. قُلْتُ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَوَضَعَ يَدَهٗ عَلیٰ هَامَتِهٖ فَقَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَتِهٖ» . يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ

وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «هل تدرين ما في هذه الليلة؟» يعني ليلة النصف من شعبان قالت: ما فيها يا رسول الله فقال: «فيها أن يكتب كل مولود من بني آدم في هذه السنة وفيها أن يكتب كل هالك من بني آدم في هذه السنة وفيها ترفع أعمالهم وفيها تنزل أرزاقهم». فقالت: يا رسول الله ما من أحد يدخل الجنة إلا برحمة الله تعالى؟ فقال: «ما من أحد يدخل الجنة إلا برحمة الله تعالى» . ثلاثا. قلت: ولا أنت يا رسول الله ؟ فوضع يده علی هامته فقال: «ولا أنا إلا أن يتغمدني الله برحمته» . يقولها ثلاث مرات. رواه البيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ اس رات یعنی پندھوریں شعبان میں کیا ہے عرض کیا یارسول الله اس میں کیا ہے تو فرمایا اس رات میں اس سال پیدا ہونے والے انسان کے بچے لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس سال مرنے والے سارے انسان لکھ دیئے جاتے ہیں ۱∞؎اور اس رات میں ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور ان کے رزق اتارے جاتے ہیں ۲؎انہوں نے عرض کیا یارسول الله کیا کوئی الله کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائے گا تو آپ نے تین بار فرمایا کہ کوئی الله تعالٰی کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جاسکتا ۳؎میں نے عرض کیا یارسول الله آپ بھی نہیں تو آپ نے اپنا ہاتھ شریف اپنے سر پر رکھا اور فرمایا میں بھی نہیں مگر یہ کہ الله مجھے اپنی رحمت میں چھپالے تین بار فرمایا ۴؎(بیہقی ،دعوات کبیر)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ فرشتے لوح محفوظ سے سال بھر کے ہونے والے واقعات اس رات صحیفوں میں نقل کردیتے ہیں اور ہر صحیفہ ان فرشتوں کے حوالے کرتے ہیں جن کے ذمہ یہ کام ہے۔چنانچہ مرنے والوں کی فہرست ملک الموت کو اور پیدا کرنے والوں کی فہرست بچہ بنانے والے فرشتے کو،رزقوں کی فہرست حضرت میکائیل کو دے دی جاتی ہے اسی لیئے اسے شب قدر کہتے ہیں یعنی اندازے کی رات۔اس سے معلوم ہوا کہ ان فرشتوں کو سال میں پیدا ہونے والے،مرنے والوں لوگوں کا اور گرنے والے بارش کے قطرات اور ملنے والی روزیوں کا پورا علم ہوتا ہے۔یہ علوم خمسہ ہیں جو ان فرشتوں کو دیئے گئے ہیں تو ہمارے حضور صلی الله علیہ وسلم کا کیا پوچھنا۔۲؎یعنی سال بھر کے اعمال جو روزانہ صحیفوں میں لکھے جاتے رہے وہ تمام مع ٹوٹل ایک جگہ لکھ کر رب تعالٰی کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور اگلے سال میں جس کو جتنی روزی ملنے والی ہے،دانے،پھل،پانی کے قطرے،سانسیں وغیرہ سب کا ٹوٹل لگادیا جاتا ہے۔نزول سے مراد اس کا معین کرنا ہے۔(مرقاۃ)اس حدیث میں وہ لوگ غور کریں جو حضور صلی الله علیہ وسلم کے علم غیب کے انکاری ہیں۔لوح محفوظ کے فرشتوں کو ذرہ ذرہ کی خبر ہے۔۳؎خیال رہے کہ نیک اعمال جنت ملنے کا سبب ظاہری ہیں اور الله تعالٰی کی رحمت سبب حقیقی لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"تِلْ الْجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثْتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ"بلکہ نیک اعمال کی توفیق اور ان کی قبولیت الله کی رحمت سے ہے،عمل تخم ہیں اور رب تعالٰی کا فضل بارش اور دھوپ۔۴؎حضورصلی الله علیہ وسلم کا سر پر ہاتھ رکھنا تواضع کے لیئے تھا۔اس میں فرمایا یہ گیا کہ جب میں سید الانبیاء ہونے کے باوجود الله کی رحمت سے بے نیاز نہیں پھر ان سے کون بے نیاز ہوسکتا ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ سب کچھ رب تعالٰی کے لحاظ سے فرمایا،امت کے لحاظ سے حضور صلی الله علیہ وسلم سب کی پناہ ہیں۔سب کو الله کی رحمت حضور صلی الله علیہ وسلم کے ذریعہ ملنی ہے۔حضورصلی الله علیہ وسلم ابر رحمت ہیں جس میں پانی رب کے حکم سے آتا ہے مگر تمام جہان کو پانی اس بادل سے ملتا ہے،اس بادل کے فیض سے سمندر میں موتی ہوتے ہیں اور خشکی میں دانے و پھل وغیرہ۔حضور صلی الله علیہ وسلم کے فیض سے صحابہ کے سینوں میں معرفت کے موتی پیدا ہوئے،عام مسلمانوں کے سینوں میں ایمان و تقویٰ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1305