- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 3033
باب: پائی ہوئی چیز کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3033
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهٗ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا» . قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ» قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِل؟ قَالَ: «مَالك وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتّٰى يَلْقَاهَا رَبُّهَا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَقَالَ: «عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اَعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ»
عن زيد بن خالد قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن اللقطة فقال: «اعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فشأنك بها» . قال: فضالة الغنم؟ قال: «هي لك أو لأخيك أو للذئب» قال: فضالة الإبل؟ قال: «مالك ولها؟ معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها» . (متفق عليه). وفي رواية لمسلم: فقال: «عرفها سنة ثم اعرف وكاءها وعفاصها ثم استنفق بها فإن جاء ربها فأدها إليه»
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے ۱؎فرماتے ہیں ایک شخص رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا فرمایا اس کے برتن اس کے بندھن کا اعلان کرو ۲؎پھر ایک سال تک مشہور کرتے رہو۳؎پھر اگر اس کا مالک آجائے فبہا ورنہ تم اس سے نفع لو عرض کیا۴؎گمی ہوئی بکری فرمایا وہ یا تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی ۵؎عرض کیا گما ہوا اونٹ فرمایا تمہیں اس سے کیا اس کے ساتھ اس کی مشک اس کا بچاؤ ہےپانی پر جائے گا درخت کھائے گا حتی کہ اسے مالک پالے گا ۶؎( مسلم، بخاری)مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا اسے مشہور کرو ایک سال پھر اس کا بندھن اس کا برتن مشہور کرو پھر اس کو خود خرچ کرلو ۷؎پھر اگر اس کا مالک آئے تو اسے ادا کردو ۸؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،پچھتر۷۵سال عمر پائی، ۷۸ھ∞ میں کوفہ میں وفات پائی،امیر معاویہ یا عبدالملک کے زمانہ میں،آخری بات صحیح ہے کیونکہ امیر معاویہ ۶۰ھ∞ میں وفات پاچکے تھے۔(ازاشعہ)
۲؎یعنی یہ کہو کہ جس کی یہ چیز ہو وہ اس کا تھیلہ برتن اور بندھن مال کی تعداد وغیرہ بیان کرے اور ہم سے لے لے، یہ مطلب نہیں کہ تم خود ہی بتادو کہ اس مال کی مقدار یہ ہے برتن وغیرہ ایسا کہ اس صورت میں تو جھوٹے لوگ دعویٰ کریں گے کہ ہمارا مال ہے۔ (مرقات و اشعہ)
۳؎یہ اعلان مساجد اور بازاروں مجمعوں میں وقتًا فوقتًا کیا جائے روزانہ مسلسل کرنا واجب نہیں،امام محمد و شافعی و احمد کے نزدیک ہر قسم کے لقطہ کا اعلان ایک سال کرے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،امام اعظم و مالک کے ہاں معمولی لقطہ کا اعلان کچھ روز کرے،درمیانی کا ایک سال،اعلٰی قیمتی چیز کا تین سال،یہ فرمان عالی درمیان کے لیے ہے،ورنہ حضرت ابی ابن کعب کو تین سال اعلان کا حکم دیا گیا کہ وہاں لقطہ بہت قیمتی تھا لہذا مذہب احناف قوی ہے۔
۴؎جوشخص لقطہ کا برتن بندھن مال کی مقدار دیگر علامات درست بیان کردے تو امام مالک و احمد کے ہاں اسے دے دینا واجب ہے مگر امام اعظم و شافعی کے ہاں اگر پانے والے کا دل گواہی دے کہ یہ سچا ہے تو دے دے،ورنہ اس مدعی سے گواہ طلب کرے گواہی لے کر دے کہ ہوسکتا ہے اس شخص نے مالک مال سے یہ اوصاف سنے ہوں اور سن کر بیان کررہا ہو اگر لقطہ پانے والا فقیر ہو تو بعد مایوسی خود استعمال کرے ورنہ خیرات کردے لیکن اگر بعد میں مالک مل گیا تو اسے چیز کی قیمت دینا ہوگی۔بعض کے نزدیک غنی بھی استعمال کرسکتا ہے۔
۵؎یعنی گمی بکری ضرور پکڑلو ورنہ بھیڑیا کھائے گا نہ تمہیں ملے گی نہ مالک کو۔
۶؎خلاصہ یہ ہے گم شدہ اونٹ نہ پکڑو کہ اس کے ضائع ہونے کا خطرہ نہیں،پانی کا تھیلہ اس کے پیٹ میں ہے۔پاؤں اس کے مضبوط ہیں، درندے سے بھاگ کر جان بچاسکتا ہے،لمبا سفر طے کرسکتا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ جنگل میں گمے ہوئے اونٹ کو نہ پکڑے لیکن بستی میں گمے ہوئے کوپکڑے کہ وہاں اسے لوگ چرالیں گے اور اب تو جنگل و بستی میں جہاں بھی چوری کا خطرہ ہو پکڑے،یہ حکم عرب کے لیے تھا جہاں چوری بالکل ختم ہوچکی تھی۔(ازمرقات)
۷؎بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاںثممحض عطف کے لیے ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ"لہذا دو سال تک مشہور کرنا ضروری ہے۔خلاصہ یہ ہے کہثم اعرفالخ پہلے جملہعَرِّفْھَا سَنۃًکا بیان ہے اور بعض شارحین فرماتے ہیں کہثُمَّترتیب کے لیے ہے۔لقطہ پانے والے کو مناسب یہ ہے کہ پہلے ایک سال تک مشہور کرے،پھر جب اپنے استعمال میں لانے لگے پھر اعلان کرے،یہاں بیان استحباب کے لیے ہے۔
۸؎خرچ کرنے کا حکم اباحت کے لیے ہے اورفادّھاوجوب کے لیے یعنی ایک سال گزرنے پرتمہیں لقطہ خود خرچ کرلینا جائز ہے،پھر اگر خرچ کرلینے کے بعد مالک لے تو اس کی مثل یا قیمت مالک کو ادا کرنا ضروری ہے اور اگر خیرات کردیا پھر بعد کو مالک آیا تو اسے اختیار ہے جو لقطہ پانے والے سے قیمت لے یا فقیر سے جسے خیرات دی گئی۔ (مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3033