Main Icon

باب: پائی ہوئی چیز کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3033

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهٗ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا» . قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ» قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِل؟ قَالَ: «مَالك وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتّٰى يَلْقَاهَا رَبُّهَا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَقَالَ: «عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اَعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ»

عن زيد بن خالد قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن اللقطة فقال: «اعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فشأنك بها» . قال: فضالة الغنم؟ قال: «هي لك أو لأخيك أو للذئب» قال: فضالة الإبل؟ قال: «مالك ولها؟ معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها» . (متفق عليه). وفي رواية لمسلم: فقال: «عرفها سنة ثم اعرف وكاءها وعفاصها ثم استنفق بها فإن جاء ربها فأدها إليه»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے ۱؎فرماتے ہیں ایک شخص رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا فرمایا اس کے برتن اس کے بندھن کا اعلان کرو ۲؎پھر ایک سال تک مشہور کرتے رہو۳؎پھر اگر اس کا مالک آجائے فبہا ورنہ تم اس سے نفع لو عرض کیا۴؎گمی ہوئی بکری فرمایا وہ یا تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی ۵؎عرض کیا گما ہوا اونٹ فرمایا تمہیں اس سے کیا اس کے ساتھ اس کی مشک اس کا بچاؤ ہےپانی پر جائے گا درخت کھائے گا حتی کہ اسے مالک پالے گا ۶؎( مسلم، بخاری)مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا اسے مشہور کرو ایک سال پھر اس کا بندھن اس کا برتن مشہور کرو پھر اس کو خود خرچ کرلو ۷؎پھر اگر اس کا مالک آئے تو اسے ادا کردو ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،پچھتر۷۵سال عمر پائی، ۷۸ھ؁∞ میں کوفہ میں وفات پائی،امیر معاویہ یا عبدالملک کے زمانہ میں،آخری بات صحیح ہے کیونکہ امیر معاویہ ۶۰ھ؁∞ میں وفات پاچکے تھے۔(ازاشعہ)
۲
؎یعنی یہ کہو کہ جس کی یہ چیز ہو وہ اس کا تھیلہ برتن اور بندھن مال کی تعداد وغیرہ بیان کرے اور ہم سے لے لے، یہ مطلب نہیں کہ تم خود ہی بتادو کہ اس مال کی مقدار یہ ہے برتن وغیرہ ایسا کہ اس صورت میں تو جھوٹے لوگ دعویٰ کریں گے کہ ہمارا مال ہے۔ (مرقات و اشعہ)
۳
؎یہ اعلان مساجد اور بازاروں مجمعوں میں وقتًا فوقتًا کیا جائے روزانہ مسلسل کرنا واجب نہیں،امام محمد و شافعی و احمد کے نزدیک ہر قسم کے لقطہ کا اعلان ایک سال کرے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،امام اعظم و مالک کے ہاں معمولی لقطہ کا اعلان کچھ روز کرے،درمیانی کا ایک سال،اعلٰی قیمتی چیز کا تین سال،یہ فرمان عالی درمیان کے لیے ہے،ورنہ حضرت ابی ابن کعب کو تین سال اعلان کا حکم دیا گیا کہ وہاں لقطہ بہت قیمتی تھا لہذا مذہب احناف قوی ہے۔
۴
؎جوشخص لقطہ کا برتن بندھن مال کی مقدار دیگر علامات درست بیان کردے تو امام مالک و احمد کے ہاں اسے دے دینا واجب ہے مگر امام اعظم و شافعی کے ہاں اگر پانے والے کا دل گواہی دے کہ یہ سچا ہے تو دے دے،ورنہ اس مدعی سے گواہ طلب کرے گواہی لے کر دے کہ ہوسکتا ہے اس شخص نے مالک مال سے یہ اوصاف سنے ہوں اور سن کر بیان کررہا ہو اگر لقطہ پانے والا فقیر ہو تو بعد مایوسی خود استعمال کرے ورنہ خیرات کردے لیکن اگر بعد میں مالک مل گیا تو اسے چیز کی قیمت دینا ہوگی۔بعض کے نزدیک غنی بھی استعمال کرسکتا ہے۔
۵
؎یعنی گمی بکری ضرور پکڑلو ورنہ بھیڑیا کھائے گا نہ تمہیں ملے گی نہ مالک کو۔
۶
؎خلاصہ یہ ہے گم شدہ اونٹ نہ پکڑو کہ اس کے ضائع ہونے کا خطرہ نہیں،پانی کا تھیلہ اس کے پیٹ میں ہے۔پاؤں اس کے مضبوط ہیں، درندے سے بھاگ کر جان بچاسکتا ہے،لمبا سفر طے کرسکتا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ جنگل میں گمے ہوئے اونٹ کو نہ پکڑے لیکن بستی میں گمے ہوئے کوپکڑے کہ وہاں اسے لوگ چرالیں گے اور اب تو جنگل و بستی میں جہاں بھی چوری کا خطرہ ہو پکڑے،یہ حکم عرب کے لیے تھا جہاں چوری بالکل ختم ہوچکی تھی۔(ازمرقات)
۷
؎بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاںثممحض عطف کے لیے ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ"لہذا دو سال تک مشہور کرنا ضروری ہے۔خلاصہ یہ ہے کہثم اعرفالخ پہلے جملہعَرِّفْھَا سَنۃًکا بیان ہے اور بعض شارحین فرماتے ہیں کہثُمَّترتیب کے لیے ہے۔لقطہ پانے والے کو مناسب یہ ہے کہ پہلے ایک سال تک مشہور کرے،پھر جب اپنے استعمال میں لانے لگے پھر اعلان کرے،یہاں بیان استحباب کے لیے ہے۔
۸
؎خرچ کرنے کا حکم اباحت کے لیے ہے اورفادّھاوجوب کے لیے یعنی ایک سال گزرنے پرتمہیں لقطہ خود خرچ کرلینا جائز ہے،پھر اگر خرچ کرلینے کے بعد مالک لے تو اس کی مثل یا قیمت مالک کو ادا کرنا ضروری ہے اور اگر خیرات کردیا پھر بعد کو مالک آیا تو اسے اختیار ہے جو لقطہ پانے والے سے قیمت لے یا فقیر سے جسے خیرات دی گئی۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3033