Main Icon

باب: پائی ہوئی چیز کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3040

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهٖ يَلْتَقِطُهٗ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَذُكِرَ حَدِيثُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ: "أَلا لَا يَحِلُّ" فِي "بَابِ الِاعْتِصَامِ".

وعن جابر قال: رخص لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في العصا والسوط والحبل وأشباهه يلتقطه الرجل ينتفع به . رواه أبو داود وذكر حديث المقدام بن معديكرب: "ألا لا يحل" في "باب الاعتصام".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہم کو لاٹھی،کوڑا،رسی اور ان جیسی چیزوں میں اجازت دی کہ کوئی پڑی ہوئی اٹھالے اس سے نفع اٹھائے ۱؎(ابو داؤد)اور حضرت مقدام ابن معدیکرب کی حدیث کہالا لا یحل باب الاعتصاممیں ذکر کردی گئی ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بنا پر علماء فرماتے ہیں کہ معمولی حقیر چیز جو پڑی ہوئی مل جائیں اور مالک انکی پرواہ بھی نہ کرتے ہوں اسے بغیر اعلان بھی استعمال کرنا جائز ہے۔ایک بار حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک کھجور پڑی ہوئی دیکھی تو فرمایا کہ اگر اس کے صدقہ ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم کھالیتے،کھیت اٹھاتے وقت بالیاں رہ جاتی ہیں یا گر جاتی ہیں ایسے ہی ترکاریاں،ایک آدھ گرا ہوا پھل وغیرہ جس کو مالک تلاش بھی نہیں کرتا یہ سب اسی میں داخل ہیں،لیکن اگر بعد میں ان چیزوں کا مالک آکر مطالبہ کرے تو اسے قیمت یامثل دینا پڑے گا۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ لقطہ کو پانے کا خوب استعمال کرتا رہے اور جب مالک مل جائے تو خراب کیا ہوا لقطہ اسے دیدے کہ یہ تو سخت ممنوع ہے۔لقطہ امانت ہوتا ہے اور امانت کا استعمال جائز نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3040