- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 3036
باب: پائی ہوئی چیز کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3036
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ: «مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمَجِنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ» وَذَكَرَ فِي ضَالَّة الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ كَمَا ذَكَرَ غَيْرُهٗ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «مَا كَانَ مِنْهَا فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَالْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهُوَ لَكَ وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ الْعَادِيِّ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَرَوٰى أَبُوْ دَاوُدَ عَنْهُ مِنْ قَوْله: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقْطَةِ إِلَى آخِرِهِ
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه سئل عن الثمر المعلق فقال: «من أصاب منه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شيء عليه ومن خرج بشيء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة ومن سرق منه شيئا بعد أن يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع» وذكر في ضالة الإبل والغنم كما ذكر غيره قال: وسئل عن اللقطة فقال: «ما كان منها في الطريق الميتاء والقرية الجامعة فعرفها سنة فإن جاء صاحبها فادفعها إليه وإن لم يأت فهو لك وما كان في الخراب العادي ففيه وفي الركاز الخمس» . رواه النسائي وروى أبو داود عنه من قوله: وسئل عن اللقطة إلى آخره
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے ۱؎وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ سے لٹکے ہوئے پھل کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا جو ضرورت مند ان میں سے کچھ لے لے کہ اسے ذخیرہ نہ کرے تو اس پر حرج نہیں ۲؎اور جو ان میں سے کچھ لے کر نکل جائے اس پر ڈبل تاوان بھی ہے اور سزا بھی ۳؎اور جو ان میں سے خرمن میں پہنچنے کے بعد چرالے پھر وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تواس پر ہاتھ کٹنا ہے ۴؎اور گمے ہوئے اونٹ اور بکری کے بارے میں وہ ہی ذکر کیا جو دوسروں نے بیان کیا ۵؎اور آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا جو آباد راستہ اور بڑی بستی میں ملے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرو ۶؎اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو اور اگر نہ آئے تو وہ تمہاری ہے ۷؎اور جو پرانے ویرانے میں ہو تو اس میں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے ۸؎(نسائی)اور ابوداؤد نے انہی عمرو ابن شعیب سے روایت یہاں سے آخر تک کیوسئل عن اللقطۃ۔
شرح حدیث
۱∞؎عمرو بن شعیب کے دادا کا نام عبد اللّٰہ عمرو ابن عاص ہے،یہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ عمرو ابن شعیب کی تمام روایات میں تدلیس ہے خبر نہیں کہجدّہٖکی ضمیر کدھر لوٹتی ہےعمروکی طرف یاابیہکی طرف اسلئے ان کی احادیث سے مسائل شرعیہ بغیر تائید دوسری حدیث ثابت نہیں ہوتے۔
۲؎اسکی شرحباب الغصبمیں گزر گئی کہ بھوکا آدمی جو بُھوک سے مر رہا ہو وہ مالک باغ سے بغیر پوچھے پھل توڑ کر بقدر ضرورت کھاسکتا ہے اور پیسہ ملنے پر اس کی قیمت ادا کردے لہذالاشیئسے مرادلا اثمہے یعنی اس پر گناہ نہیں کہ ایسی مجبوری کی حالت میں مردار کھانا بھی درست ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ"۔
۳؎یعنی جو شخص یہ پھل لیکر باغ سے نکلے وہ خائن غاصب ہے،اس پر دو سزائیں ہیں:ڈبل قیمت، قاضی جو چاہے سزا دے۔ امام احمد کے ہاں اسی پر عمل ہے،حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ بھی اپنے زمانہ خلافت میں یہ ہی حکم دیتے تھے،ہمارے ہاں یہ حدیث منسوخ ہے اول اسلام میں تھی کیونکہ مالی جرمانہ اب حرام ہوگیا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوَالَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالبَاطِلِ"ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے نہ کھاؤ اور جرمانہ بھی ناجائز طریقہ ہی ہے کہ ناحق کسی کا مال لینا حرام ہے۔
۴؎چونکہ اس زمانہ میں مدینہ منورہ کے باغات دیواروں سے گھرے ہوئے نہ تھے ویسے ہی کُھلے تھے اس لیے درخت سے پھل توڑنے کو چوری قرار نہ دیا کیونکہ غیرمحفوظ مال کالینا چوری نہیں بلکہ جب پھل خرمن میں پہنچ کر محفوظ ہوجائیں انہیں لینے کا نام چوری ہوا، اگر با غ کے آس پاس چہاردیواری ہوتو پھل توڑنا بھی چوری ہوگا۔ ڈھال کی قیمت احناف کے ہاں دس درہم یعنی پونے تین روپے ہے اس سے کم قیمت مال کی چوری پر ہاتھ نہ کٹے گا۔دوسرے اماموں کے ہاں اس سے کم پر بھی کٹے گا ۔اس کی تحقیقان شاءالله کتاب الحدودمیں ہوگی۔
۵؎یعنی عمرو ابن شعیب کے دادا نے بھی اونٹ وبکری کے لقطہ کے متعلق وہ ہی حدیث بیان کی جو دوسرے راویوں نے کی ہے یعنی گمی بکری کو پکڑ لو گما اونٹ نہ پکڑو۔
۶؎میتاء اتوبا ابتانسے ہے،اصل میںمئتاہمزہ سے تھا،ہمزہیہوگیا یعنی کثرت سے آنے جانے کا راستہ،چوراہے کو بھیمیتاءکہتے ہیں اور جادہ یعنی شاہراہ کو بھی۔
۷؎خلاصہ یہ ہے کہ عام آبادی اور عام راستہ کی پڑی چیز لقطہ ہے کہ غالبًا کسی مسلمان کی ہے اس پر لقطے کے احکام جاری ہوں گے۔
۸؎یعنی پرانا غیر آباد راستہ یا پرانی غیر آباد بستی جو کسی مسلمان کی ملک نہ ہو اور وہاں اسلامی آبادی نہ رہی ہو وہاں کی پڑی چیز۔ غالب یہ ہے کہ پرانے زمانے کے کفار کی ہے تو یہ دفینہ کے حکم میں ہے اور اس پر دفینہ کے احکام جاری ہوں گے کہ پانچواں حصہ حکومت اسلامیہ کا باقی پانے والے کا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3036