Main Icon

باب: پائی ہوئی چیز کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3036

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ: «مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمَجِنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ» وَذَكَرَ فِي ضَالَّة الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ كَمَا ذَكَرَ غَيْرُهٗ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «مَا كَانَ مِنْهَا فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَالْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهُوَ لَكَ وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ الْعَادِيِّ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَرَوٰى أَبُوْ دَاوُدَ عَنْهُ مِنْ قَوْله: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقْطَةِ إِلَى آخِرِهِ

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه سئل عن الثمر المعلق فقال: «من أصاب منه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شيء عليه ومن خرج بشيء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة ومن سرق منه شيئا بعد أن يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع» وذكر في ضالة الإبل والغنم كما ذكر غيره قال: وسئل عن اللقطة فقال: «ما كان منها في الطريق الميتاء والقرية الجامعة فعرفها سنة فإن جاء صاحبها فادفعها إليه وإن لم يأت فهو لك وما كان في الخراب العادي ففيه وفي الركاز الخمس» . رواه النسائي وروى أبو داود عنه من قوله: وسئل عن اللقطة إلى آخره

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے ۱؎وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ سے لٹکے ہوئے پھل کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا جو ضرورت مند ان میں سے کچھ لے لے کہ اسے ذخیرہ نہ کرے تو اس پر حرج نہیں ۲؎اور جو ان میں سے کچھ لے کر نکل جائے اس پر ڈبل تاوان بھی ہے اور سزا بھی ۳؎اور جو ان میں سے خرمن میں پہنچنے کے بعد چرالے پھر وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تواس پر ہاتھ کٹنا ہے ۴؎اور گمے ہوئے اونٹ اور بکری کے بارے میں وہ ہی ذکر کیا جو دوسروں نے بیان کیا ۵؎اور آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا جو آباد راستہ اور بڑی بستی میں ملے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرو ۶؎اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو اور اگر نہ آئے تو وہ تمہاری ہے ۷؎اور جو پرانے ویرانے میں ہو تو اس میں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے ۸؎(نسائی)اور ابوداؤد نے انہی عمرو ابن شعیب سے روایت یہاں سے آخر تک کیوسئل عن اللقطۃ۔

شرح حدیث

۱∞؎عمرو بن شعیب کے دادا کا نام عبد اللّٰہ عمرو ابن عاص ہے،یہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ عمرو ابن شعیب کی تمام روایات میں تدلیس ہے خبر نہیں کہجدّہٖکی ضمیر کدھر لوٹتی ہےعمروکی طرف یاابیہکی طرف اسلئے ان کی احادیث سے مسائل شرعیہ بغیر تائید دوسری حدیث ثابت نہیں ہوتے۔
۲
؎اسکی شرحباب الغصبمیں گزر گئی کہ بھوکا آدمی جو بُھوک سے مر رہا ہو وہ مالک باغ سے بغیر پوچھے پھل توڑ کر بقدر ضرورت کھاسکتا ہے اور پیسہ ملنے پر اس کی قیمت ادا کردے لہذالاشیئسے مرادلا اثمہے یعنی اس پر گناہ نہیں کہ ایسی مجبوری کی حالت میں مردار کھانا بھی درست ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ
۳
؎یعنی جو شخص یہ پھل لیکر باغ سے نکلے وہ خائن غاصب ہے،اس پر دو سزائیں ہیں:ڈبل قیمت، قاضی جو چاہے سزا دے۔ امام احمد کے ہاں اسی پر عمل ہے،حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ بھی اپنے زمانہ خلافت میں یہ ہی حکم دیتے تھے،ہمارے ہاں یہ حدیث منسوخ ہے اول اسلام میں تھی کیونکہ مالی جرمانہ اب حرام ہوگیا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوَالَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالبَاطِلِ"ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے نہ کھاؤ اور جرمانہ بھی ناجائز طریقہ ہی ہے کہ ناحق کسی کا مال لینا حرام ہے۔
۴
؎چونکہ اس زمانہ میں مدینہ منورہ کے باغات دیواروں سے گھرے ہوئے نہ تھے ویسے ہی کُھلے تھے اس لیے درخت سے پھل توڑنے کو چوری قرار نہ دیا کیونکہ غیرمحفوظ مال کالینا چوری نہیں بلکہ جب پھل خرمن میں پہنچ کر محفوظ ہوجائیں انہیں لینے کا نام چوری ہوا، اگر با غ کے آس پاس چہاردیواری ہوتو پھل توڑنا بھی چوری ہوگا۔ ڈھال کی قیمت احناف کے ہاں دس درہم یعنی پونے تین روپے ہے اس سے کم قیمت مال کی چوری پر ہاتھ نہ کٹے گا۔دوسرے اماموں کے ہاں اس سے کم پر بھی کٹے گا ۔اس کی تحقیقان شاءالله کتاب الحدودمیں ہوگی۔
۵
؎یعنی عمرو ابن شعیب کے دادا نے بھی اونٹ وبکری کے لقطہ کے متعلق وہ ہی حدیث بیان کی جو دوسرے راویوں نے کی ہے یعنی گمی بکری کو پکڑ لو گما اونٹ نہ پکڑو۔
۶
؎میتاء اتوبا ابتانسے ہے،اصل میںمئتاہمزہ سے تھا،ہمزہیہوگیا یعنی کثرت سے آنے جانے کا راستہ،چوراہے کو بھیمیتاءکہتے ہیں اور جادہ یعنی شاہراہ کو بھی۔
۷
؎خلاصہ یہ ہے کہ عام آبادی اور عام راستہ کی پڑی چیز لقطہ ہے کہ غالبًا کسی مسلمان کی ہے اس پر لقطے کے احکام جاری ہوں گے۔
۸
؎یعنی پرانا غیر آباد راستہ یا پرانی غیر آباد بستی جو کسی مسلمان کی ملک نہ ہو اور وہاں اسلامی آبادی نہ رہی ہو وہاں کی پڑی چیز۔ غالب یہ ہے کہ پرانے زمانے کے کفار کی ہے تو یہ دفینہ کے حکم میں ہے اور اس پر دفینہ کے احکام جاری ہوں گے کہ پانچواں حصہ حکومت اسلامیہ کا باقی پانے والے کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3036