Main Icon

باب: پائی ہوئی چیز کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3039

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

وعن عياض بن حمار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من وجد لقطة فليشهد ذا عدل أو ذوي عدل ولا يكتم ولا يغيب فإن وجد صاحبها فليردها عليه وإلا فهو مال الله يؤتيه من يشاء» . رواه أحمد وأبو داود والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو پڑی چیز پائے تو ایک یا دو عادلوں کو گواہ بنائے ۲؎نہ اسے چھپائے نہ غائب کرے ۳؎پھر اگر اس کا مالک ملے تو اسے لوٹا دے ورنہ وہاللّٰهکا مال ہے جسے چاہے دے ۴؎(احمد) (ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عیاض ابن حمار ابن ناجیہ ابن عقال ہیں،تمیمی نجاشی ہیں،بصرہ کے رہنے والے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے بڑے پرانے محبوب ساتھی تھے جو ہمیشہ حضور کو خوش کیا کرتے تھے،آپ سے خواجہ حسن بصری وغیرہ نے روایات لیں۔
۲
؎یعنی اٹھاتے وقت ہی کہہ دے کہ گواہ رہنا میں یہ چیز اس لیے اٹھا رہا ہوں کہ مالک کو پہنچادوں یہ حکم استحبابی ہے،بعض کے نزدیک وجوبی،اس میں بڑی حکمتیں ہیں۔اس اعلان کے بعد نفس میں خیانت کا خیال نہ پیدا ہوگا،اگر یہ اچانک فوت ہوجائیں تواس کے ورثاء اسے میراث نہ بناسکیں گے،مالک کچھ زیادتی کمی کا دعوی نہ کرسکے گا کہ میری چیز زیادہ تھی یا اچھی تھی تم نے کم یا خراب کردی۔(لمعات)
۳
؎یعنی نہ تو اٹھاتے وقت ہی جیب میں ڈالنے کی کوشش کرے اور نہ اس کے بعد اسے لاپتہ کردے،بعض نے فرمایا کہکتمسے مراد لقطہ کا چھپانا اور غائب کرنے سے مراد ہے ملے ہوئے جانور کو بدنیتی سے اور جگہ بھیج دینا۔
۴
؎یعنی اگر تلاش کرنے پربھی مالک نہ ملے تو سمجھ لے کہ یہ روزی مجھے رب نے دی ہے۔غریب ہو تو استعمال کرے امیر ہو تو خیرات کردے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3039