Main Icon

باب: پائی ہوئی چیز کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3037

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰه عَنْهُ وَجَدَ دِينَارًا فَأَتٰى بِهٖ فَاطِمَةَ فَسَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هٰذَا رِزْقُ اللّٰهِ» فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذٰلِكَ أَتَتِ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَدِّ الدِّينَارَ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي سعيد الخدري: أن علي بن أبي طالب رضي الله عنه وجد دينارا فأتى به فاطمة فسأل عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «هذا رزق الله» فأكل منه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأكل علي وفاطمة فلما كان بعد ذلك أتت امرأة تنشد الدينار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا علي أد الدينار» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ جناب علی ابن ابی طالب نے ایک اشرفی پڑی پائی تو اسے حضرت فاطمہ کے پاس لائے پھر اس کے متعلق رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھا تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا یہاللّٰهکا دیا رزق ہے ۱؎چنانچہ اس میں سے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بھی کھایا اور حضرت علی و فاطمہ زہرا نے بھی کھایا ۲؎پھر جب کچھ عرصہ گزرا تو ایک عورت اشرفی ڈھونڈتی آئی تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اے علی اشرفی ادا کردو ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎لہذا تم اپنے خرچ میں لاؤ۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ تھوڑے لقطہ کا اعلان کرنا واجب نہیں کیونکہ حضرت علی کو حضور انور نے فورًا خرچ کرلینے کی اجازت دے دی،اعلان کا حکم نہ دیا۔فَاَتٰیاورفَسَألَسے معلوم ہوا کہ لقطہ پاتے ہی بغیر تاخیر خرچ کرلینے کی اجازت دے دی مگر اس استدلال میں دو طرح گفتگو ہے: ایک یہ کہ دینار تھوڑا مال نہیں بلکہ مال کثیر ہے۔دوسرے یہ کہفکبھی تراخی پربھی استعمال ہوتی ہے لہذا کہا جاتا ہےنَكحتُ فَوُلِدَمیں نے نکاح کیا تواللّٰهنے مجھے بچہ دیا،دیکھو بچہ نکاح سے نو ماہ بعد ہوتا ہے مگر یہاںفبولا گیا،رب تعالٰی فرماتاہے: "اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً"اللّٰهتعالٰی آسمان سے پانی اتارتا ہے تو زمین ہری بھری ہوجاتی ہے،دیکھو بارش کے کچھ عرصہ بعد زمین ہری بھری ہوتی ہے نہ کہ فورًا مگر یہاںفارشاد ہوا۔معلوم ہوا کہفکبھی تراخی کے لیے بھی آجاتی ہے ایسے ہی یہاں حضرت علی کو اعلان وغیرہ کے بعد لقطہ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی لہذا حق یہی ہے کہ لقطہ کا اعلان ضروری ہے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ لقطہ وہ بھی کھاسکتا ہے جو صدقہ نہیں کھا سکتا یعنی بنی ہاشم۔بعض حضرات نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ لقطہ غنی بھی کھاسکتا ہے،دیکھو حضرت علی بھی غنی تھے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم تو غنی گر مگر ان دونوں بزرگوں نے لقطہ کھایا لیکن یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ لقطے کے بارے میں غنی سے مراد وہ ہے جو چاندی سونے وغیرہ کا صاحب نصاب ہو،یہ غنا یعنی چاندی سونے کا اجتماع ان دونوں گھروں میں اس وقت تو کیا کبھی بھی نہ ہوا۔حضرت علی مرتضٰی نے اپنے زمانہ خلافت میں اپنی تلوار گروی رکھی اور فرمایا کہ اگر میرے گھر میں ایک وقت کا بھی کھانا ہوتا تو میں تلوار کبھی گروی نہ رکھتا،یہ حضرات انسانی لباس میں فرشتے تھے۔شعر
شیرنر در پوستین برہ آفتابے در لباس ذرہ
حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب دنیا سے پردہ فرمایا تو آپ کی زرہ گروی تھی۔شعر
سلام اس پرکہ جس کے گھرمیں چاندی تھی نہ سوناتھا
سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا
لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں،حق یہی ہے کہ غنی لقطہ نہیں کھاسکتا۔(ازمرقات)
۳
؎غالبًا اس عورت کی صداقت وحی یا دیگر دلائل سے معلوم ہوگئی ہوگی،ورنہ بغیرتحقیقات کسی کو لقطہ کا مالک نہیں مانا جاتا جیساکہ گزشتہ احادیث سے معلوم ہوا لہذا یہ حدیث نہ گزشتہ احادیث کے خلاف ہے نہ حکم فقہی کے مخالف۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3037